شیخ چلّی جنگل میں

Updated: December 25, 2021, 3:09 PM IST | Wakeel Najeeb | Mumbai

شیخ چلّی کے گھر فاقے کی نوبت آجاتی ہے۔ بیوی اُن سے سخت ناراض ہوکر انہیں کام کی تلاش کیلئے روانہ کرتی ہے۔ شیخ چلّی ایک گڈریئے سے کام مانگتے ہیں اور وہ انہیں ایک موقع بھی دیتا ہے مگر.... اس کے بعد کی کہانی اصل ہے، یہ جاننے کیلئے کہ شیخ چلی کی کیا درگت بنتی ہے، اس دلچسپ کہانی کو ضرور پڑھئے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

جب شیخ چلّی کے گھر فاقے پڑنے لگے تو ان کی بیوی ان سے بہت بیزار ہوگئی۔ اپنے میکے سے مانگ مانگ کر کب تک کھلاتی؟ آخر ایک دن اس نے شیخ چلّی کو بہت سخت و سست سنائی۔ پھر بیسن اور روٹیاں بنا کر دیں اور کہا جاؤ کہیں جا کر کام تلاش کرو۔
 شیخ چلّی نہ صرف پرلے درجے کے احمق تھے بلکہ بلا کے کاہل بھی تھے۔ چار و نہ چار سفر پر روانہ ہوئے۔ کیا کرنا تھا کچھ معلوم نہیں اور کہاں جانا تھا، کچھ نہیں پتہ۔ پھر بھی بیوی کا حکم تھا، اس لئے ایک سمت چل پڑے چلتے چلتے گاؤں کی حد کو پار کیا تو کچھ پہاڑیاں ملیں۔ وہاں ایک گڈریا بکریاں بھیڑیں چرا رہا تھا۔ شیخ چلّی چلتے چلتے تھک گئے تھے۔ اس کے پاس جا کر بیٹھ گئے اور پوچھا ’’کیوں بھائی گڈریئے.... کیا ہو رہا ہے؟‘‘
 ’’بس شیخ صاحب ہونا کیا ہے.... بکریاں چرا رہے ہیں۔‘‘ ’’کچھ پیسے وغیرہ ملتے ہیں، یا بس یوں ہی؟‘‘ شیخ جی نے پوچھا۔
 ’’جی اچھی خاصی آمدنی ہو جاتی ہے۔ ہر بکری کا ایک روپیہ ملتا ہے۔ چالیس پچاس روپے مہینے کے مل جاتے ہیں۔ کام کا کام، آرام کا آرام۔‘‘
 ’’بھئی، ہمیں بھی یہ کام سکھا دو۔ ہم بھی یہی کام کریں گے۔‘‘ شیخ جی نے کہا۔
 ’’ٹھیک ہے تو ان بکریوں کو لے کر آپ ذرا آگے کی پہاڑیوں پر جایئے اور چرا کر لایئے۔‘‘
 شیخ صاحب کچھ بکریوں کو ہانکتے ہوئے پہاڑیوں پر چڑھ گئے۔ بکریاں کبھی ادھر بھاگتیں تو کبھی ادھر۔ شیخ چلّی کو پہاڑیوں پر چلنے کی عادت تو تھی نہیں۔ بار بار گر پڑتے۔ ایک بڑی بکری ذرا اوپر چڑھ گئی۔ شیخ چلّی اسے گلّے میں لانے کے لئے تیزی سے اوپر چڑھے۔ بکری نے بھاگنا شروع کر دیا۔ یہ بھی اس کے پیچھے لپکے۔ بکری نے اچانک مڑ کر شیخ صاحب کے سینگ مار دیئے وہ ڈھلوان پر گر پڑے اور گول پتھر کی طرح لڑھکنے لگے۔ کافی دیر تک لڑھکتے رہے اور ایک درخت سے آکر ٹکرائے۔ وہاں ایک بکرا گھاس چر رہا تھا۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ شیخ چلّی کو سینگوں سے رگید دیا۔ شیخ چلّی پھر جو ڈھلوان پر لڑھکے تو سیدھے گڈریئے کے پاس آکر رکے۔ چہرہ اور جسم پر جگہ جگہ خراشیں ٹوپی کہیں تو چپل کہیں۔ گڈریئے کا مارے ہنسی کے برا حال تھا۔
 جب ذرا سکون ہوا تو شیخ چلّی نے کہا، ’’بھائی یہ ہمارے بس کا کام نہیں ہے۔ بکریوں کے سینگ اور لاتیں ہم سے نہ کھائی جائیں گی۔ ہم چلتے ہیں۔‘‘
 گڈریئے نے کہا ’’ٹھیک ہے۔ آپ جایئے یہ آپ کے بس کا کام نہیں۔‘‘
 شیخ چلّی وہاں سے آگے بڑھے اور جنگل میں داخل ہوئے چاروں طرف پیڑ پودے اور درخت قطار در قطار کھڑے ہوئے تھے دھیمی دھیمی ہوا بہہ رہی تھی موسم بڑا ہی خوشگوار تھا۔ اچانک شیخ چلّی کو بھوک کا احساس ہوا۔ وہ ایک درخت کے نیچےتوشہ کھول کر بیٹھ گئے ابھی انہوں نے دو چار لقمے ہی کھائے تھے کہ جھاڑیوں میں کچھ سرسراہٹ سی محسوس ہوئی۔ ان کے کان کھڑے ہوگئے۔ خوف محسوس ہوا کہ کوئی جنگلی جانور نہ ہو۔ ہوشیاری سے اٹھے اور سرسراہٹ کی سمت دیکھا۔ انہیں ایک عجیب منظر دکھائی دیا۔ انہوں نے دیکھا کہ دو آدمی ایک پھاؤڑے سے زمین میں گڑھا کھود رہے ہیں۔ پاس میں ہی ایک پیتل کا برتن رکھا ہوا ہے جس کا منہ اچھی طرح بند کیا ہوا ہے شیخ چلّی دھیرے دھیرے چلتے ہوئے ایک درخت کی آڑ میں ہوگئے۔ دونوں آدمیوں نے اچھا خاصا گہرا گڑھا کھود لیا اور پیتل کا برتن گڑھے میں رکھ کر اسے مٹی سے اچھی طرح بند کر دیا۔ اوپر ایک پتھر نشان کے طور پر رکھ دیا۔
 اس کام سے فارغ ہو کر دونوں نے ادھر اُدھر دیکھا پھر ایک نے دوسرے سے کہا، ’’دو روز بعد ہم اس جگہ سے گگرا نکال کر لے جائیں گے اور زیورات بیچ کر آدھا آدھا بانٹ لیں گے تب تک گاؤں میں تلاشی کا کام بھی ختم ہو جائے گا۔‘‘ دوسرے نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ پھر دونوں وہاں سے چلے گئے۔ لیکن جلدی جلدی میں وہ پھاؤڑا لے جانا بھول گئے۔
 جب وہ دونوں کافی دور نکل گئے تو شیخ چلّی نے اسی پھاؤڑے سے گڑھے کو کھود کر وہ گگرا باہر نکال لیا۔ اسے کھول کر دیکھا تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں پیتل کے گگرے میں طرح طرح کے سونے چاندی کے زیورات بھرے ہوئے تھے۔ وہ واپس گھر کی طرف روانہ ہوئے راستے میں شیخ چلّی کو وہی گڈریا ملا۔ اس نے دیکھا کہ شیخ چلّی کے سر پر گگرا ہے اور وہ گھر کی طرف جا رہے ہیں۔ خوشی ان کے چہرے سے ٹپک رہی تھی۔ گڈریا ان کے پاس پہنچا اور کہا ’’شیخ جی، کیا بات ہے؟ آپ تو شہر کمائی کے لئے جا رہے تھے۔ اب واپس گاؤں کی طرف کیوں جا رہے ہیں؟ یہ گگرا کہاں سے ملا؟‘‘
 شیخ چلّی نے ذرا شیخی بگھارتے ہوئے کہا، ’’ارے بھائی! اب ہم کو محنت مزدوری کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہمیں جنگل میں بہت دولت مل گئی ہے اب تو ہم آرام سے رہیں گے۔ کھائیں گے پئیں گے اور موج کریں گے۔‘‘
 ’’بتایئے تو بھلا، کیا ہے گگرے میں؟‘‘ گڈریئے نے پوچھا۔
 شیخ چلّی نے گگرا سر سے اتارا اور اس کو منہ کھول کر گڈریئے کو دکھا دیا۔ پورا گگرا زیورات سے بھرا ہوا تھا۔ گڈریئے کے دل میں لالچ پیدا ہوگئی اس نے شیخ چلّی سے کہا ’’آپ ابھی اس کو لے کر گاؤں نہ جایئے وہاں ہر گھر میں تلاشی ہو رہی ہے۔ راجہ کے گھر چوری ہوگئی ہے۔ اگر چوری کا مال آپ کے گھر سے نکلا تو آپ کو جیل میں بند کر دیا جائے گا۔‘‘ شیخ چلّی گھبرا گئے اور کہا ’’تو پھر مَیں کیا کروں؟‘‘
 گڈریئے نے کہا ’’ایسا کیجئے، یہاں پر ایک کنواں ہے جس میں بہت تھوڑا پانی ہے ہم جا کر اس گگرے کو اس میں چھپا دیتے ہیں۔ جب گاؤں میں تلاشی کا کام ختم ہو جائے گا تو ہم اسے نکال لیں گے۔ پھر آپ کو پوری دولت مل جائے گی۔‘‘
 شیخ چلّی اس کی بات میں آگئے اور اس کے ساتھ کنویں کی طرف چلے جب کنویں پر پہنچے تو شیخ چلّی نے سر سے گگرا اتارا اور کنویں کی منڈیر پر رکھ دیا اور کنویں میں جھانک کر دیکھنے لگے کہ کتنا پانی ہے۔ اسی وقت گڈریا پیچھے سے آیا شیخ چلّی کی دونوں ٹانگیں پکڑ کر اٹھا لیں اور انہیں کنویں میں پھینک دیا۔ شیخ چلّی چلّاتے رہے ’’ارے! مجھے بچاؤ.... مَیں مر گیا میرا مال لے کر بھاگ گیا۔ مجھے بچاؤ، مجھے بچاؤ۔‘‘
 کنویں میں زیادہ پانی نہیں تھا۔ شیخ چلّی پانی میں کھڑے ہوگئے اور چلاتے رہے۔ گڈریئے نے گگرا اٹھایا اور بھاگ گیا۔
 شیخ چلّی کو اس حالت میں آدھا گھنٹہ گزر گیا۔ اتنے میں دو آدمی کنویں میں جھانکتے دکھائی دیئے۔ شیخ چلّی نے پھر چلّانا شروع کیا، ’’ارے بھائی مجھے بچاؤ.... مجھے باہر نکالو۔‘‘
 ان دونوں آدمیوں نے رسّی ڈال کر شیخ چلّی کو باہر نکالا۔ جب شیخ چلّی باہر نکلے تو انہوں نے ان دونوں آدمیوں کو پہچان لیا۔ یہ وہی دونوں تھے جنہوں نے جنگل میں گگرا گاڑا تھا۔ شیخ چلّی نے سمجھا کہ مَیں گگرا لے کر آیا تو ان دونوں نے مجھے دیکھ لیا ہوگا اور مجھے تلاش کرتے کرتے یہاں آگئے ہوں گے یہ بات جیسے ہی ان کے دماغ میں آئی وہ ان کے پیروں پر گر پڑے اور کہا ’’بھائی مجھے معاف کر دو.... تم نے جو گگرا چھپایا تھا، مَیں نے ہی اسے نکالا تھا اور گڈریا وہ گگرا مجھ سے چھین کر بھاگ گیا۔‘‘
 ان دونوں نے کہا، ’’اچھا تو گگرا وہاں سے تم لے کر بھاگے ہو، ہم اپنا پھاؤڑا وہاں بھول گئے تھے۔ پھاؤڑا لینے آئے تو دیکھا کہ گگرا غائب ہے اچھا ہوا تم مل گئے۔ بتاؤ گگرا کہاں ہے؟‘‘
 شیخ چلّی نے گڑگڑاتے ہوئے کہا ’’گڈریئے نے مجھے کنویں میں گرا دیا اور گگرا لے کر گاؤں کی طرف بھاگ گیا ہے۔‘‘ پہلے تو انہوں نے شیخ چلّی کو خوب مارا، پھر انہیں رسّی سے باندھ کر ایک پیڑ سے اُلٹا لٹکا دیا۔ شیخ چلّی چلّاتے رہے لیکن ان کو کوئی رحم نہیں آیا۔
 شیخ چلّی اسی حالت میں تقریباً آدھا گھنٹہ لٹکے رہے تب چار سپاہی وہاں آئے۔ انہوں نے شیخ چلّی کی رسیاں کھول کر آزاد کیا۔ پھر شیخ چلّی سے پوچھا، ’’تمہیں یہاں کس نے الٹا لٹکا دیا تھا؟‘‘ شیخ چلّی نے پوری داستان انہیں کہہ سنائی۔
 سپاہی شیخ چلّی کو لے کر گاؤں کی طرف روانہ ہوئے گاؤں پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ دو آدمی گڈریئے کی تلاش میں آئے تھے اور وہ اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ندی کی طرف گئے ہیں۔
 سپاہی اور شیخ چلّی ندی کی طرف گئے۔ ندی پر جہاں پل بنا ہوا تھا، وہاں گڈریئے اور چوروں میں لڑائی ہو رہی تھی۔ دونوں چور گڈریئے سے گگرا چھیننے کی کوشش کر رہے تھے۔ سپاہی تیزی سے ان کی طرف دوڑے۔ اسی وقت چوروں نے گڈریئے سے گگرا چھینا اور پل کی طرف دوڑ پڑے۔ پل پر دوڑنے کے دوران ایک چور کا پیر پھسل گیا اور وہ گر پڑا اس کے ہاتھ میں گگرا تھا۔ گگرا بھی پل پر گرا اور لڑھکتا ہوا ندی میں گر گیا۔
 چوروں نے دیکھا کہ گگرا ندی میں گر گیا تو وہ سرپٹ بھاگے.... سپاہیوں نے گگرا پانے کے لئے ندی میں چھلانگ لگا دی۔ کافی تلاش کیا انہیں گگرا کہیں نہیں ملا۔ تمام سپاہی ندی سے نکل کر باہر آگئے۔ نہ تو گگرا ان کے ہاتھ لگا اور نہ چور گرفتار ہوئے۔ سپاہیوں نے گڈریئے اور شیخ چلّی کو گرفتار کیا اور راجہ کے دربار میں لے گئے اور پوری کہانی کہہ سنائی۔
 گڈریئے اور شیخ چلّی نے اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے کے لئے بہت جھوٹ بولا، لیکن ان کی ایک نہ چلی راجہ نے حکم دیا کہ دونوں کو سر مونڈ کر منہ پر کالک لگا دی جائے اور پورے گاؤں میں گدھے بٹھا کر گھمایا جائے، کیونکہ انہوں نے ایک طرح سے چوری کا مال چرانے کی کوشش کی تھی۔ دن بھر انہیں گدھے پر بٹھا کر گاؤں بھر میں گھمایا گیا اور شام کو چھوڑ دیا گیا۔ شیخ چلّی گھر واپس آئے۔ ان کی بیوی نے جیسے ہی انہیں دیکھا خوب باتیں سنائی اور گھر سے نکال کر دروازہ بند کر لیا۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK