• Sat, 14 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ میں کم و بیش ۸؍ ہزار لاشیں اب بھی ملبے میں دبی ہیں: حکام

Updated: February 14, 2026, 10:15 PM IST | Gaza

غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں کم و بیش ۸؍ ہزار لاشیں اب بھی ملبے میں دبی ہیں،جبکہ سول ڈیفنس کی ٹیموں کی انتہائی مشکل حالات اور محدود وسائل کی وجہ سے بہت سے تباہ شدہ مقامات تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔

Current situation in Gaza. Photo: X
غزہ کی تباہی کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس

غزہ کے شہری دفاع (سول ڈیفنس) کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ جاری تلاش اور امدادی کارروائیوں کے باوجود، غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے تقریباً ۸؍ ہزار لاشیں دبی ہوئی ہیں۔جمعرات کو جاری کیے گئے ایک پریس بیان میں، محمود بصل نے وضاحت کی کہ سول ڈیفنس کی ٹیمیں انتہائی مشکل حالات اور محدود وسائل کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ بہت سے تباہ شدہ مقامات تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔انہوں نے مزید کہا کہ۳؍ ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں، اور ان کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات نہیں ہیں کہ وہ زندہ ہیں، شہید ہو چکے ہیں یا  اسرائیلی حراست میں ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ طویل عرصہ گزر جانے اور بھاری مشینری اور ضروری تکنیکی آلات کی شدید قلت کے باعث ملبہ ہٹانے کے کام میں مشکلات کے دوران سینکڑوں لاشیں گل سڑ چکی ہیں یا ان کی شناخت ناممکن ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ پر جیوری ممبران کے ”حیران کن“ تبصرے: اروندھتی رائے نے برلن فلم فیسٹیول کا بائیکاٹ کیا

تاہم  اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے مطابق، غزہ کم از کم۶۱؍ ملین ٹن ملبے تلے دبا ہوا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ ممکنہ طور پر خطرناک ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر احتیاط سے کام نہ لیا گیا تو تقریباً۱۵؍ فیصد ملبہ ایسبیسٹوس، صنعتی کوڑا یا بھاری دھاتوں سے آلودہ ہونے کا شدید خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ بعد ازاں ایجنسی نے کہا کہ تقریباً دو تہائی تباہی اسرائیلی جارحیت کےاولین پانچ مہینوں میں ہوئی، جبکہ حالیہ جنگ بندی تک کے مہینوں میں مزید نقصان جاری رہا۔یو این ڈی پی نے کہا کہ ملبہ ہٹانے کا کام سات سال تک جاری رہ سکتا ہے اور تعمیر نو کی وسیع تر کوششوں کے تحت اس کے لیے خاطر خواہ مالی اعانت درکار ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK