پنڈت نہرو،اورنگ زیب، نپولین، لکشمی بائی؛ ان کا بچپن ایسا تھا

Updated: November 13, 2021, 1:58 PM IST | Mrs. Iftikhar Begum Siddiqui

جواہر لعل نہرو کا شمار دنیا کے عظیم ترین انسانوں میں ہوتا ہے۔ وہ بڑے بہادر، رحم دل اور فیاض تھے۔ ملک آزاد ہوجانے کے بعد وہ ہندوستان کے پہلے وزیراعظم بنے اور ۱۷؍ سال تک وزیراعظم رہے۔

Jawaharlal Nehru.Picture:INN
جواہر لعل نہرو ۔ تصویر: آئی این این

والد کا ڈر
جواہر لعل نہرو کا شمار دنیا کے عظیم ترین انسانوں میں ہوتا ہے۔ وہ بڑے بہادر، رحم دل اور فیاض تھے۔ ملک آزاد ہوجانے کے بعد وہ ہندوستان کے پہلے وزیراعظم بنے اور ۱۷؍ سال تک وزیراعظم رہے۔ بچپن میں وہ اپنے والد سے کافی ڈرتے تھے۔ ایک مرتبہ اسی ڈر کی وجہ سے انہوں نے جھوٹ کہہ دیا تھا۔ اُن دنوں وہ کوئی پانچ چھ سال کے ہوں گے۔ اپنے والد کے دفتر کے کمرہ میں جاکر انہوں نے دیکھا کہ میز پر دو فاؤنٹین پین رکھے ہیں۔ ایک ہی جگہ دو فاؤنٹین پین دیکھ کر اُن کا جی للچا اُٹھا۔ سوچا کہ والد صاحب دونوں قلموں کو ایک ساتھ تو کام میں لا نہیں سکتے۔ ایک اُٹھا کر اپنی جیب میں ڈال دیا۔ کچہری سے اُن کے والد نے آکر دیکھا تو ایک قلم غائب! کچھ نہ پوچھو، سارا گھر تلاش کیا جانے لگا۔ سب سے پوچھ گچھ ہوئی۔ انہوں نے جواہر لال سے پوچھا ’’ننھا! کیا تم نے میرا قلم لیا ہے؟‘‘ ڈر کے سبب انہوں نے جواب دیا ’’نہیں، پتا جی!‘‘ قلم کی تلاش جاری رہی۔ قلم مل گیا اور جواہر لال کا قصور ثابت ہوا۔ اب تو پنڈت موتی لال جی کے غصہ کی کوئی حد نہ تھی۔ جی بھر کے بیٹے کی مرمت کی۔ مار کھا کر بیچارے اس دن ماں کی گود میں لیٹے رہے۔ سارے جسم میں مار کی وجہ سے تکلیف تھی۔ کئی دن تک ماں دوا وغیرہ ملتی رہیں۔ آئندہ انہوں نے ایسی حرکت سے توبہ کرلی۔

خطروں کا مقابلہ
سب ہی جانتے ہیں کہ دیس آزاد ہونے سے پہلے یہاں انگریزوں کی حکومت تھی اور انگریزوں سے پہلے مغلوں کا راج تھا۔ مغل بادشاہوں میں کئی نام بہت مشہور ہوئے ہیں جیسے اکبر، جہانگیر، شاہجہاں اور اورنگ زیب۔ اورنگ زیب اپنی بہادری، درویشانہ انداز اور مذہبیت کے لئے بہت مشہور ہے وہ شروع ہی سے دُھن کا پکّا اور بہادر تھا۔ اس کے بچپن کا ایک واقعہ مشہور ہے۔ ایک بار آگرہ میں شاہجہاں کے دربار میں ہاتھیوں کا تماشہ ہو رہا تھا۔ بادشاہ اور اس کے گھر کے لوگ اوپر جھروکہ میں بیٹھے تماشا دیکھ رہے تھے اور سارے امیر و شہزادے جمع تھے۔ اتنے میں کیا ہوا کہ ان میں سے ایک ہاتھی مست ہوگیا۔ تمہیں پتہ ہے کہ مست ہاتھی کتنا خطرناک ہوتا ہے۔ وہ تو جو بھی سامنے آئے اسے چوہے کی طرح کچل کر رکھ دیتا ہے اور اپنے مالک کو بھی نہیں چھوڑتا۔ بس پھر کیا تھا۔ سارے لوگوں میں چیخ پکار اور بھگڈر مچ گئی۔ کوئی کہیں چھپا تو کوئی کسی طرف بھاگا۔ اورنگ زیب اس وقت پندرہ برس کا بھی نہیں تھا۔ مگر وہ ہاتھی سے نہ تو ڈرا نہ کسی طرف چھپنے کو بھاگا۔ جھٹ تلوار کھینچ کر اوپر سے کود کر ہاتھی کی پیٹھ پر سوار ہوگیااو ر تلوار کے ایسے بھرپور وار کئے کہ ہاتھی کی سونڈ کٹ کر الگ جا پڑی۔ سونڈ کٹ جائے تو پھر ہاتھی بچ نہیں سکتا۔ چنانچہ ذرا دیر میں ہی وہ ہاتھی چیخ کر ڈھیر ہوگیا۔ سارے دربار میں واہ واہ مچ گئی۔ شاہجہاں نے شہزادے کو بلا کر شاباشی اور انعام دیا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’بیٹا! تم نے اپنی جان کو بڑے خطرے میں ڈال دیا تھا۔ اگر وہ پاگل ہاتھی تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیتا تو کیا ہوتا۔‘‘ اورنگ زیب نے بڑی بہادری سے جواب دیا ’’ابّا جان! مغل شہزادے خطروں سے بھاگا نہیں کرتے بلکہ ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔‘‘ اورنگ زیب بادشاہ ہونے کے بعد بھی ساری زندگی خطروں سے مقابلہ کرتا رہا اور بڑی سے بڑی مشکل میں بھی ہمت نہ ہاری۔
احسان مندی
بہت پہلے کی بات ہے فرانس کے قریب جزیرہ کارسیکا میں ایک بچّہ اسکول میں پڑھتا تھا۔ وہ بڑا محنتی اور ذہین تھا مگر ساتھ ہی بڑا غریب بھی۔ روزانہ جب اسکول میں انٹرول ہوتا تو سب بچّے قریب کی ایک دکان سے پھل، ٹافیاں، بسکٹ اور طرح طرح کی چیزیں خریدتے۔ مگر یہ بچّہ سب سے الگ بیٹھا کتابیں پڑھتا رہتا کیونکہ اس کی جیب میں کوئی پیسہ نہ ہوتا تھا۔ ایک روز وہ بھی سب بچّوں کے ساتھ باہر نکل آیا۔ مگر دکان سے الگ کھڑا رہا۔ یہ دکان ایک نیک دل بوڑھی عورت کی تھی۔ اسے اس بچّے پر ترس آگیا اور اس نے اسے بلا کر پیار سے کہا ’’کیوں بیٹے تم نے کچھ نہیں لیا؟‘‘ بچّے نے جواب دیا ’’میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔‘‘ بوڑھی عورت نے کہا ’’اچھا تمہیں جو چاہئے لے لو پیسہ کی ضرورت نہیں۔‘‘ بچّے نے بے نیازی سے کہا ’’مَیں فقیر نہیں ہوں، مفت میں کسی کی چیز نہیں لیتا۔‘‘ اب تو بڑھیا کو اس پر اور پیار آیا۔ اس نے کہا ’’اچھا ایسا کرو ابھی تم جو چیز چاہو لے لو۔ جب تم بڑے ہو جاؤ اور کمانے لگو تو میرے پیسے دے دینا۔‘‘ بچّہ اس بات پر راضی ہوگیا۔ پھر ایسا ہوتا کہ جب بھی وہ اُدھر سے جاتا تو بڑھیا اسے بلا کر کچھ نہ کچھ دے دیتی۔ بہت سال گزر گئے۔ بچّہ پڑھ کر اسکول سے چلا گیا۔ بڑھیا بھی اس کے بارے میں بھول گئی۔ ایک دن لوگوں نے دیکھا کہ فرانس کا سردار نپولین بونا پارٹ اپنے کچھ سپاہیوں کے ساتھ بڑھیا کی دکان کی طرف آرہا ہے۔ لوگ سمجھے بڑھیا نے ضرور کوئی جرم کیا ہے جس کی سزا دینے یہ لوگ آئے ہیں۔ بڑھیا بھی ڈر سے کانپنے لگی۔ تب ہی وہ سردار آگے بڑھ کر بولا ’’ماں! تم مجھے بھول گئیں۔ مَیں ہی وہ غریب بچّہ ہوں جس کو تم اپنی دکان سے چیزیں کھانے کو دیا کرتی تھیں۔ آج مَیں تمہارا وہ قرض ادا کرنے آیا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے بڑھیا کو ڈھیر سے روپے دیئے۔ اس کی دکان اچھی سی بنوا دی اور اس کے کام کرنے کو ایک نوکر رکھ دیا۔
خوب لڑی مردانی
رانی جھانسی کے بارے میں زیادہ بتانے کی ضرورت نہیں کیونکہ سب ہی بچّے اس کے متعلق اچھی طرح جانتے ہیں اور اس کے بارے میں یہ گانا بھی سب نے ہی سنا ہوگا کہ خوب لڑی مردانی وہ تو جھانسی والی رانی تھی وہ راجپوتانہ کے ایک فوجی سپاہی کی بیٹی تھی جو نانا صاحب کے باپ کی فوج میں ملازم تھا۔ اس کا بچپن کا نام منو تھا۔ منو شروع سے ہی دوسری لڑکیوں کی طرح نہ تو گڑیوں سے کھیلتی اور نہ اسے رنگین کپڑوں اور زیوروں کا کوئی شوق تھا۔ نانا صاحب نے اسے اپنی بہن بنایا ہوا تھا اور وہ انہی کے ساتھ گھوڑے کی سواری، تیر و تلوار چلانا اور ایسے ہی بہادری کے کھیل کھیلا کرتی تھی۔ ایک بار نانا صاحب اپنے باپ کے ساتھ ہاتھی پر بیٹھ کر منو کے گھر کے سامنے سے گزرے۔ بس پھر کیا تھا منو بھی اپنے باپ کے سر ہوگئی کہ مجھے بھی ہاتھی چاہئے۔ باپ نے سمجھایا بیٹی وہ لوگ تو راجا ہیں ہم معمولی آدمی ہیں ہاتھی کہاں خرید سکتے ہیں۔ منو اس پر عام بچیوں کی طرح روئی یا مچلی نہیں۔ اس نے بڑے یقین سے کہا ’’اچھا تم مت خریدو۔ مَیں بڑی ہو کر دس ہاتھی خرید لوں گی۔‘‘ باپ اس کی بچپن کی اس بات پر ہنس پڑا۔ مگر منو نے جو کہا تھا آخر سچ کر دکھایا۔ اس نے بڑے ہو کر لڑائی کے سارے گُر سیکھے۔ انگریزوں کے مقابلے میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے۔ اس کی بہادری اور خوبصورتی کی شہرت دور دور پھیل گئی اور بڑے بڑے راجا اس سے شادی کے خواہشمند ہوئے آخر اس نے جھانسی کے راجا سے شادی کی اور سچ مچ دس کیا سیکڑوں ہاتھیوں کی مالک بن گئی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK