کہتے ہیں کہ حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اگر انسان میں ہمت اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہو تو اسے اپنی منزل تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 3:58 PM IST | Inquilab News Network/Agency | Mumbai
کہتے ہیں کہ حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اگر انسان میں ہمت اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہو تو اسے اپنی منزل تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
کہتے ہیں کہ حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اگر انسان میں ہمت اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہو تو اسے اپنی منزل تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ممبئی کی ایک جھوپڑی میں انتہائی سادہ حالات میں پرورش پانے والے ابھیشیک شرما کی کہانی اس کی ایک مثال ہے۔ابھیشیک کے اسٹیل کمپنی میں مزدوری کرتے ہیں۔ بیٹے ابھیشیک نے تمام مالی مشکلات کے باوجود’جے ای ای ایڈوانسڈ‘ جیسے مشکل امتحان میں کامیابی حاصل کی اور آل انڈیا رینک۲۴۵۶؍ حاصل کی۔ ان کی اوبی سی-این سی ایل رینک۴۱۵؍ رہی۔ آج ابھیشیک آئی آئی ٹی دہلی میں بی ٹیک کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، لیکن یہاں تک پہنچنے کے سفرمیں انہیں کسی بڑے کوچنگ ادارے، مہنگے وسائل یا سہولیات کی مدد حاصل نہیں رہی۔ اسکے برعکس، انہوں نے محدود وسائل کے درمیان تعلیم حاصل کی اور اپنے خواب کو پورا کرنے کیلئے مسلسل محنت کی۔
یہ بھی پڑھئے:کیا کیمپس آفر ملازمت کاضامن ہے؟
ابھیشیک شرما کا خاندان ممبئی کے لوکمانیہ تلک نگر کی جھوپڑی میں رہتا تھا۔ خاندان کی مالی حالت مضبوط نہیں تھی۔ ان کے والد ایک اسٹیل فیبریکیشن کمپنی میں مزدور کے طور پر کام کرتے تھے اور اسی آمدنی سے گھر کا خرچ چلتا تھا۔ جس گھر میں خاندان رہتا تھا، اس کا کرایہ تقریباً۳؍ ہزار روپے ماہانہ تھا۔ محدود آمدنی میں گھر چلانا خود ایک چیلنج تھا، لیکن ان حالات کے باوجود ابھیشیک نے تعلیم کو اپنی ترجیح بنائے رکھا۔ جہاں کئی طلبہ کے پاس پڑھائی کے لیے بہتر کمرے، تیز انٹرنیٹ، مہنگے گیجٹس اور کوچنگ کی سہولیات ہوتی ہیں، وہیں ابھیشیک کے سامنے بنیادی وسائل کی بھی کمی تھی۔ پھر بھی انہوں نے حالات کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا۔ ابھیشیک کی جدوجہد کی کہانی کا ایک اہم حصہ ان کی انٹرنیٹ سہولت سے جڑا ہوا ہے۔ پڑھائی کے دوران جب ان کے موبائل کا ڈیٹا ختم ہو جاتا تھا تو آن لائن تعلیم جاری رکھنے کے لیے وہ گھر کی چھت پر جاتے تھے اور پڑوسی کا وائی فائی استعمال کرتے تھے۔
مسلسل محنت کا نتیجہ انہیں جے ای ای ایڈوانسڈ میں ملا، جہاں ابھیشیک شرما نے آل انڈیا رینک ۲۴۵۶؍حاصل کی، جبکہ ان کی او بی سی این سی ایل رینک۴۱۵؍ رہی۔ اس کامیابی کے بعد ان کیلئے ملک کے معروف انجینئرنگ اداروں کے دروازے کھل گئے۔ بعد ازاں انہوں نےآئی آئی ٹی دہلی میں بی ٹیک میں داخلہ لیا اور اب وہ وہاں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیںجھوپڑی سے نکل کرآئی آئی ٹی دہلی تک پہنچنے والے ابھیشیک شرما کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ کسی طالب علم کی شروعات چاہے کتنی ہی سادہ کیوں نہ ہو، وہ اپنی محنت سے اپنی ایک نئی شناخت بنا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آپ کا ذوقِ انتخاب ہی گھر کو خوبصورت بناتا ہے
ابھیشیک کا جدوجہد بھرا سفر یہ بھی بتاتا ہے کہ غربت راستے میں مشکلات ضرور پیدا کر سکتی ہے، لیکن ہمت، جدوجہد اور علم حاصل کرنے کی لگن انسان کو ان مشکلات سے آگے نکلنے کا راستہ دکھا سکتی ہے۔
جے ای ای ایڈوانسڈ
کو ملک کے مشکل ترین انجینئرنگ داخلہ امتحانات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس امتحان میں کامیابی کیلئے طلبہ طویل عرصے تک تیاری کرتے ہیں۔ کئی طلبہ بہتر کوچنگ، ٹیسٹ سیریز اور دیگر وسائل کا سہارا لیتے ہیں۔ ابھیشیک کا سفر بتاتا ہے کہ ہر طالب علم کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کسی کے پاس زیادہ وسائل ہوتے ہیں تو کسی کے پاس محدود۔ لیکن مشکل حالات میں بھی مسلسل کوشش کرنے کی صلاحیت کسی طالب علم کے سفر کو بدل سکتی ہے۔ ممبئی کی جھوپڑی سے آئی آئی ٹی دہلی تک کا ان کا سفر اسی جدوجہد اور محنت کی داستان ہے۔