Alan LaVern Bean نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک سائنس، خلا اور آرٹ کے امتزاج کو فروغ دیا اور نئی نسل کو تحقیق، جستجو اور تخلیق کی ترغیب دی۔
EPAPER
Updated: January 16, 2026, 6:24 PM IST | Mumbai
Alan LaVern Bean نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک سائنس، خلا اور آرٹ کے امتزاج کو فروغ دیا اور نئی نسل کو تحقیق، جستجو اور تخلیق کی ترغیب دی۔
ایلن لاورن بین امریکہ کے نامور خلا باز، نیول آفیسر، انجینئر اور مصور تھے۔ وہ۱۵؍ مارچ۱۹۳۲ء کو ریاست ٹیکساس کے شہر وہیلر میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے ٹیکساس یونیورسٹی سے ایروناٹیکل انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی اور ۱۹۵۵ءمیں امریکی بحریہ (US Navy)میں شمولیت اختیار کی۔ بحریہ میں انہوں نے فائٹر پائلٹ اور ٹیسٹ پائلٹ کے طور پر خدمات انجام دیں، جہاں ان کی غیر معمولی صلاحیتوں نے انہیں نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کی نظر میں نمایاں کر دیا۔۱۹۶۳ء میں ایلن بین کو ناسا کے تیسرے گروپ کے خلا بازوں میں شامل کیا گیاجو اُن کے کریئر کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: جے کارٹی امریکی باسکٹ بال کھلاڑی، مصنف اور پبلک اسپیکر تھے
ایلن بین کو عالمی شہرت۱۹۶۹ء میں ’اپولو۱۲ ‘ مشن کے ذریعے حاصل ہوئی جس میں وہ چاند پر قدم رکھنے والے چوتھے انسان بنے۔ اس مشن میں وہ قمری ماڈیول پائلٹ تھے اور اپنے ساتھی خلا باز چارلس کونراڈ کے ساتھ چاند کی سطح پر دو طویل چہل قدمیاں کیں۔ ان سرگرمیوں کے دوران انہوں نے سائنسی آلات نصب کئے، چاند کی سطح سے قیمتی نمونے جمع کئے اور سروئیر۔۳؍ نامی خودکار خلائی جہاز کے پرزے واپس زمین پر لائے، جو پہلے ہی چاند پر اتارا جا چکا تھا۔ یہ مشن نہایت اہم سائنسی کامیابی سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے چاند کی ساخت، مٹی اور ماحول کے بارے میں قیمتی معلومات حاصل ہوئیں۔ ایلن بین نے نہ صرف سائنسی فرائض بخوبی انجام دیئے بلکہ چاند کی سطح پر انسانی موجودگی کو مزید مؤثر بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: جان رسکن مشہور برطانوی ادیب، نقاد، مفکر، سماجی مصلح اور فلسفی تھے
اپولو۱۲؍ کے بعد ایلن بین نے ناسا کے دیگر اہم منصوبوں میں بھی حصہ لیا۔ وہ۱۹۷۳ء میں ’اسکائی لیب ۳؍‘مشن کے کمانڈر مقرر ہوئے جو امریکہ کا پہلا خلائی اسٹیشن تھا۔ اس مشن کے دوران انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ تقریباً دو ماہ خلا میں گزارے اور طبی، حیاتیاتی اور سائنسی تجربات کئے جن سے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ انسان طویل عرصے تک خلا میں کیسے کام کر سکتا ہے۔ اسکائی لیب مشن میں پیش آنے والی تکنیکی مشکلات کے باوجود، ایلن بین کی قیادت، حوصلے اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں نے مشن کو کامیابی سے ہمکنار کیااور مستقبل کے خلائی اسٹیشن منصوبوںکیلئے مضبوط بنیاد فراہم کی۔
یہ بھی پڑھئے: ایمی نوتھر کا شمار بیسویں صدی کے مشہور ریاضی دانوں میں ہوتا ہے
۱۹۷۵ءمیں ناسا سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایلن بین نے اپنی زندگی کا ایک نیا رخ اختیار کیا اور مکمل طور پر مصوری کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔ وہ دنیا کے واحد ایسے خلا باز تھے جنہوں نے چاند پر جانے کے ذاتی تجربے کو آرٹ کے ذریعے زندہ رکھا۔ ان کی پینٹنگز میں چاند کی سطح، خلا بازوں کی سرگرمیاں اور خلائی مناظر نہایت حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کئےگئے، کیونکہ وہ خود ان لمحات کا حصہ رہ چکے تھے۔ ایلن نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک سائنس، خلا اور آرٹ کے امتزاج کو فروغ دیا اور نئی نسل کو تحقیق، جستجو اور تخلیق کی ترغیب دی۔ایلن بین کا انتقال ۲۶؍ مئی۲۰۱۸ء کو۸۶؍ برس کی عمر میں امریکہ میں ہوا تھا۔ ( وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام)