John Ruskin کی تحریروں میں اخلاقیات، مذہب، فطرت اور انسان دوستی کا گہرا امتزاج پایا جاتا ہے جو انہیں عام نقادوں سے ممتاز کرتا ہے۔
EPAPER
Updated: January 02, 2026, 6:13 PM IST | Mumbai
John Ruskin کی تحریروں میں اخلاقیات، مذہب، فطرت اور انسان دوستی کا گہرا امتزاج پایا جاتا ہے جو انہیں عام نقادوں سے ممتاز کرتا ہے۔
جان رسکن انیسویں صدی کے عظیم انگریز نقادِ فن، ادیب، مفکر، سماجی مصلح اور فلسفی تھے، جنہوں نے ادب، مصوری، تعمیرات اور اخلاقیات کے میدان میں گہرے اثرات چھوڑے۔ انہوں نے آرٹ، فن تعمیر، سیاسی معیشت، تعلیم، میوزیالوجی، ارضیات، نباتیات، آرنیتھولوجی، ادب، تاریخ اور افسانہ جیسے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا۔
جان رسکن کی پیدائش۸؍ فروری۱۸۱۹ء کو لندن میں ہوئی تھی۔ ان کے والد جان جیمز رسکن ایک خوش حال تاجر تھے اور والدہ مارگریٹ رسکن نہایت مذہبی خاتون تھیں۔ والدین کی مالی آسودگی اور فکری سرپرستی نے جان رسکن کو بچپن ہی سے اعلیٰ تعلیم، یورپ کے اسفار اور عظیم فن پاروں کے مشاہدے کے مواقع فراہم کئے۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جہاں ان کی دلچسپی شاعری، ادب اور بالخصوص مصوری کے تنقیدی مطالعے کی طرف بڑھتی گئی۔
جان رسکن کی ادبی اور فکری زندگی کا آغاز دراصل فنِ مصوری کی تنقید سے ہوا۔ ۵؍ جلدوں پر مشتمل ان کی شہرۂ آفاق تصنیف’’ماڈرن پینٹرز‘‘ (۱۸۴۳ء) نے انہیں راتوں رات ایک ممتاز نقاد بنا دیا۔ اس کتاب میں انہوں نے مصور جےایم ڈبلیو ٹرنر کے فن کا دفاع کیا اور یہ نظریہ پیش کیا کہ سچا فن وہ ہے جو فطرت کی روح اور حقیقت کو دیانت داری سے پیش کرے۔ رسکن کے نزدیک فن محض حسن یا تکنیکی مہارت کا نام نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی اقدار کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ یہی تصور ان کی تمام تحریروں میں نمایاں نظر آتا ہے۔
ادبی خدمات کے ساتھ رسکن نے فنِ تعمیر پر بھی گراں قدر کام کیا۔ ان کی مشہور کتاب’’دی سیون لیمپس آف آرکیٹکچر‘‘ (۱۸۴۹ء) میں انہوں نے تعمیرات کے سات بنیادی اصول بیان کئے، جیسے قربانی، صداقت، طاقت اور خوبصورتی۔ اس کے بعد ’’دی اسٹونس آف وینس‘‘میں انہوں نے گوتھک طرزِ تعمیر کی عظمت کو اجاگر کیا اور صنعتی دور کی مشینی تہذیب پر شدید تنقید کی۔ رسکن کا خیال تھا کہ مشینوں نے انسانی تخلیقی قوت کو نقصان پہنچایا ہے اور فن کو بے روح بنا دیا ہے۔
جان رسکن ایک سماجی مفکر بھی تھے۔ انہوں نے صنعتی سرمایہ دارانہ نظام، معاشی ناہمواری اور مزدوروں کے استحصال کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کی تصنیف’’Unto This Last‘‘میں اخلاقی معیشت کا تصور پیش کیا گیا جس میں دولت کو انسانی فلاح اور سماجی انصاف سے جوڑا گیا۔ ان کے خیالات نے بعد میں ولیم مورس اور مہاتما گاندھی جیسے مفکرین کو بھی متاثر کیا۔ گاندھی جی نے خود اعتراف کیا تھاکہ اس کتاب نے ان کی زندگی اور سوچ کا رخ بدل دیا۔ ادبی اسلوب کے اعتبار سے جان رسکن کی نثر نہایت شاندار، شاعرانہ اور اثر انگیز ہے۔ وہ گہرے خیالات کو دل نشین تشبیہوں اور فطری مناظر کے ذریعے بیان کرتے ہیں جس سے ان کی تحریریں جمالیاتی لطف فراہم کرتی ہیں۔ آخری دور میں جان رسکن ذہنی و اعصابی بیماریوں کا شکار رہے اور بلآخر ۲۰؍جنوری۱۹۰۰ءکو برطانیہ میں ان کا انتقال ہوا۔
(وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام)