Updated: March 05, 2026, 5:07 PM IST
| Mumbai
معروف پلے بیک سنگر شیریا گھوشال نے کنسرٹس میں لِپ سنک کرنے والے گلوکاروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک ’’سست عمل‘‘ ہے جس میں محنت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ فنکار کو اپنی مقبولیت کو ہلکا نہیں لینا چاہیے اور ہر دن اپنے فن پر سخت محنت کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود ایسی پرفارمنس کو عوام کے سامنے چلانے کو توہین آمیز سمجھتی ہیں جسے وہ سننا بھی پسند نہ کریں۔
شریا گھوشال۔ تصویر: آئی این این
حال ہی میں کاروباری شخصیت اور پوڈکاسٹر راج شمانی کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے شیریا گھوشال نے کنسرٹس میں لائیو گانے کے بجائے لِپ سنک کرنے کے رجحان پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا، ’’یہ صرف ایک سست عمل ہے جس میں اپنی مہنت نہیں ہوتی۔ میری ذاتی رائے میں، یہ اچھا طریقہ نہیں ہے۔‘‘ ان کے مطابق ایک گلوکار کو اپنے فن کے ساتھ دیانت دار ہونا چاہیے اور اسٹیج پر حقیقی لائیو پرفارمنس دینی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دی بیڈز آف بالی ووڈ‘‘ دیکھ کرایچ بی او آرین خان کا مداح بن گیا، سیریز بنانے کی پیشکش
گفتگو کے دوران انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک فنکار کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں ناظرین کی پسند کو بدنام نہیں کر سکتی، لیکن ایک فنکار کے طور پر میرے کچھ اصول ہیں۔ مجھے اپنی کسی بھی پرفارمنس کو عوامی سطح پر چلانے میں مسئلہ ہوتا ہے جسے میں خود سن بھی نہ سکوں۔ میرے لئے یہ انتہائی ذلت آمیز اور توہین آمیز ہے۔‘‘ ان کے مطابق ایک فنکار کو اس وقت بے چینی محسوس ہونی چاہیے جب اس کے ارد گرد کوئی ایسی پرفارمنس چل رہی ہو جو معیار پر پورا نہ اترتی ہو۔
یہ بھی پڑھئے: ایران اسرائیل جنگ : سونو سود نے دبئی میں پھنسے لوگوں کی مددکیلئے ہاتھ بڑھایا
شیریا گھوشال نے کہا کہ شہرت حاصل کرنے کے بعد بھی فنکار کو مسلسل محنت کرتے رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’آپ ہمیشہ سوچیں گے، میں نے ایسا کیوں کیا؟ یا تو آپ اپنے فن پر سخت محنت کریں کیونکہ آپ نے وہ تاج یا تخت حاصل کیا ہے اسے ہلکا نہ لیں۔ آپ کو ہر دن سخت محنت کرنی ہوگی۔‘‘ ان کے مطابق حقیقی فنکار وہی ہے جو اپنے معیار کو برقرار رکھنے کیلئے مسلسل کوشش کرتا رہے۔ واضح ہو کہ گزشتہ دو دہائیوں میں شیریا گھوشال نے ہندوستانی موسیقی پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اپنی مخملی آواز اور جذباتی انداز کے باعث وہ بھارتی سنیما کی سب سے کامیاب پلے بیک گلوکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں۔ شریا گھوشال نے صرف چار سال کی عمر میں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی تربیت شروع کی۔ انہیں قومی سطح پر پہچان اس وقت ملی جب انہوں نے ٹی وی سنگنگ ریئلٹی شو ’’سا رے گا ما‘‘ جیت لیا۔ اسی پروگرام میں ان کی پرفارمنس نے معروف فلم ساز سنجے لیلا بھنسالی کو متاثر کیا۔
یہ بھی پڑھئے: سری لیلا نہیں، کارتک آرین کی ’ناگزیلا‘ میں نئی اداکارہ کا داخلہ
۲۰۰۲ء میں شریا گھوشال نے فلم ’’دیو داس‘‘ سے پلے بیک سنگنگ میں قدم رکھا۔ اس فلم میں انہوں نے اداکارہ ایشوریہ رائے بچن کے کردار کیلئے گانے ریکارڈ کئے۔ان کے گانے ’’بیری پیا‘‘، ’’ڈولا رے ڈولا‘‘ اور ’’سلسلہ یہ چاہت کا‘‘ فوری طور پر مقبول ہو گئے۔ اسی فلم کیلئے انہوں نے نیشنل فلم ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈ بھی جیتا۔