۹۹ء۹۴؍پرسنٹائل کے ساتھ کامیاب ہونے والے امانت علی کا آل انڈیا رینک ۸۸۵؍ہے ،جبکہ آل انڈیا اوبی سی رینک ۱۷۲؍ ہے ۔
امانت علی۔ تصویر:آئی این این
اگر ارادہ مضبوط ہو، لگن سچی ہو ،عزم جہد مسلسل ہو اور زندگی میں کچھ بننے کا نصب العین ہوتو کامیابی یقینی ہے۔اسی عزم حوصلہ مندی کا مصمم ارادہ رکھنے والے شہر دھولیہ کے ہونہار طالب علم امانت علی عابد حسین پنجاری نے دنیا کے دوسرے نمبر کے سخت ترین امتحانات میں شمار کئے جانے والے جے ای ای مین ۲۰۲۶ء میں آل انڈیا لیول ۸۸۵؍ویں اور آل انڈیا او بی سی رینک۱۷۲؍ حاصل کی ہے۔ ۹۹ء۹۴؍ پرسنٹائل حاصل کرکے اپنی صلاحیت کا لوہا منواتے ہوئے شاندار کامیابی اپنے نام کی اور شہر دھولیہ کا نام ملک بھر میں روشن کیا۔
واضح ہو کہ امانت علی متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کی رات دن انتھک محنت، یکسوئی ،ثابت قدمی، عزم اور جہد مسلسل کوشش نے غربت کو اپنے ارادے میں حائل ہونے نہیں دیا۔ جے ای ای مین امتحان کے متعلق امانت علی نے بتایا کہ اس امتحان میں۱۵؍لاکھ۳۸؍ہزار طلبہ شریک ہوئے تھے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ امانت علی نے بغیر کسی مہنگے کوچنگ ادارہ کے صرف آن لائن’فزکس پی ڈبلیو والا‘ وہ بھی ساڑھے چار ہزار روپئے میں تیاری کرکے اور سیلف اسٹڈی کے ذریعے یہ عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔امانت علی کی کامیابی اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ کامیابی وسائل کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ عزم استقامت اور محنت کی مرہون منت ہوتی ہے۔ امانت علی نیشنل اردو ہائی اسکول کے کلرک عابد حسین پنجاری کے قابل فخر فرزند ہیں۔جن کی بہترین تربیت، رہنمائی اور سرپرستی نے اپنے بیٹے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امانت علی نے بتایا کہ انہوں نے دسویں کنوسا کانوینٹ اور بارہویں سینٹ اینس سے کی ہے۔بارہویں میں انہیں ۸۵؍فیصد مارکس ملے تھے۔
امانت علی کی یہ کامیابی ہر اُس طالب علم کے لیے روشن مثال ہے جو حالات کی سختیوں، وسائل کی کمی یا نامساعد حالات سے گھبرا جاتے ہیں۔ ان کی کامیابی یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو، لگن سچی ہو اور محنت مسلسل ہو تو کوئی رکاوٹ انسان کو منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔ مذکورہ سخت ترین امتحان میں فقیدالمثال کامیابی حاصل کرکے شہر دھولیہ کا ملکی سطح پر نام روشن کرنے والے امانت علی عابد حسین پنجاری کو شہر کے تعلیمی، ملّی، سماجی تنظیموں اداروں نے دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے روشن و تابناک مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔