۱۵؍ اکتوبر ۱۹۳۱ء کو تمل ناڈو کے ساحلی شہر رامیشورم میں پیدا ہونے والے عبدالکلام کا تعلق ایک نہایت سادہ مگر باوقار خاندان سے تھا۔ ان کے والد ایک کشتی بان تھے اور گھر کے معاشی حالات محدود تھے، لیکن اس تنگدستی نے ان کے حوصلوں کو کبھی پست نہیں ہونے دیا۔
EPAPER
Updated: July 25, 2026, 3:40 PM IST | Dr. Mohammed Muqeem Jaamai | Mumbai
۱۵؍ اکتوبر ۱۹۳۱ء کو تمل ناڈو کے ساحلی شہر رامیشورم میں پیدا ہونے والے عبدالکلام کا تعلق ایک نہایت سادہ مگر باوقار خاندان سے تھا۔ ان کے والد ایک کشتی بان تھے اور گھر کے معاشی حالات محدود تھے، لیکن اس تنگدستی نے ان کے حوصلوں کو کبھی پست نہیں ہونے دیا۔
۱۵؍ اکتوبر ۱۹۳۱ء کو تمل ناڈو کے ساحلی شہر رامیشورم میں پیدا ہونے والے عبدالکلام کا تعلق ایک نہایت سادہ مگر باوقار خاندان سے تھا۔ ان کے والد ایک کشتی بان تھے اور گھر کے معاشی حالات محدود تھے، لیکن اس تنگدستی نے ان کے حوصلوں کو کبھی پست نہیں ہونے دیا۔ بچپن میں اخبارات فروخت کرکے انہوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہی وہ جدوجہد تھی جس نے ان کے اندر خود اعتمادی، نظم و ضبط اور مسلسل محنت کا وہ جذبہ پیدا کیا جو آگے چل کر ان کی شخصیت کا امتیاز بن گیا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان کو اپنا مقصدِ حیات بنایا۔ ہندوستان کے خلائی اور دفاعی پروگراموں میں ان کی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں۔ سیٹیلائٹ لانچ کی تیاری ہو یا جدید میزائلوں کی کامیاب تخلیق، ہر جگہ ڈاکٹر عبدالکلام کی ذہانت، قیادت اور غیر معمولی صلاحیتوں کے نقوش نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ انہی خدمات کے اعتراف میں دنیا نے انہیں محبت سے ’میزائل مین‘ کا خطاب دیا۔
یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: نیکی کا اجر
لیکن اگر ان کی عظمت صرف سائنسی کامیابیوں تک محدود ہوتی تو شاید وہ کروڑوں دلوں کی دھڑکن نہ بن پاتے۔ ان کی اصل پہچان ان کی سادگی، انکساری اور انسان دوستی تھی۔ اقتدار کی بلند ترین چوٹی پر پہنچنے کے باوجود ان کی زندگی میں نہ شاہانہ انداز تھا، نہ تصنع اور نہ تکبر۔ وہ سادہ لباس، نرم گفتگو اور مسکراتے چہرے کے ساتھ ہر خاص و عام سے ملتے تھے۔ یہی اوصاف تھے جنہوں نے انہیں عوام کا محبوب صدر، یعنی ’صدر جمہوریہ‘ بنا دیا۔
۲۰۰۲ء میں جب وہ ہندوستان کے صدرِ جمہوریہ منتخب ہوئے تو راشٹر پتی بھون کو ایک نئی روح ملی۔ انہوں نے نوجوانوں، طلبہ اور اساتذہ سے مسلسل ملاقاتیں کیں اور ہر جگہ امید، حوصلے اور خود اعتمادی کا پیغام پہنچایا۔ ان کا یقین تھا کہ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ وہ اکثر فرمایا کرتے تھے: ’’خواب وہ نہیں جو آپ نیند میں دیکھتے ہیں، خواب وہ ہیں جو آپ کو سونے نہ دیں۔‘‘ یہ مختصر سا جملہ دراصل ان کی پوری فکر کا نچوڑ ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہر نوجوان بڑے خواب دیکھے، اپنے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچانے اور مسلسل محنت کے ذریعے انہیں حقیقت کا روپ دے۔
ڈاکٹر عبدالکلام ایک عظیم سائنسدان ہونے کے ساتھ ساتھ صاحبِ قلم بھی تھے۔ ان کی شہرۂ آفاق کتاب Wings of Fire صرف ایک خود نوشت نہیں بلکہ عزم، حوصلے اور کامیابی کا ایسا سفرنامہ ہے جو قاری کے اندر نئی امنگ پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح Ignited Minds اور India 2020 جیسی تصانیف آج بھی نوجوانوں کو علم، تحقیق اور قومی خدمت کی دعوت دیتی ہیں۔ ان کی شخصیت کا ایک روشن پہلو مذہبی رواداری بھی تھا۔ وہ قرآنِ مجید کی تلاوت بھی کرتے تھے اور گیتا کا مطالعہ بھی۔ ان کے نزدیک تمام مذاہب انسان کو محبت، خدمت اور اخلاق کا درس دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور قومی یکجہتی کی ایک خوبصورت علامت بن گئے۔
۲۷؍ جولائی ۲۰۱۵ء کو شیلانگ میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے اچانک ان کا انتقال ہوگیا۔ یہ حقیقت بھی کتنی معنی خیز ہے کہ جس شخصیت نے پوری زندگی نوجوانوں کو علم کی روشنی بانٹی، وہ آخری سانس تک درس و تدریس کے اسی مقدس فریضے میں مصروف رہی۔ گویا ان کی زندگی کا آخری باب بھی تعلیم کے نام رقم ہوا۔ ان کے یوم ِ وفات پر انہیں یاد کرنا محض ایک رسمی خراجِ عقیدت نہیں بلکہ اپنے اندر علم دوستی، دیانت، سادگی، محنت اور وطن سے محبت کے جذبہ کو زندہ کرنے کا عہد ہے۔ ڈاکٹر عبدالکلام کی زندگی ہر طالبعلم، ہر استاد اور ہر محبِ وطن کیلئے ایک کھلی کتاب ہے، جس کا ہر صفحہ یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر ارادے مضبوط ہوں تو آسمان بھی انسان کے قدم چومنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔