ایک گھنا اور خوبصورت جنگل تھا۔ اس جنگل میں ہر قسم کے جانور رہتے تھے۔ ہاتھی، ہرن، بندر، خرگوش، لومڑی، ریچھ اور بے شمار پرندے۔ جنگل میں ہر چیز موجود تھی، سرسبز درخت، ٹھنڈے چشمے اور کھانے پینے کی فراوانی۔
EPAPER
Updated: June 20, 2026, 3:50 PM IST | Atif Adnan Shaikh Sadiq | Mumbai
ایک گھنا اور خوبصورت جنگل تھا۔ اس جنگل میں ہر قسم کے جانور رہتے تھے۔ ہاتھی، ہرن، بندر، خرگوش، لومڑی، ریچھ اور بے شمار پرندے۔ جنگل میں ہر چیز موجود تھی، سرسبز درخت، ٹھنڈے چشمے اور کھانے پینے کی فراوانی۔
ایک گھنا اور خوبصورت جنگل تھا۔ اس جنگل میں ہر قسم کے جانور رہتے تھے۔ ہاتھی، ہرن، بندر، خرگوش، لومڑی، ریچھ اور بے شمار پرندے۔ جنگل میں ہر چیز موجود تھی، سرسبز درخت، ٹھنڈے چشمے اور کھانے پینے کی فراوانی۔ لیکن ایک بہت بڑی خرابی تھی کہ جنگل کے جانور آپس میں کبھی محبت سے نہیں رہتے تھے۔
کوئی پانی کے چشمے پر جھگڑتا تھا، کوئی کھانے پر لڑتا تھا، کوئی اپنی طاقت پر غرور کرتا تھا اور کوئی دوسروں کو حقیر سمجھتا تھا۔ ہرن بندروں سے ناراض رہتے، بندر لومڑیوں سے جھگڑتے، ریچھ ہاتھیوں سے بحث کرتے اور پرندے بھی ایک دوسرے سے الجھتے رہتے۔ جنگل میں ہر وقت شور، لڑائی اور نفرت کا ماحول رہتا تھا۔
اگرچہ سب جانور ایک دوسرے سے لڑتے تھے، لیکن ایک جانور ایسا تھا جس سے سب ڈرتے تھے، اور وہ تھا جنگل کا بادشاہ شیر۔ شیر کی دھاڑ سنتے ہی سب خاموش ہو جاتے۔ اگرچہ شیر سخت مزاج تھا، مگر وہ جنگل میں ایک نظم و ضبط بھی قائم رکھتا تھا۔ اسی وجہ سے کوئی جانور اس کے سامنے آواز بلند کرنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔
ایک دن صبح کے وقت شیر جنگل کے ایک حصے میں گشت کر رہا تھا۔ اسی دوران چند شکاری جنگل میں داخل ہوئے۔ وہ کئی دنوں سے شیر کو پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے ایک مضبوط جال تیار کیا ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اسکول کا پہلا دن
جیسے ہی شیر ایک راستے سے گزرا، شکاریوں نے اچانک اسکے اوپر جال پھینک دیا۔ شیر پوری طاقت سے دھاڑنے لگا اور جال توڑنے کی کوشش کرنے لگا، مگر جال بہت مضبوط تھا۔ جتنا وہ چھٹکارا پانے کی کوشش کرتا، اتنا ہی زیادہ پھنس جاتا۔
شیر کی زور دار دھاڑ پورے جنگل میں گونج گئی۔ تمام جانور خوفزدہ ہوگئے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ شیر شکاریوں کے جال میں قید ہے تو سب ایک جگہ جمع ہوگئے۔
بندر بولا ’’یہ تو اچھا ہوا، اب ہمیں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔‘‘
لومڑی نے کہا ’’ہاں، اب جنگل میں ہماری مرضی چلے گی۔‘‘
مگر ایک بوڑھا ہاتھی خاموشی سے سب کی باتیں سن رہا تھا۔ اس نے کہا ’’آج اگر شیر مصیبت میں ہے تو خوش ہونے کے بجائے ہمیں سوچنا چاہئے کہ کل یہی مصیبت ہم پر بھی آسکتی ہے۔ اگر ہم آج ایک دوسرے کا ساتھ نہ دیں تو کل ہمارا ساتھ دینے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ ہاتھی کی بات سن کر سب جانور خاموش ہوگئے۔
ایک ننھا خرگوش بولا ’’ہم ہمیشہ آپس میں لڑتے رہے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے ہم کبھی مضبوط نہیں بن سکے۔‘‘
تب ایک عقلمند طوطا بولا ’’اگر ہم سب مل جائیں تو یہ جال توڑ سکتے ہیں۔ اکیلا جانور کمزور ہوتا ہے لیکن اتحاد میں طاقت ہوتی ہے۔‘‘
یہ سن کر سب جانوروں نے فیصلہ کیا کہ وہ شیر کو بچائیں گے۔
ہاتھی اپنی طاقت کے ساتھ آگے بڑھا۔ بندر درختوں سے کود کر شکاریوں کی توجہ بٹانے لگے۔ پرندے شکاریوں کے سروں کے اوپر منڈلانے لگے۔ لومڑیاں اور بھیڑیے جال کے کناروں کو کھینچنے لگے۔ چوہے جال کی رسیوں کو اپنے تیز دانتوں سے کاٹنے لگے۔
شکاری یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئے۔ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ جنگل کے جانور اس طرح متحد ہو جائیں گے۔
کچھ ہی دیر میں جال کمزور ہونے لگا۔ چوہوں نے کئی رسیاں کاٹ دیں۔ ہاتھی نے زور سے دھکا لگایا اور جال پھٹ گیا۔ شیر آزاد ہوگیا۔
یہ بھی پڑھئے: مختصرکہانی: کلاکار اور شیر
شیر کے آزاد ہوتے ہی شکاری خوفزدہ ہو کر جنگل سے بھاگ گئے۔
شیر چند لمحے خاموش رہا۔ پھر اس نے سب جانوروں کی طرف دیکھا۔ آج پہلی بار اس کی آنکھوں میں غرور کے بجائے شکرگزاری تھی۔
اس نے کہا ’’آج تم سب نے مجھے ایک بہت بڑا سبق سکھایا ہے۔ مَیں سمجھتا تھا کہ طاقت صرف زور بازو کا نام ہے، لیکن آج معلوم ہوا کہ اصل طاقت اتحاد میں ہے۔‘‘
تمام جانور ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ انہیں احساس ہوا کہ وہ برسوں سے ایک بہت بڑی غلطی کر رہے تھے۔
اس دن کے بعد جنگل کا ماحول بدل گیا۔ جانوروں نے آپس کے جھگڑے کم کر دیئے۔ پانی سب مل کر استعمال کرتے، کھانے کی چیزیں بانٹتے اور مصیبت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرتے۔ جنگل پہلے سے زیادہ پرامن اور خوشحال ہوگیا۔
یہ کہانی صرف جانوروں کی نہیں بلکہ ہم انسانوں کی بھی ہے۔
آج ہم بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ خاندانوں میں اختلافات ہیں، پڑوسیوں میں جھگڑے ہیں، رشتوں میں دوریاں ہیں اور معاشرے میں نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر شخص صرف اپنی فکر میں ہے۔
یاد رکھیں، جب تک ہم ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دیں گے، ہم کبھی مضبوط نہیں بن سکتے۔ مصیبت، بیماری، غربت اور مشکلات کسی ایک دروازے پر دستک نہیں دیتیں، وہ کسی کے پاس بھی آ سکتی ہیں۔
اگر جانور اپنی دشمنیاں بھلا کر ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں تو انسان، جو عقل اور شعور رکھتا ہے، اسے تو اور زیادہ محبت، ہمدردی اور اتحاد کے ساتھ رہنا چاہئے۔
دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا، غم میں ساتھ دینا، کمزوروں کی مدد کرنا اور آپس میں محبت قائم رکھنا ہی ایک بہترین انسان کی پہچان ہے۔
اتحاد، محبت اور ایک دوسرے کی مدد ہی وہ طاقت ہے جو کسی بھی معاشرے کو مضبوط اور کامیاب بنا سکتی ہے۔