Inquilab Logo Happiest Places to Work

مختصر کہانی: نیکی کا اجر

Updated: June 20, 2026, 3:55 PM IST | Javed Inayat | Mumbai

اسی تذبذب میں دینو کو ایک ترکیب سوجھی۔ وہ فوراً گھر آیا اور ایک بڑا گھڑا صاف پانی سے بھر کر تالاب پر پہنچا اور ایک ایک کرکے تمام مچھلیوں کو اس گھڑے میں ڈالنے لگا تقریباً شام ہو چکی تھی وہ اس گھڑے کو بھینس پر لاد کر دریا کے قریب لایا اور اس میں انڈیل دیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

بہت پرانے زمانے کی بات ہے کہ دریائے گوداوری کے کنارے ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا۔ اس گاؤں میں ایک دینو نامی چرواہا اپنی ماں اور بیوی بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ دینو کے والد کے مر جانے کے بعد گھر کی ساری ذمہ داری دینو پر ہی تھی کمائی کا کوئی ذریعہ نہ تھا سوائے چند بھیڑ بکریوں اور دو بھینسوں کے دینو کے گھر کا خرچ اسی سے چلتا دوسرے الفاظ میں یہ جانور ہی ان کا کل اثاثہ تھے۔ دینو ہر روز ان جانوروں کو جنگل کی طرف لے جاتا اور چرنے کیلئے چھوڑ دیتا اور خود ایک درخت کے نیچے ستانے کیلئے لیٹ جاتا۔ دو پہر کو جب کھانے کا وقت ہوتا تو دینو اپنا کھانا نکالتا اور قریب ہی واقع تالاب کے کنارے جا بیٹھتا۔ اس کے بیٹھتے ہی خاموش تالاب میں ایک قسم کا شور اٹھتا اور تالاب کی تمام مچھلیاں ایک دوسرے پر سبقت لے کر کنارے تک پہنچنے کی کوشش کرتیں۔ دینو انہیں پکار کر کہتا خاموش، لڑو نہیں! آج مَیں نے زیادہ روٹیاں لائی ہیں، تم میں سے ہر ایک آج پیٹ بھر کر کھائے گا۔ اس طرح دینو ہر روز اپنا تمام توشہ ان مچھلیوں کو کھلا دیا کرتا اگر کسی دن ایک آدھ روٹی بچ جاتی تو وہ بھی کھا لیتا غرض یہ کہ دن اسی طرح گزر رہے تھے دینو کسی لالچ کے بغیر ان مچھلیوں کا پیٹ بھرتا۔

یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: قصہ ایک شیر کی حجامت کا

ایک دن اس نے دیکھا کہ تالاب کے پانی کا رنگ کچھ تبدیل ہو رہا ہے۔ اس نے پانی چکھا تو اسے ذائقہ عجیب لگا۔ وہ فوراً اٹھا اور سمجھ گیا کہ گڑبڑ ضرور ہے، اسی وجہ سے شاید مچھلیوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور اس لئے مچھلیاں کنارے پر نہیں آرہی ہیں۔ اس خراب پانی سے مچھلیوں کی زندگی کو خطرہ ہے۔ اسی تذبذب میں دینو کو ایک ترکیب سوجھی۔ وہ فوراً گھر آیا اور ایک بڑا گھڑا صاف پانی سے بھر کر تالاب پر پہنچا اور ایک ایک کرکے تمام مچھلیوں کو اس گھڑے میں ڈالنے لگا تقریباً شام ہو چکی تھی وہ اس گھڑے کو بھینس پر لاد کر دریا کے قریب لایا اور اس میں انڈیل دیا۔ اسی طرح چار پانچ دن تک اس نے خراب پانی کے تالاب سے مچھلیوں کو نکال کر دریا کی گود میں ڈال دیا۔ آخری دن جب وہ گھڑا لے کر دریا پر پہنچا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ہر مچھلی پانی میں ڈبکی لگاتی اور کچھ دیر بعد ایک موتی نکال لاتی اور کنارے پر رکھ کر پھر پانی میں چلی جاتی۔ تھوڑی ہی دیر میں دریا کا کنارہ چمکنے لگا۔ دینو سمجھ گیا، ہو نہ ہو یہ موتی میرے لئے ہی ہیں۔ دینو نے موتی اٹھائے اور مسکراتے ہوئے گھر کی طرف چل پڑا۔ سچ ہے، نیکی کا اجر ضرور ملتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK