Inquilab Logo Happiest Places to Work

آرتھر میکن ماڈرن ہارر فکشن کے ممتاز ادیب اور صحافی تھے

Updated: June 05, 2026, 4:42 PM IST | Mumbai

Arthur Machen کو ایک ایسےمفکر ادیب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نےانسانی شعور، مذہب اور مافوق الفطرت عناصر کو ادب کا موضوع بنایا۔

Arthur Machen`s works are the subject of research in universities. Photo: INN
آرتھر میکن کی تصانیف یونیورسٹیوں میں تحقیق کا موضوع ہیں۔ تصویر: آئی این این

آرتھر میکن کا پورا نام آرتھر لیولن جونز تھا۔ وہ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل کے ایک ممتاز ویلشی مصنف، مفکر اور ادیب تھے۔ وہ بالخصوص اپنی اثر انگیز مافوق الفطرت، فینٹسی اورہارر کہانیوں کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا مختصر ناول’’دی گریٹ گاڈ پین‘‘(The Great God Pan) ہارر لٹریچر کا ایک کلاسیکی شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ مشہور امریکی ادیب اسٹیفن کنگ نے اس ناول کے متعلق کہا تھا’’شاید یہ انگریزی زبان میں لکھی گئی بہترین ہارر اسٹوری ہے۔ ‘‘آرتھر میکن ایک اور مشہور مختصر کہانی’’ دی بومین‘‘ (The Bowmen ) کے خالق بھی تھے۔ یہ کہانی اتنی مقبول ہوئی کہ بہت سے قارئین نے اسے حقیقی واقعہ سمجھ لیا جس کے نتیجے میں ’’اینجلز آف مونز‘‘کی مشہور داستان وجود میں آئی۔ اس روایت کے مطابق پہلی جنگِ عظیم کے دوران فرشتوں نے برطانوی فوجیوں کی مدد کی تھی، حالانکہ یہ تصور دراصل میکن کی ادبی تخلیق پر مبنی تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: جرمن ماہر طبیعیات میکس پلانک کو ’’ فادر آف کوانٹم فزکس‘‘ کہا جاتا ہے

آرتھر میکن۳؍ مارچ ۱۸۶۳ء کو ویلز کے علاقے کیرلیون میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد ایک پادری تھے، اس لئے بچپن ہی سے انہیں مذہبی، روحانی اور تاریخی روایات سے گہرا شغف پیدا ہوا۔ ویلز کے قدیم قصے، سیلٹک اساطیر، کلیسائی روایات اور پراسرار لوک کہانیوں نے ان کے تخیل کو غیر معمولی طور پر متاثر کیا۔ یہی عناصر بعد میں ان کی تحریروں کا بنیادی سرمایہ بنے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد وہ لندن منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے صحافت، ترجمہ نگاری اور ادبی تحریر کو اپنا پیشہ بنایا۔ لندن میں ان کی زندگی مالی مشکلات، جدوجہد اور تخلیقی جستجو سے عبارت رہی مگر انہی تجربات نے ان کے ادبی شعور کو گہرائی عطا کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ثبات اسلامبولی: شام کی پہلی خاتون ڈاکٹر اور تعلیم نسواں کی علمبردار

آرتھر میکن نے اپنے ادبی سفر کا آغاز مختلف رسائل اور اخبارات میں مضامین اور تراجم لکھنے سے کیا۔ ان کی ابتدائی تحریروں میں اسرار، روحانیت، قدیم علوم اور انسانی نفسیات کے تاریک پہلو نمایاں نظر آتے ہیں۔ تاہم، انہیں حقیقی شہرت ۱۸۹۰ءکی دہائی میں حاصل ہوئی جب ان کے چند ناول اور طویل افسانے منظر عام پر آئے۔ ان کی سب سے مشہور تصنیف’’ دی گریٹ گاڈ پین‘‘ ہے جو۱۸۹۴ء میں شائع ہوئی۔ اسی طرح ان کی دوسری مشہور تصنیف’ ’ دی تھری امپوسٹرز‘‘ (The Three Impostors ) ہے جو کئی باہم مربوط پراسرار کہانیوں پر مشتمل ایک منفرد ناول ہے۔ اس کتاب میں شامل کہانیوں کو ہارر اور عجائباتی ادب کے شاہکار نمونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کہانیوں میں قدیم مخلوقات، گم شدہ تہذیبوں اور خوف کے ایسے تصورات ملتے ہیں جنہوں نے بعد میں متعدد ادیبوں کے تخیل کو متاثر کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: جے ایم بیری: مشہور برطانوی ادیب اور’’پیٹر پین‘‘ کے خالق

آرتھر میکن کی ادبی خدمات صرف افسانہ نگاری اور ناول نگاری تک محدود نہیں تھیں۔ انہوں نے صحافت میں بھی نمایاں کردار ادا کیا اور لندن کے اخبارات سے وابستہ رہے۔ آرتھر میکن نے اپنی زندگی کے آخری برس نسبتاً خاموشی میں گزارے اور ۱۵؍دسمبر ۱۹۴۷ءکو انگلینڈ کے بیکنزفیلڈ میں وفات پائی۔ 
(وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK