بنگلور کے اریترا نامی انجینئر نے ویڈیو شیئر کیا جس میں اس نے۷؍ بارمسترد ہوجانے سے لے کر آخرکار نوکری کا آفر ملنے تک کے اپنے جدوجہد بھرے سفر کو بیان کیا ہے۔
بنگلور کے ایک انجینئر اریترا کی کہانی آج کل نوکری تلاش کرنے والے ہزاروں نوجوانوں کو حوصلہ دے رہی ہے۔ اریترا نے بتایا کہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی’امیزون‘ نے انہیں کئی سال تک مسلسل مسترد کیا، لیکن انہوں نے بھی حوصلہ نہیں ہارا اور وہاں نوکری حاصل کر کےہی دَم لیا۔
ایک وائرل انسٹاگرام ویڈیو میں اریترا نے بار بار ناکامی ملنے سے ہونے والی جذباتی تھکن کے بارے میں کھل کر بات کی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اتنی مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنا خواب کیوں نہیں چھوڑا۔ ویڈیو میں انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت امیزون میں ڈیٹا انجینئر کے عہدہ پر ہیں، اور پھر اس آفر لیٹر کے پیچھے کی پانچ سالہ جدوجہد کی کہانی شیئر کرتے ہیں۔
ویڈیو کی شروعات میں وہ کہتے ہیں، ’’ہم اپنا ریزیومے کتنا بھی بدل لیں، کتنے بھی ریفرلز لے لیں یا کتنی بھی تیاری کر لیں، پھر بھی ہمیں ریجیکشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ کسی نے ان کے ایک ویڈیو پر یہی تبصرہ کیا تھا۔ اریترا نے انکشاف کیا کہ انہوں نے پانچ سال میں سات سے آٹھ بار سے بھی زیادہ امیزون میں جاب کیلئے اپلائی کیا تھا۔ ریکروٹرز کی نظر میں آنے کے لئے انہوں نے ہر ممکن کوشش کی۔
وہ بتاتے ہیں،’’میں نے ریفرل کے ذریعے، جاب پورٹل کے ذریعے اپلائی کیا، لیکن ہر بار میرا ریزیومے شارٹ لسٹ بھی نہیں ہوا۔ مجھے بار بار آٹو ریجیکشن والے ای میلز موصول ہوتے رہے۔‘‘اریترا نے تسلیم کیا کہ مسلسل مسترد کیے جانے نے انہیں ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا تھا جہاں انہیں فیصلہ کرنا تھا کہ یا تو وہ اس خواب کو چھوڑ دیں یا پھر اس کیلئے لڑتے رہیں۔ اریترا کہتے ہیں،’’ایک وقت ایسا آیا جب میرے پاس دو ہی راستے تھے: یا تو کوشش کرنا چھوڑ دوں یا پھر لگا رہوں۔ میں نے ہمت نہ ہارنے کا فیصلہ کیا اور ایک دن آخرکار مجھے انٹرویو کے لیے کال آ ہی گئی۔ اس بار میں اسے کامیابی سے پاس کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھا۔‘‘ اریترہ کا یہ متاثر کن ویڈیو سوشل میڈیا پر پروفیشنلز، طلبہ اور نوکری تلاش کرنے والے افراد کے دلوں کو چھو گیا۔ کئی لوگوں نے کہا کہ وہ بھی بار بار درخواستیں بھیجنے اور بدلے میں خودکار ریجیکشن ای میلز ملنے کی مایوسی کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ بہت سے صارفین نے اریترا کی اس بات پر تعریف کی کہ انہوں نے صرف کامیابی کا چمکدار پہلو دکھانے کے بجائے اپنی ناکامیوں کے بارے میں بھی ایمانداری سے بات کی۔ جبکہ دوسروں کا کہنا تھا کہ ان کی کہانی آج کے مشکل ہائرنگ مارکیٹ، خاص طور پر ٹیکنالوجی انڈسٹری، کی تلخ حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔
(بشکریہ:ایشیا نیٹ نیوز)