سروے کے مطابق، ’’جین زی اب وہی کریئر سیڑھی نہیں چڑھنا چاہتی جو کبھی ملینئیلز کا خواب ہوا کرتی تھی‘‘کل اور آج میں آنیوالی تبدیلیوں کا سرسری جائزہ۔
جین زی بمقابلہ مل۔ تصویر:آئی این این
کامیابی کے اصول اب بدل رہے ہیں، حدود کو نئے سرے سے طے کیا جا رہا ہے۔ جو چیزیں کبھی محنت اور جذبے کی علامت سمجھی جاتی تھیں، اب وہ ذہنی تھکن (برن آؤٹ) کا سبب قرار دی جارہی ہیں۔ملینیئلز کے مقابلے میں جین زی (جنریشن زیڈ) اب اس ماڈل کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ محنت سے بھاگ نہیں رہے، بلکہ کامیابی کے مطلب کو نئے انداز میں بیان کر رہے ہیں۔ مگر کیا آج کے کام کے ماحول میں یہ تبدیلی کافی ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔
کچھ مثالیں دیکھیں:’’سر جھکا کر کام کرتے رہو‘‘،’’ہر بات پر ہاں کہو‘‘، ’’سب سے پہلے آؤ، سب سے آخر میں جاؤ۔‘‘ اگر آپ ملینئیل ہیں تو ممکن ہے آپ نے اپنے کریئر کے آغاز میں یہ جملے منیجرز، لیڈر یا خاندان کے کسی کامیاب عمردراز افراد سے بار بار سنے ہوں۔ ملینئیلز کے لئے یہ صرف مشورہ نہیں بلکہ ایک اصول تھا۔لیکن اگر آج یہی باتیں کسی جنریشن زیڈ ملازم سے کہیں، تو شاید وہ حیران ہو، یا حدود کے بارے میں پیغام بھیج دے، یا آخری صورت میں استعفیٰ دے دے۔کچھ تو بدل چکا ہے، اور یہ صرف عہدوں کا فرق نہیں بلکہ کام کے پورے فلسفے کی تبدیلی ہے۔
ترجیحات میں تبدیلی
حالیہ سروے کے مطابق، ’جین زی‘ اب وہی کریئر سیڑھی نہیں چڑھنا چاہتی جو کبھی ملینئیلز کا خواب ہوا کرتی تھی۔ ۲۰۲۳ء کے ’ڈیلوائٹ سروے‘ کے مطابق تقریباً۴۶؍ جین زی ملازمین ذہنی صحت اور کام و زندگی کے توازن کو ترقی پر ترجیح دیتے ہیں۔ اسی دوران’ میک کنسے‘کی رپورٹ کے مطابق، جین زی کام کو اپنی شناخت کا حصہ تو سمجھتی ہے، مگر اس کا مرکز نہیں۔
دہلی کی کریئر کوچ رتیکا بھلا کہتی ہیں’’ملینئیلز کو یہ سیکھایا گیا کہ کامیابی کا مطلب محنت اور وفاداری ہے۔ انہوں نے کساد بازاری، برطرفیوں اور طویل سفر برداشت کیے، اس لیے زیادہ کام کرنا ان کے لیے بقا کا ذریعہ تھا۔ جبکہ جین زی نے لوگوں کو تھکتے ہوئے دیکھا ہے، وہ یہ کہانی دہرانا نہیں چاہتے۔‘‘
پرانے مشورے اور ان کی بدلتی اہمیت
(۱) ’’ہر چیز کے لئے ہاں کہو‘‘ سے ’’سوچ سمجھ کر ہاں کہو‘‘ تک: ملینئیلز ہر وقت دستیاب رہ کر پوائنٹس حاصل کرتے تھے۔ جین زی کیلئے ہر وقت مصروف رہنا کوئی فخر کی بات نہیں، بلکہ خود کو نقصان پہنچانے جیسا سمجھتے ہیں ہے۔ وہ کم کام بہتر طریقے سے کرنا چاہتے ہیں۔
(۲) ’’حد سے بڑھ کر کام کرو‘‘ سے ’’پائیدار طریقے سے کام کرو‘‘ تک: پہلے’’اضافی کام‘‘ کا مطلب اکثر بغیر معاوضہ اوور ٹائم تھا۔۲۰۲۴ء کی’ Gallup ‘ رپورٹ کے مطابق، جب کام کے گھنٹے۴۵؍ سے زیادہ ہوتے ہیں تو جنریشن زیڈ کی دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔ یہ سستی نہیں، بلکہ حقیقت پسندی ہے۔
(۳) ’’نوکری ہی تمہاری شناخت ہے‘‘ سے ’’نوکری تمہیں سہارا دیتی ہے‘‘تک: ملینئیلز کمپنیوں کے وفادار رہے، بعض اوقات اپنے نقصان پر بھی۔ لیکن جنریشن زیڈ اپنی اقدار اور ذہنی سکون کو ترجیح دیتی ہے۔ اگر کام مناسب نہ ہو تو وہ جلدی تبدیلی کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔
ردعمل (اور کچھ تعریف بھی)
ہر کوئی جنریشن زیڈ کے رویے سے خوش نہیں۔ کچھ ملینئیل مینیجرز اسے حد سے زیادہ خود اعتمادی سمجھتے ہیں۔ مگر اندر سے کئی لوگ ان کی ہمت کی تعریف بھی کرتے ہیں۔
گروگرام کے ایک مارکیٹنگ لیڈ وکرم اروڑا کہتے ہیں:’’کاش مجھے بھی شروع میں نہ کہنا آتا۔ جنریشن زیڈ تو پہلے دن ہی کہہ دیتی ہے۔‘‘
بنگلور کی ایک ایگزیکٹو کوچ اپوروا داس کے مطابق:’’یہ بغاوت نہیں بلکہ ارتقا ہے۔ جب کمپنیاں ملازمین کی ذاتی زندگی کا احترام کرتی ہیں تو تخلیقی صلاحیت اور وفاداری بڑھتی ہے۔‘‘
نوکری جانے کا خطرہ کیوں؟
اگر جنریشن زیڈ پرانے مشوروں پر عمل کرے جیسے حد سے زیادہ کام کرنا، ہر بات مان لینا، سوال نہ کرنا، تو وہ آج کے ماحول میں ناکام ہو سکتے ہیں۔ آج کی کمپنیاں تیزی، واضح بات چیت اور ذہنی صحت کو اہمیت دیتی ہیں۔ پونے کے کریئر اسٹریٹجسٹ نتیش بھنڈاری کہتے ہیں:’’اب صرف محنت کافی نہیں، سمجھداری بھی ضروری ہے۔ حد سے زیادہ کام کرنا اب قابلیت نہیں بلکہ غلط فیصلہ سمجھا جاتا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز پہلے تعریف لاتی تھی، آج وارننگ بن سکتی ہے۔
کیا درمیانی راستہ ممکن ہے؟
سچ یہ ہے کہ ملینئیلز کے کچھ مشورے آج بھی درست ہیںمگر نئے انداز میں۔
- محنت کریں، مگر اندھا دھند نہیں
- نیٹ ورکنگ کریں، مگر نئے پلیٹ فارمز پر
- تجربہ حاصل کریں، مگر اپنی زندگی قربان نہ کریں
آخر میں، دونوں نسلوں کا امتزاج ہی بہترین ہے:ملینئیلز کی برداشت + جنریشن زیڈ کی وضاحت۔شاید نیا اصول یہ ہونا چاہیے:’’محنت کرو، مگر صرف اس پر جو واقعی اہم ہو۔‘‘یہی وہ بات ہے جس پر دونوں نسلیں متفق ہو سکتی ہیں۔
ایکس، وائی، زی،الفا اوربیٖٹا جنریشن کی درجہ بندی؟
۱۹۶ا۵ء - ۱۹۸۰ءکے درمیان پیداافراد :جنریشن ایکس
۱۹۸۱ء - ۱۹۹۶ءکے درمیان پیدا افراد:ملینیئل یا جنریشن وائی
۱۹۹۷ء - ۲۰۱۲ءکے درمیان پیدا افراد :جنریشن زی
۲۰۱۳ء - ۲۰۲۰ءکے درمیان پیدا افراد :جنریشن الفا
۲۰۲۵ء - ۲۰۳۹ءکے درمیان پیدا افراد :جنریشن بِیٹا