Inquilab Logo Happiest Places to Work

اِن خواتین نے سماج کی بہتری کیلئے خود کو وقف کر دیا

Updated: April 29, 2026, 3:19 PM IST | Firdous Anjum | Mumbai

ہندوستان کی متعدد خواتین نے اپنے حوصلوں کو بلند رکھتے ہوئے سماجی بیداری کا کام انجام دیا۔ یہ ان کی جدوجہد اور محنت کا ہی نتیجہ ہے کہ آج خواتین کھلی فضا میں سانس لے رہی ہیں، تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہی ہیں اور مختلف محاذوں پر کامیابی کے پرچم لہرا رہی ہیں۔ آئیے ان سے ملاقات کریں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ خواتین کو معاشرہ میں وہ مقام اور مرتبہ حاصل نہیں تھا جو آج ہے۔ تاریخ کے اوراق کی گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں اٹھارویں صدی تک خواتین کا استحصال بڑے پیمانے پر ہوتا تھا۔ انہیں کسی بھی طرح کے حقوق حاصل نہیں تھے۔ وہ مسلسل ظلم و جبر کا شکار رہیں۔ بیٹیوں کو زندہ درگور کر دینا، ستی کی رسم، کمسنی کی شادی، بیواؤں کی دوبارہ شادی نہ ہونے دینا جیسے مسائل بڑے پیمانے پر ہوتے تھے۔ انہیں عزت و احترام بھی حاصل نہ تھا۔ اس کے خلاف سب سے پہلے راجہ رام موہن رائے نے آواز اٹھائی اور ۱۸۲۹ء کو ستی کی رسم پر پابندی کا قانون نافذ کروایا۔ حالانکہ ہندوستان میں مسلمانوں کی سلطنت تھی، اور ان کے یہاں رضیہ سلطان، چاند بی بی، نور جہاں اور دیگر خواتین علم و ذہانت کے علاوہ اقتدار سنبھال چکی تھیں۔ تاہم، عام خواتین مظالم کا شکار رہیں۔ اس کے بعد مہاتما جیوتی راؤ پھلے نے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ۱۸۴۴ء میں پہلا مدرسہ پونے میں شروع کیا تھا۔ اور سماج میں خواتین کی حیثیت کو متعارف کروانے کے لئے، انہیں علم و شعور کی روشنی دینے کے لئے، خواتین کی بیداری کے لئے مختلف اقدامات کئے تھے۔ ان کے علاوہ دیگر رہنماؤں نے بھی خواتین کے حقوق کے لئے سنجیدگی سے سوچا۔ ان کی اس میں سوچ میں ملک کے مختلف علاقوں سے خواتین نے بھی حصہ لیا۔ اور معاشرے کے اس علاقے کو روشن کرنے کی پہلی سعی کی جو برسوں سے تاریکی میں جی رہا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: کم بجٹ میں گھر سجانے کے چند آئیڈیاز

آئیے ان مصلح خواتین کو خراج تحسین پیش کیا جائے، جنہوں نے مظالم کے خلاف آواز بلند کی، خواتین کی بیداری، قوم و ملک کی عظمت اور اپنے آپ کو معاشرے کی بہتری کے لئے وقف کر دیا:

ساوتری بائی پھلے:

ہندوستان کی پہلی خاتون استانی، جنہوں نے نچلی ذات کے لوگوں کے لئے بہت سی خدمات انجام دیں۔ انہوں نےخواتین کے لئے تعلیم کا آغاز کیا۔ وہ تعلیم کے متعلق کتنی فکرمند تھی اس کا ایک واقعہ مجھے یاد ہے، جو میرے استاد نے یوم ِ اساتذہ کے موقع پر ہمیں سنایا تھا۔ ایک بچے کے پاس امتحان کی فیس دینے کے لئے پیسے نہیں تھے وہ فریاد لے کر ساوتری بائی پھلے کے گھر گیا تو انہوں نے اپنے گلے کا منگل ستر نکال کر اسے دے دیا۔ اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کس طرح کی قربانیاں دی ہوں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے ذات پات کی تفریق کو ختم کرنے، پدرسری نظام کو بدلنے اور خواتین پر مظالم کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کی جدوجہد ہی جدید بھارت کی بنیاد ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تربیت کا یہ انداز بچوں میں ڈر پیدا کرتا ہے

فاطمہ شیخ:

فاطمہ شیخ ہندوستان کی پہلی مسلم خاتون استاد کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ یہ وہ سماجی مصلح اور تعلیمی مجاہدہ تھیں، جنہوں نے ۱۹؍ ویں صدی میں خواتین اور نچلی ذات کے طبقات کی تعلیم و تربیت کے لئے مثالی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اپنا گھر ایک اسکول کے طور پر فراہم کیا تاکہ سماج کے پسماندہ طبقات کی بچیوں کو تعلیم دی جاسکے۔ وہ ساوتری بائی پھلے کے ساتھ گھر گھر جا کر تعلیم دینے اور لوگوں کو روشنی دکھانے کا کام کرتی تھیں۔ بغیر اس بات کی پروا کئے کہ لوگ انہیں بُرے کلمات کہیں گے یا ان پر پتھر پھینکیں گے۔ وہ سچائی اور انصاف کے ساتھ ڈٹی رہیں اور تعلیم کو اپنا ہتھیار بنایا۔

پنڈتا رما بائی:

پہلی خاتون جنہیں کلکتہ یونیورسٹی نے پنڈتا اور سرسوتی کا خطاب دیا۔ پنڈتا رما بائی نے ہندو بیوہ خواتین کے حالات بہتر بنانے کی جدوجہد کی۔ انہوں نے ’شاردا ساگر آشرم‘ قائم کیا۔ جہاں بیوہ خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ ہنر اور تحفظ فراہم کیا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: نکھری اور چمکدار جلد کیلئے کوکونٹ مِلک سے ماسک تیار کریں

نواب سلطان جہاں بیگم:

نواب سلطان جہاں بیگم ۱۹۰۱ء میں بھوپال ریاست کے تخت پر بیٹھی تھیں۔ وہ تعلیم اور خواتین کے حقوق کی علمبردار تھیں۔ مختلف موضوعات پر انہوں نے تقریباً ۵۰؍ کتابیں لکھیں۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی پہلی مسلم خاتون چانسلر بنیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی اعزاز سے نوازا گیا۔ حتیٰ کہ انگریز حکومت نے بھی ان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے معاشرے میں پھیلی برائیوں اور حقوقِ نسواں کے لئے بہت سے اقدامات کئے۔

بیگم رقیہ سخاوت حسین:

ان کا تعلق بنگال اور بنگلہ دیش سے رہا۔ مسلم خواتین کے لئے تعلیم کی راہ ہموار کرنے میں ان کی خدمات قابل تحسین ہے۔ انہوں نے ۱۹۱۱ء میں ’سخاوت میموریل اسکول‘ قائم کیا۔ جو لڑکیوں کی تعلیم کے لئے وقف تھا۔ انہوں نے خواتین کی آزادی اور معاشرے میں ان کے مقام کے لئے جدوجہد کی۔ بیگم رقیہ ان خواتین میں شمار ہوتی ہیں جو جدید بھارت کی معمار سمجھی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پانی کی ہر بوند قیمتی: خواتین کیلئے عملی و رہنما اصول

سروجنی نائیڈو:

’بلبل ہند‘ کہی جانے والی سروجنی نائیڈو نے اپنی شاعری، خطابت اور سیاسی جدوجہد سے اپنا منفرد مقام بنایا۔ وہ ہندوستانی خواتین کے حقوق، آزادی کی تحریک اور قومی یکجہتی کی علامت بنیں۔ وہ آل انڈیا ویمنس کانفرنس کی سرگرم رکن تھیں۔ آپ نے خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے محنت کی۔ آپ نے کئی کتابیں بھی لکھیں۔ آپ خود اعتمادی، حب الوطنی اور شعور نسواں کی بہترین مثال تھیں۔

سلام ہے ان خواتین کو اور ان کی جذبے و قربانیوں کو۔ موجودہ دور کی خواتین کو اِن خواتین سے حوصلہ پاکرمعاشرے کی بہتری کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور مثال قائم کرنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK