• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ای ایم فارسٹرممتاز برطانوی ناول نگار اور ادبی نقاد تھے

Updated: October 23, 2026, 9:00 PM IST | Mumbai

E. M. Forster کی عظمت اس بات میں ہے کہ انہوں نے اپنے عہد کے مسائل کو ہر دور کیلئے اہم بنا دیا۔

Edward Forster was nominated for the Nobel Prize in Literature several times. Photo: INN
ایڈورڈ فارسٹر کو ادب کے نوبیل انعام کیلئے متعدد مرتبہ نامزد کیا گیا تھا۔ تصویر: آئی این این

ای ایم فارسٹر جن کا مکمل نام ایڈورڈ مورگن فارسٹرتھا، بیسویں صدی کے ممتاز انگریزی ناول نگار، افسانہ نگار، مضمون نویس اور ادبی نقاد تھے۔ وہ اپنے ناولوں میں انسانی رشتوں، طبقاتی تقسیم، نوآبادیاتی نظام اور فرد کی آزادی جیسے اہم موضوعات کو پیش کرنے کیلئےمشہور ہیں۔ ان کے ادبی کارناموں میں ’اے روم وِد آ ویو‘، ’اے پیسج ٹو انڈیا‘اور ’ماریس‘ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ فارسٹر نے ایسے معاشرے پر تنقید کی جہاں طبقاتی برتری، نسلی تعصب اور سماجی رسم و رواج انسانی جذبات اور حقیقی تعلقات پر غالب آ جاتے ہیں۔ 
پیدائش، ابتدائی زندگی اور اعلیٰ تعلیم
ایڈورڈ مورگن فارسٹر یکم جنوری۱۸۷۹ء کو لندن، برطانیہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد ایڈورڈ مورگن لیولین فارسٹر ایک معمار تھے۔ فارسٹر ابھی ایک سال کے بھی نہیں ہوئے تھے کہ۱۸۸۰ء میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد ان کی پرورش بنیادی طور پر ان کی والدہ نے کی۔ ان کی پھوپھی ماریانے تھورنٹن نے بعد میں ان کی اعلیٰ تعلیم میں مدد فراہم کی۔ فارسٹر نے ابتدائی تعلیم کے بعد کینٹ کے علاقے میں واقع ٹون برج اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ ۱۸۹۷ءمیں فارسٹر نے کیمبرج یونیورسٹی کے کنگز کالج میں داخلہ لیا۔ یہاں انہیں اپنی فکری صلاحیتوں کو آزادانہ طور پر پروان چڑھانے کا موقع ملا۔ انہوں نے کلاسیکی ادب اور تاریخ کا مطالعہ کیا اور۱۹۰۱ء میں اپنی ڈگری مکمل کی۔ بعد ازاں انہوں نے تاریخ کی مزید تعلیم کیلئے ایک سال یونیورسٹی میں قیام بھی کیا۔ وہ کیمبرج کے مشہور علمی و مباحثاتی حلقے ’’کیمبرج اپاسٹلز‘‘ (Cambridge Apostles) کے رکن بھی بنے۔ اس حلقے میں آزادانہ بحث، تنقیدی فکر اور روایتی نظریات پر سوال اٹھانے کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: راگنر فرشچ: معاشیات کے پہلے نوبیل یافتہ

ادبی زندگی کا آغاز
کیمبرج سے نکل کرو ہ تحریر و تصنیف میں مصروف ہوگئے۔ ۱۹۰۵ء میں ان کا پہلا ناول ’Where Angels Fear to Tread‘ شائع ہوا۔ اس ناول کے بعد ان کی ادبی شناخت مضبوط ہونے لگی۔ 
ہندوستان اور ہندوستانیوں سے تعلق 
ہندوستان کے ساتھ فارسٹر کا تعلق ان کی زندگی اور ادبی فکر کا ایک اہم باب ہے۔ انہوں نے۱۹۱۲ء میں پہلی مرتبہ ہندوستان کا سفر کیا۔ اس سفر کے دوران انہوں نے ہندوستانی معاشرے، مختلف تہذیبی روایات، مذہبی تنوع اور برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ کے ماحول کا مشاہدہ کیا۔ فارسٹر کے ہندوستانی روابط میں سید راس مسعودکا نام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے ہندوستانی تجربات نے بالخصوص’اے پیسیج ٹو انڈیا‘ کی تخلیق میں اہم کردار ادا کیا۔ اس ناول میں ہندوستان کے بارے میں ان کی معلومات، انسانی مشاہدے اور نوآبادیاتی نظام پر تنقیدی نظر کا امتزاج ملتا ہے۔ 
آخری ایام اور وفات
فارسٹر نے عمر کے آخری حصے میں زیادہ تر وقت مطالعے، تحریر، علمی گفتگو اور ادبی سرگرمیوں میں گزارا۔ ۷؍ جون۱۹۷۰ءکو۹۱؍برس کی عمر میں انگلستان کے شہر کووینٹری میں ان کا انتقال ہوا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK