وہ ایک پھول کے پاس رکی اور اپنے جسم کو سمیٹا۔ اسے تھکن محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے پہلی بار سوچا کہ وہ یہاں کیوں آئی ہے۔ مگر اسے جواب نہیں ملا۔ وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی مگر کمزوری غالب آگئی۔ اس کیلئے یہ سب کسی ایسی آزمائش کی طرح تھا جس کے اصول اسے کبھی سمجھائے ہی نہیں گئے تھے۔
بوڑھا درخت اس صبح بھی جاگ رہا تھا۔
رات بھر شبنم اس کے پتّوں پر ٹھہری رہی تھی، مگر اب مشرق سے اٹھتی ہوئی روشنی باغ کی خاموشی کو آہستہ آہستہ نگل رہی تھی۔
دور پہاڑیوں کے پیچھے سے سورج نکلا، پرندوں نے اپنے گھونسلوں میں جنبش کی، اور ہوا نے درخت کی تھکی ہوئی شاخوں کو چھوا۔ اس کی شاخوں پر سیکڑوں چھوٹے چھوٹے، سخت، ناشپاتی نما محل لٹک رہے تھے۔ کچھ ابھی ننھے تھے، کچھ قدرے بڑے ہو چکے تھے، اور کچھ کی سطح پر پختگی کی پہلی سرخی نمودار ہونے لگی تھی۔ مگر درخت کی نگاہ ایک ہی محل پر ٹھہری ہوئی تھی۔ وہ اس کی شاخ کے آخری سرے پر لٹکا تھا۔ دوسرے محلوں سے ذرا دور، جیسے کسی شاہی خاندان کا آخری گھر ہو۔ اس کی دیواریں سخت تھیں، دہانہ تنگ تھا، اور اندر گہری خاموشی تھی۔ بوڑھے درخت کو کسی کا انتظار تھا۔ اس نے اپنی شاخوں پر بے شمار محل بنتے دیکھے تھے۔ ہر محل کے اندر ایک دنیا آباد ہوتی، پھر کسی دن اس محل کے دروازے کھلتے اور اس کے مکین اپنا مقدر تلاش کرنے نکل جاتے۔ کچھ اپنے مقصد کیلئے نکل جاتے، کچھ راستوں میں گم ہو جاتے۔ یہی اس کی زندگی تھی۔ وہ گھر بناتا تھا، مسافروں کو رخصت کرتا تھا اور پھر ان کے انتظار میں بوڑھا ہوتا جاتا تھا۔ مگر اس آخری محل کیلئے وہ بہت بے چین تھا۔ یہ واحد محل تھا جس کی مکین اب تک نہیں آئی تھی۔ اس نے اپنی شاخ کو جنبش دیتے ہوئے کہا، ’’آجاؤ! موسم زیادہ دیر انتظار نہیں کرتا۔ ‘‘
اور اسی وقت، کسی گوشے میں، ایک ننھی شہزادی نے پہلی بار آنکھیں کھولیں۔ اس کی آنکھوں نے ایک خمیدہ چھت دیکھی، نیچے نرم سی زمین، اور چاروں طرف بے شمار باریک دیواریں جن کے درمیان سے گزر کر روشنی کی ہلکی سی جھلک اندر آرہی تھی۔ اس نے اپنی ٹانگیں ہلائیں، اپنے جسم کو سمیٹا اور کچھ دیر خاموش پڑی رہی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں ہے، کس نے اسے یہاں رکھا ہے۔ اس کے قریب اس کے جیسی ہی کئی ننھی مخلوقات تھیں۔ کوئی ابھی نیند میں تھی، اور کوئی اپنے وجود کی پہلی کمزوری سے لڑ رہی تھی۔
ان میں سے کسی کو اپنے والدین کا نام معلوم نہ تھا۔ کسی نے انہیں گود میں نہیں اٹھایا تھا۔ وہ پیدا ہوتے ہی ایک ایسے قانون کے وارث بن گئے تھے جسے قدرت نے لکھا تھا۔ ایک دن انہیں جانا تھا۔ اپنے لئے نیا محل تلاش کرنا تھا۔ اور اس کیلئے انہیں اس دنیا میں نکلنا تھا جسے انہوں نے کبھی دیکھا نہیں تھا۔
ننھی شہزادی نے اپنی ٹانگیں سیدھی کیں۔ وہ اپنی بے قراری کو سمجھ نہیں پارہی تھی۔ اس نے اپنے ننھے پروں کو جنبش دی جن سے عجیب سی روشنی پھوٹ رہی تھی۔ اس کیلئے پرواز ابھی خواب تھی۔ اطراف میں موجود اس جیسی ہی ایک مخلوق نے اسے ’’مہر‘‘ کہا مگر اسے اپنے نام کا مفہوم نہیں معلوم تھا۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ جس جگہ پیدا ہوئی ہے، وہی اس کا پہلا اور آخری گھر ہے۔ اس کے اردگرد موجود مخلوقات میں کچھ نر تھے اور کچھ مادہ۔ نر اپنی مختصر زندگی اسی محل کے اندر گزارنے والے تھے جبکہ مہر جیسی ماداؤں کیلئے باہر کی دنیا انتظار کر رہی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بوتل کا آسیب
لیکن رخصت ہونے سے پہلے مہر کو ایک امانت ملنی تھی۔ اس محل کے ایک تاریک گوشے میں ایک بوڑھی مادہ بھڑ (Wasp) حرکت کر رہی تھی۔ اس کی زندگی کے چند ہی پل رہ گئے تھے۔ اس کے جسم پر محفوظ باریک زرد ذرات جمع تھے۔ وہ ذرات بظاہر بے قدر تھے؛ اتنے ہلکے کہ ہوا انہیں اڑا کر کہیں بھی لے جا سکتی تھی۔ مگر اس محل کی دنیا میں وہ معمولی ذرات نہیں تھے۔ وہ مستقبل کی کنجی تھے۔ یہ بوڑھی بھڑ کو امانت میں ملے تھے، اور اب اسے یہ امانت ان ننھی مخلوقات کی ماداؤں کے سپرد کرنی تھی۔ مہر اس کے قریب آئی۔
بوڑھی بھڑ نے اپنے جسم پر موجود ننھے ذرات میں سے کچھ مہر کے حوالے کردیئے۔ مہر نے اپنے پروں کو ہلایا، گویا اس کے وجود میں اچانک کوئی نئی ذمہ داری جاگ اٹھی ہو۔ بوڑھی بھڑ نے اسے یاسیت سے دیکھا اور پھر دَم توڑ دیا۔ مہر سمجھ نہیں سکی کہ ابھی ابھی کیا ہوا ہے۔ اسے صرف اتنا محسوس ہوا کہ اس کے پاس ایک ایسی امانت ہے جسے لے کر سفر پر نکلنا ہے۔ وہ حیرت زدہ تھی کہ سب کچھ اتنا تیز رفتار کیوں ہے۔ شاید یہی قدرت کا قانون تھا۔ اس نے اپنے پر کھولے اور جیسے ہی اپنے محل سے نکلی، ہوا نے اسے تھام لیا۔
نیچے پتّوں کی سبز دنیا تھی۔ ان پر دھوپ پڑ رہی تھی، شبنم کے قطرے آئینوں کی طرح چمک رہے تھے، اور ہر شاخ پر زندگی کی کوئی نہ کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی۔ اس نے پہلی بار آسمان دیکھا۔ وہ اڑنے لگی۔
کبھی ہوا اسے اوپر اٹھا دیتی، کبھی وہ کسی پتّے پر اتر کر اپنی تھکن دور کرتی۔ اس نے رنگیں پھول دیکھے، بہتی ندیاں دیکھیں، اڑتے پرندے اور روشن رنگوں والی تتلیاں دیکھیں۔ تبھی مہر کو احساس ہوا کہ وہ اڑ تو رہی ہے لیکن درحقیقت اسے اپنے لئے ایک محل کی تلاش ہے۔ ایک ایسا محل جہاں وہ یہ امانت پہنچا سکے جو اسے بوڑھی بھڑ کے مرتے جسم سے ملی تھی۔
شام کے قریب مہر نے ایک باغ کے کنارے پر کھڑا ایک بوڑھا درخت دیکھا۔ اس کی شاخوں پر لٹکے چھوٹے چھوٹے محلوں میں زندگی کی خاموش رونق تھی۔ کچھ محل ابھی سخت اور سبز تھے، کچھ اپنی پختگی کے قریب پہنچ چکے تھے۔ تبھی اس کی نظر شاخ کے آخری سرے پر ایک چھوٹے سے محل پر پڑی۔
یہ بھی پڑھئے: ایک طبع زاد کہانی: نشوبا اور چاند
ہر نے اس کا چکر لگایا، اور اس کے چھوٹے سے دہانے کے سامنے رُک کر اندر جھانکنے کی کوشش کی۔ وہاں اندھیرا تھا مگر اس اندھیرے میں اسے اپنے سفر کی منزل محسوس ہوئی۔ بوڑھے درخت نے جب مہر کو دیکھا تو ہوا سے کہا کہ آہستہ گزرے، دھوپ سے کہا کہ اس ننھی مسافر پر نرمی سے پڑے، اور شام سے درخواست کی کہ جلدی نہ کرے۔
مہر نے دہانے کے قریب اپنے پروں کو سمیٹا اور ڈوبتے سورج کو دیکھا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ یہ اس کی آخری شام ہے۔ پھر وہ تنگ دہانے میں داخل ہونے لگی۔ اس کا جسم راستے میں الجھا۔ نوکیلے کنارے اس کے پروں سے ٹکرائے۔ اس نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو دونوں پر ٹوٹ گئے۔ درد کی ہلکی سی لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔ مگر امانت پہنچانا ضروری تھا اس لئے آگے بڑھتی رہی۔
اب وہ محل کے اندر تھی۔ اس کے گرد خمیدہ دیواروں پر ننھے ننھے پھول لگے تھے۔ ان کے درمیان چلتے ہوئے مہر کے جسم پر محفوظ زرد ذرات (امانت) مختلف پھولوں سے لگتے اور ان تک منتقل ہوتے گئے۔ مہر کو محل میں کہاں جانا تھا، نہیں معلوم تھا، وہ آگے بڑھتی رہی۔ پھر مہر کو لگا کہ اس کی طاقت کم ہو رہی ہے۔ اس کے پر ٹوٹ چکے تھے، جسم زخمی تھا، سانسیں تیز تھیں، اور اب وہ توانائی بھی نہیں رہی تھی جو اسے اس محل تک لائی تھی۔
وہ ایک پھول کے پاس رکی اور اپنے جسم کو سمیٹا۔ اسے تھکن محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے پہلی بار سوچا کہ وہ یہاں کیوں آئی ہے۔ مگر اسے جواب نہیں ملا۔ وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی مگر کمزوری غالب آگئی۔ اس کیلئے یہ سب کسی ایسی آزمائش کی طرح تھا جس کے اصول اسے کبھی سمجھائے ہی نہیں گئے تھے۔
پھر مہر کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ اور پھر وہ آہستہ آہستہ موت کے آغوش میں چلی گئی۔ اس کا مردہ جسم محل کی خاموش زمین پر پڑا رہ گیا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایک ننھی سی مخلوق کی مختصر سی زندگی ایک تاریک محل میں ختم ہوچکی ہے، سوائے اس بوڑھے درخت کے۔
’’تم آئیں، اور چلی بھی گئیں، ‘‘ بوڑھے درخت نے سرسراتے ہوئے کہا۔
درخت کیلئے یہ پہلا ماتم نہیں تھا۔ اس نے اپنی شاخوں پر نہ جانے کتنی ہی ’’مہر‘‘ کو دم توڑتے دیکھا تھا۔ وہ ان کیلئے محل بناتا تھا۔ مگر انہیں ہمیشہ اپنے پاس زندہ سلامت نہیں رکھ سکتا تھا کیونکہ یہی قدرت کا اصول تھا۔ اس نے اپنے بنائے ہوئے محلوں میں بے شمار ننھے وجودوں کو زندگی پاتے اور نئے محلوں کی تلاش میں سفر کرتے دیکھا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ایک طبع زاد کہانی: عظیم فنکار
رات گہری ہو گئی۔ مہر کا جسم اپنی سابقہ صورت کھونے لگا۔ محل میں موجود قدرتی خامرے اور دوسرے حیاتیاتی عمل اس کے نرم جسم کے اجزا کو تحلیل کرنے میں حصہ لے رہے تھے۔ اور پھر وہ دھیرے دھیرے مٹ گئی مگر اس کی آمد کا اثر باقی تھا۔ اس کے لائے ہوئے زرد ذرات پھولوں کی بارآوری میں اپنا کام کر چکے تھے۔ محل کی دیواروں میں زندگی کی ایک نئی ترتیب پیدا ہو رہی تھی۔
درخت جانتا تھا کہ مہر اب نہیں لوٹے گی مگر اس کا سفر رائیگاں نہیں گیا تھا۔ یہی وہ حقیقت تھی جس نے اس کے اندر امید اور غم کو ایک ساتھ زندہ رکھا ہوا تھا۔
دن گزرتے گئے۔ موسم بدلا۔ دھوپ کی شدت کم ہوئی، راتیں قدرے ٹھنڈی ہوئیں اور باغ میں پکے ہوئے پھلوں کی خوشبو پھیلنے لگی۔ بوڑھے درخت کی شاخوں پر لٹکے محل آہستہ آہستہ اپنی سختی کھونے لگے۔ ان کی سطح کا رنگ بدلنے لگا، اندر رس جمع ہونے لگا اور دیواروں کے پیچھے چھپے بیج پختہ ہونے لگے۔
جس محل میں مہر کا وجود ختم ہوچکا تھا، اس کی رنگت بھی اب بدل رہی تھی۔ محل میں موجود پھول اب ایک نئی حالت میں پہنچ رہے تھے۔ وقت آنے پر وہاں سے مادہ بھڑیں امانت لے کر اپنا سفر شروع کریں گی۔ ایک دن باہر نکلیں گی اور کسی نئے محل کی تلاش میں سفر شروع کریں گی۔ بالکل اسی طرح جیسے مہر نے کیا تھا۔ امانت لے کر طویل سفر۔
ایک صبح مہر کا محل بھی ہر اعتبار سے مکمل ہوگیا مگر اس کی رعنائی دیکھنے کیلئے مہر زندہ نہیں رہی تھی۔ محل کی سطح نرم تھی اور رنگ گہرا ہو چکا تھا۔ اس کے اندر رس بھرا ہوا تھا۔ اس کے گودے میں ننھے بیج ایسے دکھائی دیتے تھے جیسے کسی نے اندھیرے میں ستارے بو دیئے ہوں۔ اس محل کو ہم ’’انجیر‘‘ کہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایک طبع زاد کہانی: عظیم تباہی
وہ بوڑھا درخت دراصل انجیر کا درخت تھا۔ اس کے اندر آنے والی ننھی مہر دراصل مادہ انجیر کی بھڑ تھی۔ اس نے اپنی زندگی کا آغاز ایک انجیر کے اندر کیا تھا، جہاں وہ اپنے ماں باپ سے بے خبر پروان چڑھی تھی۔ اس کے جسم پر موجود زرد ذرات زرِ گل تھے، جنہیں وہ اپنے پہلے گھر سے ساتھ لائی تھی۔ ان ہی کے ذریعے وہ دوسرے انجیر کے پھولوں کی بارآوری میں مدد دے سکی تھی۔
انجیر واحد ایسا پھل ہے جس کے پھول پھل کے اندر ہوتے ہیں۔ نباتیات میں اسے سائکونیم (Syconium) کہا جاتا ہے۔ اس کے نچلے حصے میں موجود تنگ دہانہ، جسے اوسٹیول (Ostiole) کہتے ہیں، مخصوص مادہ بھڑوں کو اندر داخل ہونے دیتا ہے۔ ان بھڑوں کیلئے یہ راستہ اکثر اتنا تنگ ہوتا ہے کہ ان کے پر اور جسم زخمی ہو جاتے ہیں۔ مادہ بھڑ زرِ گل پہنچانے کے بعد انجیر کے اندر ہی مر جاتی ہے۔ یہ باہمی تعلق قدرت کے پیچیدہ ترین رشتوں میں سے ایک ہے۔ مخصوص انجیر کی انواع اور ان کی متعلقہ بھڑیں طویل ارتقائی تاریخ میں ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ رہی ہیں۔ بھڑ پھولوں کی بارآوری میں مدد دیتی ہے۔ ہر مادہ بھڑ مہر جیسے انجام سے گزرتی ہے۔ یہ بھڑیں نئے محل میں زندگی کے اگلے مرحلے کا راستہ کھولتی ہیں۔
کچھ دن بعد ایک لڑکا باغ میں آیا۔ اس نے انجیر توڑی اور اس کا ایک حصہ اپنے منہ میں رکھ لیا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ اس مٹھاس کے پیچھے ایک ایسی داستان تھی جس میں ایک ننھی مسافر نے اپنا آسمان کھو دیا تھا، وہ نہیں جانتا تھا کہ اس پھل میں کبھی ایک ننھی شہزادی مہر آئی تھی، جس نے امانت پہنچانے کے بعد تاریکی میں جان دے دی تھی۔ اسے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ یہ درخت اور ایک ننھی بھڑ ایک دوسرے کے بغیر اپنی نسل کے سلسلے کو آگے نہیں بڑھا سکتے تھے۔
بوڑھا درخت آج بھی خاموش ہے۔ اس کی شاخوں پر نئے محل بن چکے ہیں اور ننھی شہزادیاں امانت کے ساتھ محلوں میں پناہ لے رہی ہیں۔ درخت نے شاخ کے آخری سرے پر لٹکے سب سے چھوٹے محل کو دیکھا۔ وہ اب بھی خالی تھا۔ شاید اس محل کی شہزادی ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ لیکن اسے یقین تھا کہ کہیں، کسی تاریک کوکھ میں، ایک اور شہزادی اپنے پہلے سفر کے خواب دیکھ رہی ہے۔