• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

الیکشن کمشنرز کی شکایت پر کارروائی مداخلت کے مترادف، آر ٹی آئی میں انکشاف

Updated: October 23, 2026, 9:04 PM IST | New Delhi

آرٹی آئی کے ذریعے حاصل کی گئی معلومات میں یہ انکشاف ہوا کہ الیکشن کمشنرز کی شکایت پر کارروائی مداخلت سمجھی جا سکتی ہے، یہ جواب کابینہ سکریٹریٹ کو لکھے گئے خطوط کے بدلے میں دیا گیا۔

A scene of protest against electoral malpractice. Photo: INN
انتخابی بد عنوانی کےخلاف احتجاج کا منظر۔ تصویر: آئی این این

دی انڈین ایکسپریس نے حقِ معلومات (آرٹی آئی) کے تحت ملنے والے ایک جواب کا حوالہ دیتے ہوئے جمعرات کو بتایا کہ کابینہ سکریٹریٹ نے الیکشن کمیشن کے دو الیکشن کمشنرز کی شکایت کے باوجود کمیشن کے ایک افسر کے خلاف کارروائی شروع نہیں کی اور یہ دلیل دی کہ پورے الیکشن پینل کی طرف سے باقاعدہ شکایت کے بغیر ایسا کرنا ’’ مداخلت‘‘ کے مترادف ہو سکتا ہے۔یہ ریکارڈز آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ اور ریٹائرڈ نیوی آفیسر کموڈور لوکیش کے بترا کی ایک درخواست کے جواب میں فراہم کئے گئے ہیں۔ ریکارڈز سے پتہ چلتا ہے کہ الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ۲۹؍ جولائی کو کابینہ سکریٹری ٹی وی سومناتھن کو الگ الگ خطوط لکھے تھے، جن میں سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر منیش گرگ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ہماچل پردیش کیڈر کے آئی اے ایس افسر منیش گرگ کو ۲۸؍ جولائی کو الیکشن پینل کے ایڈمنسٹریشن ڈویژن کا اضافی چارج دیا گیا تھا، کیونکہ ڈپٹی الیکشن کمشنر بھانو پرکاش یتورو ۲۷؍ جولائی سے ۹؍ اگست تک چھٹی پر تھے۔ سندھو اور جوشی نے الزام لگایا کہ چارج سنبھالنے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر گرگ نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنرز، ڈپٹی الیکشن کمشنرز، ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر افسران کے سپرد کردہ کاموں میں تبدیلی کر دی گئی۔ اس نئے حکم نے ستمبر ۲۰۲۵؍ کے گزشتہ حکم کے تحت طے شدہ کاموں کی تقسیم کو بدل دیا تھا۔ 
جبکہ اپنے خطوط میں، سندھو اور جوشی نے الزام لگایا کہ گرگ نے الیکشن کمیشن یا متعلقہ افسران سے مشورہ کئے بغیر یہ تبدیلیاں کیں، حالانکہ انہیں بار بار زبانی اور تحریری ہدایات دی گئی تھیں کہ ایسی تبدیلیوں کیلئے الیکشن پینل سے ’’پیشگی بحث یا منظوری‘‘ حاصل کرنا لازمی ہے۔ بعد ازاں دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، سندھو نے کہا کہ کاموں کی یہ نئی تقسیم کمیشن یا انہیں ’’بتائے یا بحث کئے بغیر‘‘ جاری کی گئی تھی۔ دوسری طرف، جوشی نے لکھا کہ جب انہوں نے ’’ایڈمنسٹریشن ڈویژن سے متعلقہ فائل طلب کی تو وہ انہیں فراہم نہیں کی گئی۔‘‘ پی ٹی آئی کے مطابق، دونوں کمشنرز نے الزام لگایا کہ گرگ کے اقدامات قائم شدہ روایت کے خلاف تھے اور ۲۰۲۳ء کے چیف الیکشن کمشنر اینڈ ادر الیکشن کمشنرز ایکٹ کی دفعات کے خلاف ورزی کرتے ہیں۔
مزید برآں  ۳؍ اگست کے کابینہ سکریٹریٹ کی فائل نوٹ میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ ان شکایتوں پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی رائے مانگی جائے۔ ۴؍ اگست کے ایک نوٹ میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن ایک خود مختار آئینی ادارہ ہے اور دونوں کمشنرز کی طرف سے بھیجے گئے خطوط ان کی انفرادی حیثیت میں ہیں، جو مجموعی طور پر الیکشن پینل کی باقاعدہ شکایت کے زمرے میں نہیں آتے۔ علاوہ ازیں ۲۰۲۳ء کے ایکٹ کی دفعہ ۱۸؍ کا حوالہ دیتے ہوئے نوٹ میں کہا گیا کہ انتخاب سے متعلق ادارے کو جہاں تک ممکن ہو متفقہ طور پر فیصلے کرنے چاہئیں اور اختلافات کی صورت میں فیصلہ اکثریت کی بنیاد پر ہونا چاہئے ۔ دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق کابینہ سکریٹریٹ نے نوٹ کیا کہ پورے الیکشن پینل کی طرف سے کسی باضابطہ پیغام کے بغیر کارروائی کرنا ’’غیر مناسب‘‘ ہوگا اور اسے ’’اس آئینی ادارے کے کام کاج میں مداخلت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘ کابینہ سکریٹریٹ نے ان خطوط کی موصولی کی تصدیق کرنے اور ان کی کاپیاں گیانیش کمار کے دفتر بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
۵؍ اگست کو، سومناتھن نے سندھو اور جوشی کو الگ الگ خطوط بھیج کر ان کی شکایتیں موصول ہونے کی تصدیق کی۔ حقِ معلومات (آرٹی آئی ) کے تحت جاری کردہ ریکارڈ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ چیف الیکشن کمشنر نے بعد میں اس تجویز پر اپنی کوئی رائے دی یا نہیں۔ ۲۳؍ ستمبر کو دی انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا تھا کہ سندھو اور جوشی نے ۱۰؍ مہینوں میں ۱۴؍ بار ایس آئی آرسے متعلق الیکشن پینل کے فیصلوں پر باقاعدہ اعتراض جتایا تھااور کہا تھا کہ ان میں سے کچھ فیصلے ان کے علم میں لائے بغیر لئے گئے تھے۔ ۲۶؍ ستمبر کو، الیکشن پینل نے کہا کہ دونوں کمشنرز کی ہدایات کے بعد گرگ کے جاری کردہ کاموں کی دوبارہ تقسیم کے آرڈر پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ ۲؍ اکتوبر سے ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے کام کاج کےطریقے اور ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خدشات پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرے جاری ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK