Inquilab Logo Happiest Places to Work

سونے کی کلغی والا مرغ

Updated: May 23, 2026, 11:06 AM IST | Sabirah Habib | Mumbai

بوڑھے نے فرش کاٹ دیا۔ پیڑ بڑا ہوتا گیا اور بڑھتے بڑھتے چھت سے جا لگا۔ بوڑھے نے چھٹ بھی کاٹ دی ، پھر کھپریل بھی اتار دیا۔ مگر پیڑ تھا کہ بڑھتا ہی جارہا تھا، یہاں تک کہ آسمان تک پہنچ گیا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

کسی شہر میں ایک بوڑھا اور بڑھیا رہتے تھے۔ وہ دونوں بہت ہی غریب تھے۔ کھانے کو گیہوں کا ایک دانہ بھی نہ تھا۔ تب وہ جنگل گئے اور وہاں سے خوب ڈھیر سے بلوط کے بیج جمع کرکے لائے۔ انہوں نے کھانا شروع کیا۔ کھا ہی رہے تھے کہ پتہ نہیں کیسے بڑھیا کے ہاتھ سے ایک بیج زمین پر گر پڑا اور وہ اندر دھنستا چلا گیا۔ تھوڑے دنوں میں اس بیج سے پودا نکل آیا۔ پھر فرش سے اونچا ہونے لگا۔ جب بڑھیا کی نظر پڑی تو وہ شوہر سے بولی :’’فرش کو کاٹنا چاہئے تاکہ پیڑ اور بڑا ہوجائے۔ کیونکہ جب وہ بڑا ہوجائے گا تو اناج کیلئے ہم کو جنگل نہیں جانا پڑے گا۔ یہیں جھوپڑی میں توڑ کر کھا لیا کریں گے۔‘‘
بوڑھے نے فرش کاٹ دیا۔ پیڑ بڑا ہوتا گیا اور بڑھتے بڑھتے  چھت سے  جا لگا۔ بوڑھے نے چھٹ بھی کاٹ دی ، پھر کھپریل بھی اتار دیا۔ مگر پیڑ تھا کہ بڑھتا ہی جارہا تھا، یہاں تک کہ آسمان تک پہنچ گیا۔
جب ان دونوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں رہا تو بوڑھے نے ایک بورا لیا اور پیڑ پر چڑھ گیا۔ چڑھتا رہا ، چڑھتا رہا اور آسمان تک پہنچ گیا۔ وہاں آسمان پر وہ ادھر ادھر گھومنے پھر لگا۔ پھر اسے سونے کی کلغی والا ایک مرغ نظر آیا اور اس کے پاس ایک چکی رکھی ہوئی تھی۔ اس نے فیصلہ کرنے میں دیر نہیں ۔ فوراً مرغے کو پکڑا ، چکی لی اور نیچے اترنے لگا۔ جب جھوپڑی میں پہنچا تو بیوی سے بولا:’’اب کیا کریں، ہم کھائیں گے کیا؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: شرمیلا میمنا

’’ذرا ٹھہرو‘‘، بڑھیا بولی’’میں چکی چلاتی ہوں۔‘‘اس نے چکی چلانا شروع کی… یہ کیا ؟ اس میں سے تو پکے پکائے کیک اور پراٹھے نکلنے لگے۔ دونوں نے خوب پیٹ بھر کر کھایا۔ اسی وقت پاس سے ایک امیر آدمی گزر رہا تھا۔ وہ ان کی جھوپڑی میں آیا اور بولا ’’تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہوگا؟‘‘  بڑھیا نے جواب دیا : ’’تم کو کیا چاہئے؟ پراٹھے کھاؤ گے؟‘ پھر اس نے چکی اٹھائی اور چلانا شروع کی۔ فوراً ہی کیک اور پراٹھے نکلنے لگے۔ امیر آدمی نے خوب کھایا اور بولا : ’’نانی ماں ۔ یہ چکی میرے ہاتھ بیچ دو۔‘‘
’’نہیں‘‘ وہ بولی ’’میں اسے نہیں بیچوں گی۔‘‘  اس نے ان کی مہربانی کا فائدہ اٹھایا اور رات میں چکی چرالی۔ جب ان دونوں کو پتہ چلا کہ ان کی چکی چرالی گئی  ہے تو انہیں بہت افسوس ہوا اور رونے پیٹنے لگے۔ ’’ٹھہرو‘‘ سونے کی کلغی والا مرغ بولا جو درخت پر بیٹھا سب سن رہا تھا ’’میں اڑ کر جاتا ہوں اور اسے پکڑتا ہوں۔‘‘  پھر وہ امیرآدمی کے محل پر پہنچا، پھاٹک پر بیٹھ گیا وار زور زور سے چلانے لگا:’’ککڑوں کوں ۔ ککڑوں کوں۔ امیر آدمی او امیر آدمی ۔ ہماری چکی واپس کردو جو سونے کی نیلے رنگ کی ہے۔‘‘
جب اس آدمی نے یہ سنا تو اس نے حکم دیا ’’اس مرغ کو فوراً پکڑو اور پانی میں پھینک دو۔‘‘ مرغ کو پکڑا گیا اور اسے ایک کنویں میں پھینک دیا گیا ، تب وہ بولا: ’’ناک او ناک پانی پی لو۔ منہ او منہ پانی پی لو۔‘‘ اور اس طرح سے کنویں کا سارا پانی ختم ہوگیا اور وہ پھر محل کی طرف اڑ گیا۔ بالکنی پر بیٹھا اور پھر زور زور سے چلانے لگا : ’’ککڑوں کوں ۔ ککڑوں کوں۔ امیر آدمی او امیر آدمی ۔ ہماری چکی واپس کردو  سونے کی ۔ نیلی۔ واپس کرو۔ ہماری چکی، سونے کی نیلی ۔ امیر آدمی او امیر آدمی۔‘‘
تب اس آدمی نے اپنے باورچی کو حکم دیا کہ اسے جلتی آگ میں پھینک دیا جائے۔ مرغ کو پکڑا گیا اور اسے جلتی آگ میں پھینک دیا گیا۔ وہ آگ کے بیچ وبیچ جا گرا ۔ تب وہاں سے بولنے لگا: ’’ناک او ناک پانی اگلو۔ منہ او منہ پانی اگلو۔‘‘اور اس طرح سے پانی گرا اور چولہے کی ساری آگ بجھ گئی۔ مرغ کے پر پھڑپھڑائے ۔ وہ محل کی طرف  اڑا اور زور زور سے چلانے لگا: ’’ککڑوں کوں ۔ ککڑوں کوں۔ امیر آدمی او امیر آدمی ۔ ہماری چکی واپس کردو  ۔ سنہری اور نیلی۔ ہماری چکی واپس کرو۔ سونے کی نیلی ۔ امیر آدمی او امیر آدمی۔‘‘ ٹھیک اسی وقت امیر آدمی کے گھر دعوت ہورہی تھی۔ مہمانوں نے سنا کہ مرغ کیا کہہ رہا ہے تو وہ فوراً وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ امیر آدمی ان کے پیچھے پیچھے دوڑا ۔ پھر مرغ نے جلدی سے چکی اٹھائی اور گھر کی طرف اڑ گیا۔
( ترجمہ: صابرہ حبیب)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK