غریبوں کے آشیانوں پر دوہرا وار، زمین مافیا اور افسران میں ملی بھگت کا الزام، بنیلی اور مانڈا میں بھاری پولیس بندوبست میں انہدامی کارروائی۔
EPAPER
Updated: May 23, 2026, 11:57 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai
غریبوں کے آشیانوں پر دوہرا وار، زمین مافیا اور افسران میں ملی بھگت کا الزام، بنیلی اور مانڈا میں بھاری پولیس بندوبست میں انہدامی کارروائی۔
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی)کی حدود میں واقع بنیلی اور اطراف کے علاقوں میں طویل عرصے سے قائم غیر قانونی رہائشی چالیوں کے خلاف میونسپل انتظامیہ نے بالآخر بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ بھاری پولیس بندوبست اور متعدد بلڈوزر کی موجودگی میں شروع کی گئی اس اچانک انہدامی کارروائی سے پورے علاقے میں ہلچل مچ گئی جبکہ دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں خاندان بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق مسلم اکثریتی بستی بنیلی اور مانڈا میں سرکاری زمینوں پر چال مافیا نے دیدہ دلیری کے ساتھ بڑے پیمانے پر غیر قانونی مکانات اور چالیاں تعمیر کر رکھی تھیں۔ کرلا، ساکی ناکہ، گوونڈی، مانخورد اور دیگر علاقوں کے غریب اور متوسط طبقہ کے بیشتر مسلمانوں کو سستے گھروں کا جھانسا دےکر مافیا نے یہ مکانات فروخت کر دئیے۔ اپنا ذاتی گھر ہونے کی چاہ میں شہریوں نے زندگی بھر کی خون پسینے کی کمائی ان گھروں کی خرید و فروخت میں جھونک دی جن پر اب انتظامیہ کا بلڈوزر چل رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غریب نگر میں انہدامی کارروائی سے متاثرین کا برا حال
مقامی بستیوں کے متاثرہ شہریوں نے روتے ہوئے انتظامیہ اور بلڈروں کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا ہے۔ شہریوں کا الزام ہے کہ یہ پورا گورکھ دھندا میونسپل کارپوریشن کے چند کرپٹ افسران اور چال مافیا کی مبینہ ملی بھگت کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا۔ پہلے افسران کی ناک کے نیچے ایسی بستیوں کا جال بچھایا جاتا ہے پھر جب غریب لوگ اپنی جمع پونجی لگا کر یہاں بس جاتے ہیں تو چند برسوں بعدکارپوریشن کو ہوش آتا ہے اور انہدامی کارروائی انجام دی جاتی ہے۔ اس بارے میں ایڈیشنل میونسپل کمشنر یوگیش گوڑسے نے واضح کیا کہ یہ پوری کارروائی قانون اور ضوابط کے دائرے میں رہ کر کی جا رہی ہے اور غیر قانونی تجاوزات کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔
بنیلی کے مقامی مکین عبدالرحمن شیخ نے نہایت ہی افسردہ اور رنجیدہ لہجے میں علاقے کی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ۵ ؍سے ۷ ؍سال کے دوران ممبئی کے مختلف حصوں سے ہزاروں ضرورت مند افراد نے سستے گھروں کی تلاش میں بنیلی، امبرنی اور اطراف کے دیگر علاقوں کا رخ کیا۔ چونکہ یہاں غریب اور متوسط طبقے کو کم قیمت پر چالیوں میں گھر آسانی سے مل رہے تھے اس لئے ایک بڑی آبادی یہاں آکر آباد ہو گئی۔
یہ بھی پڑھئے: ادھورے ممبئی۔ گوا ہائی وے پر ٹول وصولی کے خلاف صحافیوں کا احتجاج
عبدالرحمن شیخ نے بلڈروں کی دھوکہ دہی اور میونسپل انتظامیہ کی دوغلی پالیسی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بلڈروں نے شہریوں کو اندھیرے میں رکھ کر اور گمراہ کر کے یہ مکانات فروخت کئے۔ اب میونسپل انتظامیہ اچانک بیدار ہو کر ان تعمیرات کو غیر قانونی قرار دے رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہاں سیکڑوں کی تعداد میں چالیاں بنائی جا رہی تھیں تب میونسپل کارپوریشن نے ابتدائی مرحلے میں ہی ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟ اس وقت انتظامیہ کیوں خاموش تماشائی بنی رہی؟ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس کسمپرسی کی حالت میں ہماری فریاد سننے والا بھی کوئی نہیں ہے۔