شور کے بارے میں جتنا کچھ دیکھا اور پڑھا ہے، اس کی روشنی میں دہلی کے شور کو اور اس شور کو دیکھنے کیلئے تھوڑا وقت چاہئے جو شام ہوتے ہوتے کچھ دم لینا چاہتا ہے۔
EPAPER
Updated: July 27, 2026, 1:22 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | Mumbai
شور کے بارے میں جتنا کچھ دیکھا اور پڑھا ہے، اس کی روشنی میں دہلی کے شور کو اور اس شور کو دیکھنے کیلئے تھوڑا وقت چاہئے جو شام ہوتے ہوتے کچھ دم لینا چاہتا ہے۔
دہلی میں رہ کر اس ہفتے کیلئے کوئی ایسا کالم لکھنا جو شور سے خالی ہو، ممکن نہیں ہے۔ جب شور وقت کی آواز بن جائے، تو ایسے میں بات چیت بھی شور کی نذر ہو جاتی ہے۔ گفتگو ہی وہ سب سے بہتر وسیلہ ہے جس سے بگڑی ہوئی بات بن جاتی ہے۔ گفتگو کا سلسلہ کبھی دیر سے شروع ہوتا ہے اور کبھی جلد اس کا وقت آ جاتا ہے۔ عام زندگی میں بھی یہی دیکھا گیا ہے کہ گفتگو بہت دیر سے شروع ہوئی لیکن اس درد میں شور نے اس بات کا یقین دلایا کہ گفتگو کا ایک اسلوب یہ بھی ہے۔ شور جس کا اپنا ایک مزاج ہے وہ اپنی انتہائی صورت کے ساتھ ہی خاموش ہونا چاہتا ہے۔ آج دہلی کی شام دوسری شاموں سے کچھ مختلف دکھائی دیتی تھی۔ ٹریفک کم تھی اور ٹریفک کا شور بھی اتنا نہیں تھا، بس ذہن میں ایک شور بپا تھا۔ ممکن ہے جس راستے سے میرا گزرنا ہوا تھا اس راستے پر ٹریفک کم تھی اور ٹریفک کا شور بھی کم تھا۔ یہ شام کچھ بجھی بجھی سی تھی یا دھواں دھواں سی تھی، یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن ایک خاموشی ضرور تھی جو شور کے بعد فطری طور پر ہوا کرتی ہے لیکن میرا یہ تاثر ممکن ہے میرے تجربے کا نتیجہ ہو اور دوسروں کا تجربہ کچھ اس سے مختلف ہو، پھر بھی شام ہوتے ہوتے شور تھم تو نہیں گیا تھا مگر اس میں ایک سرشاری بھی شامل ہوگئی تھی۔ جب خاموشی وقت کا اصول بن جاتی ہے تو شور شرمندہ ہوتا ہے۔ خاموشی کتنی بڑی گویائی ہے، مگر یہ وہ خاموشی نہیں جس کا رشتہ گوتم بدھ کی خاموشی کے فلسفے سے ہے۔ خاموشی کا ایک نام مصلحت بھی ہے اور منافقت بھی۔ لیکن مصلحت اور منافقت دونوں کے بارے میں الگ الگ رائے پائی جاتی ہے۔ مصلحت منافقت سے الگ ہو کر تہذیبی ضرورت بن جاتی ہے تاکہ فوری طور پر کچھ نہ کہہ کے مستقبل کا انتظام کیا جائے۔ منافقت مصلحت نہیں ہوسکتی، یہ تو کوئی اور شے ہے جس سے تہذیبی زندگی کو نقصان پہنچتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: طلبہ کا آندولن چاروں طرف کیوں پھیل گیا؟
شور کے بارے میں عام رائے تو یہی ہے کہ اسے بے ہنگم آوازوں نے بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شور کو ایک ایسی حقیقت قرار دیا جاتا ہے جس میں تدبر اور تفکر کے بجائے جذباتیت ہوتی ہے لیکن شور کی تعریف بتاتی ہے کہ بے ہنگم آوازوں کے اس جنگل میں فکر و خیال کے اتنے پودے ہیں جنہیں مستقبل میں تناور اور سایہ دار درخت میں تبدیل ہو جانا ہے۔ شور سے گھبراہٹ کا ہونا فطری ہے۔ تو دہلی کی وہ شام جو مجھے ملی اور دکھائی دی وہ میری شام تھی۔ راستے بھر یہ سوچتا رہا کہ وہ شور جو ایک منتر کے طور پر جادو جگا رہا تھا وہ جادوئی حقیقت کے ساتھ کہاں سفر کر رہا ہے؟ ڈرائیور سے پوچھا تو اس نے کہا کہ ہاں آج ٹریفک کم ہے۔ ریڈ لائٹ پر رکنا آج کتنا آسان معلوم ہوا۔ ریڈ لائٹ دیکھتے دیکھتے گرین لائٹ میں تبدیل ہوتی رہی۔ کچھ ایسی مخلوق بھی دکھائی دے رہی تھی جو ٹریفک کے شور کے باوجود اپنے بلوں سے نکلتی نہیں تھی۔ اس مخلوق کو اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے پہلی بار دیکھا ہوگا۔
دہلی کی شام روشنیوں کے ساتھ اداس تو نہیں تھی پھر بھی تھکن کا احساس ہوتا تھا کہ جیسے شور کرتے کرتے آواز دم لینا چاہتی ہو۔ شور کو بے ہنگم آوازوں کا جنگل کہنے کی ہمت کہاں سے لائی جائے۔ جب شور ہی سب سے بڑی آواز اور آواز کا مطلب بن جائے تو پھر کسی اور معنی کی جستجو کا کوئی مطلب نہیں۔ شور کے سامنے نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے اور نہ کوئی منافقت۔ اس کے سامنے بس ایک منزل ہوتی ہے۔ شور جو آوازوں کا جنگل ہے، اس کے تمام اختلافات ختم ہو کر ایک سر اور لے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ شور کو جب الگ الگ آوازوں کے ساتھ دیکھا جاتا ہے تو شور کی طاقت کمزور ہو جاتی ہے۔ شور سے گھبرانے والے چاہتے ہیں کہ شور کو الگ الگ آوازوں میں تبدیل کر دیا جائے یعنی انہیں کچھ اس طرح رکھا جائے کہ ان کی الگ الگ پہچان ہوسکے مگر شور بھی اس سیاست سے داخلی طور پر واقف ہے۔ وہ آوازوں کے جنگل کو ہر طرف سے گھیر کر رکھتا ہے تاکہ کوئی اس میں داخل ہو کر الگ کرنے کی کوشش نہ کرے۔
یہ بھی پڑھئے: زبان و ادب کی موجودہ حالت
شور کے بارے میں جتنا کچھ دیکھا اور پڑھا ہے، اس کی روشنی میں دہلی کے شور کو اور اس شور کو دیکھنے کیلئے تھوڑا وقت چاہئے جو شام ہوتے ہوتے کچھ دم لینا چاہتا ہے۔ ایک حساس شہری کے طور پر شور کی طرف دیکھنا اور اسے محسوس کرنا ہماری ضرورت ہے لیکن یہ باخبری کہیں ہمیں بے حس نہ بنا دے۔ بے خبر ہونا اس باخبر ہونے سے زیادہ بہتر ہے جس میں بے حسی اور بے ضمیری کی کوئی صورت نہ ہو۔ شور کی بس ایک ہی تہذیب ہے اور وہ شور ہے۔ شور کے بارے میں یقینی طور پر اسی وقت کچھ کہا جا سکتا ہے جب وہ ایک آواز میں خود کو ظاہر کرے لیکن جیسا کہ لکھا جا چکا ہے شور مختلف آوازوں کا مجموعہ ہے ، اسے ایک آواز بننے میں تھوڑا وقت لگتا ہے۔ شور کی خوبصورتی تو صرف شور میں ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جب شور سنائی دے تو شور کے درمیان بات کرنا ٹھیک نہیں۔ اپنے آپ سے مخاطب ہونا بھی کچھ وقتوں کے لئے موقوف کیا جاسکتا ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی طور پر شور کے درمیان ہے اور وہ اسے ایک حقیقت کے طور پر دیکھتا ہے۔ لیکن زندگی کے دوسرے حقائق کی طرح شور بھی ایک طرح کا نہیں ہوتا۔ اس کی اہمیت اور افادیت کا تعلق اس اخلاقیات سے ہے جس کے بغیر اس زمین پر کسی بھی احتجاج کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ شور کو احتجاج کہنے کی ہمت بہت مشکل سے پیدا ہوئی ہے، اس کی وجہ اور کچھ نہیں کہ لفظ احتجاج اپنی مصلحت پسندی کے سبب معنویت کھو چکا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ لفظ احتجاج اب ہمارے لئے لفظی اور معنوی طور پر اہم نہیں رہا بلکہ کہنا صرف یہ ہے کہ ہماری وقتی اور معمولی ضرورتوں کے سبب یہ لفظ اور رسوا ہوا ہے۔ بڑے مقصد کی دہائی دینا ہمارا مزاج ہے لیکن بڑے مقصد کی خاطر ہمیں جیسا ہونا چاہئے، ویسے تو ہم نہیں ہوسکے۔ لہٰذا شور اور صرف شور نے حوصلہ دیا ہے۔ شور کے درمیان سے ایک آواز ابھرتی ہے، جمہوری نظام میں کوئی ایک شخص ہیرو نہیں ہے۔ ہم سب کے مقاصد ایک ہیں اور مقاصد کی حصولیابی کیلئے تھوڑے فرق کے ساتھ ہماری جدوجہد بھی ایک ہی طرح اہمیت کی حامل ہے۔ ہیرو بنانے کی روایت کتنی جڑ پکڑ چکی ہے۔ اور ہیرو بھی خود کو دنیا کی سب سے نرالی مخلوق سمجھتا ہے۔
راہ کی کوئی سنتا نہ تھا یاں رستے میں مانند جرس
شور سا کرتے جاتے تھے ہم بات کی کس کو طاقت تھی
(میر تقی میر)