Howard Pyleنے ادب، مصوری اور تعلیم کے میدان میں جو خدمات انجام دیں، وہ انہیں امریکی تاریخ کے عظیم تخلیق کاروں میں شامل کرتی ہیں۔
EPAPER
Updated: June 12, 2026, 3:56 PM IST | Mumbai
Howard Pyleنے ادب، مصوری اور تعلیم کے میدان میں جو خدمات انجام دیں، وہ انہیں امریکی تاریخ کے عظیم تخلیق کاروں میں شامل کرتی ہیں۔
ہاورڈ پائل انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز کے ممتاز امریکی مصور، مصنف، مصوری کے استاد اور بچوں کے ادیب تھے۔ ان کی پیدائش۵؍ مارچ۱۸۵۳ء کو امریکی ریاست ڈیلاویئر کے شہر ولمنگٹن میں ہوئی۔ بچپن ہی سے انہیں مصوری، کہانی نویسی اور تاریخ سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ ان کے والدین نے ان کی فنی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کی جس کے نتیجے میں انہوں نے فلاڈلفیا میں فنِ مصوری کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں نیویارک کی آرٹ اسٹوڈنٹس لیگ سے بھی استفادہ کیا۔ اگرچہ ان کی رسمی فنی تعلیم محدود تھی لیکن ان کی غیر معمولی تخلیقی صلاحیت، مشاہدہ اور مسلسل محنت نے انہیں امریکہ کے عظیم ترین مصوروں اور مصنفوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: آرتھر میکن ماڈرن ہارر فکشن کے ممتاز ادیب اور صحافی تھے
ہاورڈ نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز رسائل کیلئے تصویری خاکے اور مضامین لکھنے سے کیا۔ ۱۸۷۸ء میں ان کی تصویری تخلیقات معروف امریکی جریدوں میں شائع ہونا شروع ہوئیں اور جلد ہی وہ ایک کامیاب مصور کے طور پر مشہور ہوگئے۔ ان کی تصاویر محض سجاوٹی نوعیت کی نہیں تھیں بلکہ وہ کہانی کے جذبات، ماحول اور کرداروں کو اس قدر مؤثر انداز میں پیش کرتی تھیں کہ قاری خود کو اس دنیا کا حصہ محسوس کرنے لگتا تھا۔ ان کی فنی خصوصیات میں حقیقت نگاری، منظرکشی، جاندار کردار نگاری اور رنگوں کا مؤثر استعمال شامل تھا۔ اسی وجہ سے ان کی تصویریں امریکی مصوری کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز سمجھی جاتی ہیں۔
ادب کے میدان میں ہاورڈ پائل نے بچوں اور نوجوانوں کیلئے بے شمار شاہکار تخلیق کئے۔ ان کی سب سے مشہور تصنیف ’’ دی میری ایڈونچرز آف رابن ہڈ ‘‘ہے جو۱۸۸۳ء میں شائع ہوئی اور آج بھی کلاسیکی ادب کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے رابن ہڈ کی روایتی داستانوں کو نئے اسلوب، دلکش زبان اور شاندار تصویروں کے ساتھ پیش کیا۔ اس کے علاوہ ان کی مشہور کتابوں میں ’’اوٹو آف دی سلور ہینڈ‘‘، ’’مین آف آئرن‘‘، ’’پیپر اینڈ سالٹ‘‘ اور ’’ دی ونڈر کلاک‘‘ شامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں جرات، شرافت، وفاداری، مہم جوئی اور اخلاقی اقدار کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ثبات اسلامبولی: شام کی پہلی خاتون ڈاکٹر اور تعلیم نسواں کی علمبردار
ہاورڈ پائل کی ایک اہم خدمت قزاقوں (Pirates) کی وہ تصویری شناخت ہے جو آج پوری دنیا میں معروف ہے۔ قزاقوں کے لمبے کوٹ، سر پر بندھی ہوئی پٹیاں، چوڑی ٹوپیاں، تلواریں اور سمندری مہمات کی جو شکل آج فلموں، ناولوں اور مصوری میں دکھائی دیتی ہے، اس کے بنیادی خدوخال پائل ہی نے متعارف کرائے تھے۔ مصوری کی تعلیم اور تربیت کے میدان میں بھی ہاورڈ پائل کا کردار بے حد اہم ہے۔ ۱۸۹۴ءمیں انہوں نے ڈریکسل انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ، سائنس اینڈ انڈسٹری میں تدریس شروع کی، جہاں انہوں نے مصوری کی تعلیم کے روایتی طریقوں میں جدت پیدا کی۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی آزاد درسگاہ قائم کیا۔ ۱۹۱۰ء میں وہ اٹلی کے شہر فلورنس چلے گئے اور وہیں ۹؍ نومبر۱۹۱۱ء کوانتقال کر گئے۔
(وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام)