Inquilab Logo Happiest Places to Work

کچن سے لے کر سوشل میڈیا تک خواتین کا بدلتا ہوا سفر

Updated: July 28, 2026, 12:55 PM IST | Nausheen Ansari | Mumbai

سوشل میڈیا کے وسیع پلیٹ فارمز کے ذریعہ خواتین اپنی منفرد شناخت بنا رہی ہیں۔ اپنے ہنر سے پوری دُنیا کو سکھا رہی ہیں۔ شیف، ٹیوٹر اور برانڈ سیلر جیسے کردار نبھا رہی ہیں۔ اس دوران انہیں محتاط بھی رہنا چاہئے کیونکہ سوشل میڈیا مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ آزمائش بھی لے سکتا ہے۔

Women reach and educate a large number of users through educational videos on social media. Photo: INN
سوشل میڈیا پر ایجوکیشنل ویڈیوز کے ذریعہ خواتین صارفین کی ایک بڑی تعداد تک پہنچتی اور انہیں سکھاتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

خواتین کا سفر کچن کی محدود دُنیا سے نکل کر سوشل میڈیا کے وسیع میدان تک پہنچنا ایک بڑی سماجی اور فکری تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ وہ سفر ہے جس میں ایک عورت نے صرف اپنی جگہ نہیں بدلی بلکہ اپنی پہچان، خود اعتمادی اور اختیار کو بھی نئے سرے سے حاصل کیا۔ آج کی عورت صرف گھر کی ذمہ داریوں تک محدود نہیںبلکہ ڈجیٹل دُنیا میں بھی اپنا لوہا منوا رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب خواتین کی زندگی زیادہ تر گھر، کچن اور خاندان کی دیکھ بھال تک محدود تھی۔ ان کی پہچان ایک اچھی بیوی، ماں، بہن اور بیٹی تک محدود سمجھی جاتی تھی۔ گھر کے کام کاج، بچوں کی پرورش اور خاندان کی خدمت ان کی اولین ترجیح ہوتی تھی، جبکہ ان کے خواب اور صلاحیتیں اکثر نظر انداز ہو جاتی تھیں۔ شام کا وقت خاندان کے ساتھ گزارا جاتا تھا، سب ایک ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتے، خوشی اور غم بانٹتے۔ یہی لمحے رشتوں کو مضبوط بناتے تھے۔ اس دور میں سکون تو تھا مگر مواقع محدود تھے۔

یہ بھی پڑھئے: خاتونِ خانہ اور بدلتا معاشرہ: بے لوث خدمات کی داستان

پھر انٹرنیٹ کے دور کا آغاز ہوا۔ خواتین کو نئی دُنیا سے جڑنے کا موقع ملا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے انسٹاگرام، یوٹیوب، فیس بک، وہاٹس ایپ اور ایکس نے خواتین کو اپنی منفرد شناخت بنانے کا موقع دیا جہا ں وہ اپنی آواز دُنیاتک پہنچا سکتی ہیں۔ آج کی عورت صرف صارف نہیں رہی بلکہ ایک کریٹر، ٹیچر اور انفلوئنسر بھی بن چکی ہے۔ وہ سوشل میڈیا کو مختلف انداز میں استعمال کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر کانٹینٹ کریئٹ کرکے شارٹس، ریلز اور ویڈیوز بنا کر اپنے خیالات اور ہنر کو دُنیا کے سامنے پیش کر رہی ہیں۔ یوٹیوب پر کوکنگ چینلز چلا کر لاکھوں لوگوں کو سکھا رہی ہیں۔ ٹریول ولاگز بنا کر خواتین اپنے سفر کا ویڈیوز بناتی ہیں اور لوگوں کو نئی جگہوں سے روشناس کرواتی ہیں۔ کپڑوں، جیولری، اور گھریلو اشیاء کو آن لائن فروخت کرکے کامیاب بزنس کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا انفلوئنسر بن کر برانڈز کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور اچھی آمدنی بھی کر رہی ہیں۔ کانٹینٹ رائٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، ایڈیٹنگ اور اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے ویڈیوز بنا رہی ہیں جو ایک نئی مہارت ہے۔ وہ صرف اپنے لئے نہیں بلکہ دوسروں کیلئے بھی راستہ ہموار کر رہی ہیں۔ اپنی کہانی، اپنی جدوجہد اور اپنی کامیابی کو اس انداز میں پیش کر رہی ہیں کہ دیگر خواتین بھی ترغیب حاصل کریں۔ یہ قیادت صرف بڑے شہروں یا پڑھی لکھی خواتین تک محدود نہیں رہی بلکہ دیہات اور چھوٹے شہروں کی خواتین بھی سوشل میڈیا کا استعمال بخوبی کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مائیکروویو میں کھانا گرم کرنے کیلئے کون سا کنٹینر استعمال کرنا چاہئے؟

خواتین کا سوشل میڈیا تک پہنچنا جہاں ایک کامیابی کی علامت ہے وہیں یہ ایک نئی ذمہ داری کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ اس نئے کردار کے ساتھ اسے اپنے اثر و رسوخ کو سمجھنا اور اس کا مثبت استعمال کرنا بے حد ضروری ہے۔ اثر و رسوخ اور اس کی اہمیت سوشل میڈیا پر موجود خواتین لاکھوں لوگوں کو متاثر کررہی ہیں۔ یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے کانٹینٹ میں وہی دکھا رہے ہیں جو معاشرہ کیلئے فائدہ مند ہے؟ در حقیقت ریلز اور شارٹس نے زندگی کو تیز اور مختصر بنا دیا ہے۔ چند سیکنڈز کے ویڈیوز انسان کو وقتی خوشی تو دیتے ہیں، لیکن آہستہ آہستہ یہ ایک عادت بلکہ لت بن گئی ہے۔ اب صرف خواتین ہی نہیںبلکہ بچے بھی سوشل میڈیا کا حصہ بن چکے ہیں۔ بچے چھوٹی عمر میں ہی ویڈیوز بنانا، ریلز دیکھنا اور سوشل میڈیا کا استعمال کرنا سیکھ چکے ہیں۔ یہ ایک طرف ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے لیکن دوسری طرف یہ ان کیلئے خطرناک بھی ہے۔ سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ اچھا ہے نہ برا، بلکہ اس کا استعمال اسے مفید یا نقصاندہ بناتا ہے۔ اگر خاتون مثبت، تعلیمی اور بااخلاق مواد پیش کرتی ہے تو یہ اِس کے لئے کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اگر مواد صرف دکھاوے، فیشن یا غیر اخلاقی چیزوں پر مبنی ہو تو اس کے منفی اثرات بھی اتنے ہی گہرے ہیں۔ اس کا غلط استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف وقت کا ضیاع بلکہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: باورچی خانہ گھر کا خاص حصّہ؛ دیکھ ریکھ بھی خاص ہو

آج کل سوشل میڈیا پر بہت سا مواد ایسا ہوتا ہے جو صرف دکھاوے یا شہرت کیلئے بنایا جاتا ہے۔ بعض اوقات خواتین غیر ضروری مقابلے میں پڑ جاتی ہیں، دوسروں کی زندگیوں سے اپنا موازنہ کرتی ہیں، اور اپنی حقیقت سے دور ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، پرائیویسی کا مسئلہ بھی اہم ہے۔ اپنی ذاتی زندگی کو حد سے زیادہ ظاہر کرنا بعض اوقات نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ خواتین اپنی حدود کو پہچانیں اور محتاط رہیں۔ خاص طور پر مسلم خواتین کیلئے ضروری ہے کہ وہ سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت دین اور دنیا کے درمیان توازن قائم رکھیں۔ حیا اور پردے کا خیال رکھیں۔ ایسا مواد شیئر کریں جو فائدہ مند ہو۔ اگر آپ کا ویڈیو کسی کو کچھ سکھائے، آپ کا پیغام کسی کو حوصلہ دے، آپ کا کام کسی کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائے تو یہی اصل کامیابی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایک ایسا راستہ ہے جس میں ترقی بھی ہے اور آزمائش بھی۔ بس ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس کو اپنا غلام بناتے ہیں یا خود اس کے غلام بن جاتے ہیں۔ اگر خواتین شعور، توازن اور ذمہ داری کے ساتھ اس پلیٹ فارم کو استعمال کریں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کو ایک مثبت سمت دے سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK