Inquilab Logo Happiest Places to Work

طلبہ تحریک: دہلی سے دربھنگہ تک

Updated: July 28, 2026, 1:00 PM IST | Dr. Mushtaq Ahmed | Mumbai

ہندوستان کی تاریخ میں طلبہ ہمیشہ تبدیلی کی ایک مؤثر قوت رہے ہیں۔ موجودہ حالات بھی یہ پیغام دے رہے ہیں کہ نوجوان صرف اپنے مستقبل ہی نہیں نظام کی شفافیت کے بارے میں بھی سنجیدہ ہیں۔ اب یہ حکومت، تعلیمی اداروں، عدالتی نظام اور خود طلبہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس اعتماد کو بحال کریں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی نوجوانوں اور طلبہ نے کسی مسئلے کو اپنی اجتماعی آواز بنایا ہے، اس کی بازگشت صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے سماج، سیاست اور حکمرانی کے نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔ آج ایک بار پھر ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ کی بے چینی نمایاں ہو رہی ہے۔ دہلی سے دربھنگہ تک ملک کی کئی ریاستوں کی راجدھانیوں اور بڑے شہروں تک مختلف جامعات اور کالجوں میں امتحانات کی شفافیت، مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، اور خصوصاً NEET کے پرچہ لیک جیسے معاملات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ہر تحریک کی اپنی الگ نوعیت اور حالات ہوتے ہیں، لیکن تاریخ کے بعض واقعات موجودہ منظرنامے کو سمجھنے میں ضرور مدد دیتے ہیں۔

ملک میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مختلف مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے یا امتحانی بے ضابطگیوں کی خبریں سامنے  آتی رہی ہیں۔ ان واقعات نے لاکھوں نوجوانوں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ ایک طالب علم کئی برس محنت کرتا ہے، اپنے خاندان کی امیدوں کا مرکز بنتا ہے، اور جب امتحانی نظام پر سوال اٹھتے ہیں تو صرف ایک امتحان نہیں بلکہ پورا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ اسی لئے طلبہ کے احتجاج کو صرف ایک تعلیمی مسئلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا،یہ انصاف، شفافیت اور مساوی مواقع کے مطالبے کی علامت بھی ہے۔ واضح ہو کہ حالیہ دنوں میں بہار، اتر پردیش ،اترانچل اور جھارکھنڈ کے ساتھ ساتھ دیگر ریاستی مسابقاتی امتحانات کے پرچوں کے لیک ہونے کے معاملات اجاگر ہوتے رہے ہیں ۔افسوسناک بات تو یہ ہے کہ جس وقت دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی جلسے ہو رہے ہیں اس وقت اترانچل میں ٹیکنیکل یونیورسٹی کے پرچے عام ہوگئے ہیں اور امتحان کو رد کرنا پڑا ہے ۔

یہ بھی پڑھئے: شور سا کرتے جاتے تھے ہم، بات کی کس کو طاقت تھی

بہر کیف!تاریخ ہمیں ۱۹۷۳ء   کے گجرات کی یاد دلاتی ہے۔ موربی انجینئرنگ کالج کے ہاسٹل میس کی فیس میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج بظاہر ایک محدود مسئلہ تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس نے وسیع عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ مہنگائی، بدعنوانی اور انتظامی بے اطمینانی جیسے عوامل پہلے ہی موجود تھے، اس لیے ایک چھوٹا سا واقعہ بڑے عوامی ردعمل کا محرک بن گیا۔ بعد میں یہی تحریک ’’نو نرمان آندولن‘‘ کے نام سے جانی گئی اور اس کے سیاسی اثرات پورے ملک نے محسوس کئے۔اسی طرح بہار کی سرزمین بھی طلبہ تحریکوں کی ایک مضبوط روایت رکھتی ہے۔ ۱۹۷۴ء    میں جے پرکاش نارائن کی قیادت میں ابھرنے والی تحریک نے نوجوانوں کو ایک نئی سمت دی۔ اس تحریک کا بنیادی نعرہ ’’سمپورن کرانتی‘‘ تھا، جس میں صرف حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ سماجی، سیاسی اور انتظامی اصلاحات کا تصور پیش کیا گیا۔ طلبہ اس تحریک کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔ بعد کے برسوں میں ایمرجنسی کا نفاذ، جمہوری آزادیوں پر بحث، اور ۱۹۷۷ء  کے عام انتخابات نے ہندوستانی سیاست کا رخ بدل دیا۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ نوجوانوں کی شرکت نے اس دور کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کے حالات ۱۹۷۰ء  کی دہائی سے مختلف ہیں۔ اْس وقت ذرائع ابلاغ محدود تھے، اطلاعات آہستہ پھیلتی تھیں اور تنظیمی ڈھانچہ مختلف تھا۔  آج سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور تیز رفتار مواصلاتی ذرائع نے احتجاج کی نوعیت کو بدل دیا ہے۔اگرچہ ہمارے قومی میڈیا کی شبیہ مسخ ہوئی ہے کہ وہ یک طرفہ پروپیگنڈہ کو فروغ دے رہا ہے اور عوام کے سنگین مسائل کو نظرانداز کررہا  ہے۔مگر اب ایک واقعہ چند گھنٹوں میں قومی بحث بن سکتا ہے۔ اسی لئے موجودہ طلبہ تحریک کی رفتار اور اظہار کے ذرائع ماضی سے مختلف ہیں، اگرچہ نوجوانوں کی بنیادی خواہشات، انصاف، شفافیت اور مساوی مواقع آج بھی وہی ہیں۔نیٹ (میڈیکل)کے پرچہ لیک کے معاملے نے ایک اہم سوال پیدا کیا ہے کہ کیا ہمارا امتحانی نظام اتنا مضبوط ہے کہ کروڑوں نوجوان اس پر بلا تردد اعتماد کر سکیں؟ اگر کسی امتحان کے بارے میں مسلسل شکوک و شبہات پیدا ہوں تو اس کا اثر صرف ایک بیچ پر نہیں بلکہ پورے نظام تعلیم پر پڑتا ہے۔ اس لئے حکومت، امتحانی اداروں اور متعلقہ ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیقات، احتساب اور اصلاحات کے ذریعے اعتماد بحال کریں۔ محض انتظامی وضاحتیں ہمیشہ کافی نہیں ہوتیں۔شفاف اور قابلِ اعتماد اقدامات زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔ دوسری طرف طلبہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے احتجاج کو آئینی، پْرامن اور تعمیری دائرے میں رکھیں۔ ہندوستان کی جمہوری روایت اختلافِ رائے کے اظہار کا حق دیتی ہے، لیکن اس کے ساتھ نظم و ضبط اور عوامی املاک کے تحفظ کی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پائیدار تبدیلیاں زیادہ تر وہی تحریکیں لاتی ہیں جو اخلاقی برتری، عوامی اعتماد اور پْرامن جدوجہد کو برقرار رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: طلبہ کا آندولن چاروں طرف کیوں پھیل گیا؟

ملک کی راجدھانی دہلی سے بہار کے پٹنہ اور دربھنگہ تک اور دیگر ریاستوں میںبھی اگر نوجوان ایک ہی مسئلے پر آواز بلند کر رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امتحانی شفافیت کا سوال علاقائی نہیں بلکہ قومی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ بہار جیسے صوبے میں، جہاں لاکھوں نوجوان مسابقتی امتحانات کو اپنی سماجی اور معاشی ترقی کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں، ایسے مسائل مزید حساس ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس موضوع پر بحث صرف طلبہ تک محدود نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں اور پالیسی سازوں تک پھیل رہی ہے۔ہر دور کی تحریک اپنے نتائج خود طے کرتی ہے۔ ۱۹۷۰ء کی دہائی کی تحریکوں نے اپنے مخصوص تاریخی، سیاسی اور معاشی حالات میں جنم لیا تھا۔ موجودہ طلبہ تحریک بھی اپنے الگ حالات میں آگے بڑھ رہی ہے۔ اس لئے یہ پیش گوئی کرنا کہ اس کے نتائج بھی ویسے ہی ہوں گے، درست تجزیہ نہیں ہوگا۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر امتحانی شفافیت، جواب دہی اور نوجوانوں کے اعتماد کے مسائل بروقت حل نہ کئے گئے تو ان کے اثرات تعلیمی دائرے سے نکل کر وسیع سماجی اور سیاسی مباحث کا حصہ بن سکتے ہیں۔

مختصر یہ کہ ہندوستان کی تاریخ میں طلبہ ہمیشہ تبدیلی کی ایک مؤثر قوت رہے ہیں۔ موجودہ حالات بھی یہ پیغام دے رہے ہیں کہ نوجوان صرف اپنے مستقبل ہی نہیں بلکہ نظام کی شفافیت کے بارے میں بھی سنجیدہ ہیں۔ اب یہ حکومت، تعلیمی اداروں، عدالتی نظام اور خود طلبہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس اعتماد کو بحال کریں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ تحریک صرف ایک امتحان کے مسئلے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ تعلیمی اصلاحات کی نئی بنیاد بھی بن سکتی ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK