سچ پوچھیں تو اب یہ دنیا مجھے کسی قید خانے سے کم نہیں لگتی! معاشرے کے انصاف پسند اور دانشمند لوگوں نےمجھے اپنا دشمن سمجھ لیا ہے۔ لیکن مَیں کہنا چاہتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ انسان خوبصورتی اور دلکشی کے نام پر صحت سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے قدرتی رنگوں کو ترجیح دے اور میرے محفوظ استعمال کے اصولوں کو سمجھے۔
کیا کروں، اس رنگ برنگی دنیا میں جہاں لوگ ہر طرح کے خوشگوار رنگوں سے آراستہ ہیں وہیں لوگ میرے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ چکے ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مَیں ہاتھ دھونے کے باوجود لوگوں کے ہاتھوں پر اپنا نشان چھوڑ جاتا ہوں۔ اب آپ مجھے مہندی سمجھنے کی غلطی نہ کریں، مَیں ہوں ’’آرٹی فیشل فوڈ کلر۔ ‘‘ لوگوں نے زمانہ قدیم ہی سے قدرتی رنگوں کا استعمال شروع کر دیا تھا۔ ان رنگوں نے سادہ نظر آنے والے پکوانوں میں چار چاند لگا دیئے تھے۔ شاہی دستر خوان ہو یا عام آدمی کا غریب خانہ، ہر جگہ میرا ہی جادو تھا۔ مجھے حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ آج کے لوگ میرے آبا و اجدادکی اہمیت پر درجنوں سطروں کا مضمون لکھ دیتے ہیں لیکن مجھ سے نظریں چرانے لگے ہیں۔ لیکن آپ کو کیا لگتا ہے، کیا میرا سفر آسان تھا؟ مجھے اتنی آسانی سے نہیں اپنایا گیا۔ جب پکوان صرف پیٹ بھرنے کے بجائے دل لبھانے کیلئے پیش کئے جانے لگے تو سب سے پہلے میرا استعمال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: وائس ریکارڈر کی آپ بیتی
شادیوں، جلسوں اور تقریبات میں پکوان لوگوں کے وقار سے منسلک ہو گئے۔ اب سورج روشنی دے کر بھی کتنی ہی روشنی دے، رات تو آئے گی۔ لہٰذا جیسے ہی قدرتی رنگوں کی کمی نے لوگوں کو پریشان کیا وہ کپڑوں، کھلونوں اور دیواروں کے رنگوں کا استعمال پکوانوں میں کرنے لگے۔ ہاں ! لیکن سائنس کے دور میں میرے محفوظ متبادل نے مجھے معاشرے میں سر اٹھا کر چلنے کے لائق بنا یا۔ پھر بھی لگتا ہے جیسے میرے نقصانات نے لوگوں کے دماغ میں مستقل جگہ بنالی ہے۔ مَیں مانتا ہوں میری وجہ سے آنتیں خراب ہوتی ہیں، جلد کی بیماریاں ہوتی ہیں، الرجک ری ایکشن سے دمہ اور کینسر جیسی بڑی بیماریوں کے ابتدا میں بھی میرا بڑا حصہ ہے لیکن میرے فائدے بھی ہیں، جیسے مَیں آپ کے پکوان کو پُرکشش بناتا ہوں ! اس کے علاوہ اور کوئی فائدہ مجھے نہیں معلوم! صحت کے اعتبار سے غالباً مَیں فائدہ مند نہیں ہوں اس لئے انسانوں نے مجھ سے دوری اختیار کرلی ہے۔ میرے استعمال پر کسی قیدی کی طرح پابندی لگ چکی ہے اور درجن بھر اصول و ضوابط سے میرا جینا دو بھر ہو رہا ہے۔ سچ پوچھیں تو اب یہ دنیا مجھے کسی قید خانے سے کم نہیں لگتی! معاشرے کے انصاف پسند اور دانشمند لوگوں نےمجھے اپنا دشمن سمجھ لیا ہے۔ لیکن مَیں کہنا چاہتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ انسان خوبصورتی اور دلکشی کے نام پر صحت سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے قدرتی رنگوں کو ترجیح دے اور میرے محفوظ استعمال کے اصولوں کو سمجھے۔ مَیں مکمل طور پر برا نہیں ہوں مگر میرا غیر ضروری استعمال یقیناً نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مَیں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ دلکش اور خوبصورت رنگوں سے سجی یہ دنیا تبھی حسین رہ سکتی ہے جب اس کی رونق کے ساتھ انسانوں کی صحت بھی محفوظ رہے۔
کالم نگاروامناراؤ اتھاپے ہومیوپیتھی کالج، احمدنگر میں بی ایچ ایم ایس کے سال سوم کے طالب علم ہیں