• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیکابو: آئنسٹائن وائلن بجارہے تھے اور مجھ پر نیند طاری ہورہی تھی

Updated: November 06, 2026, 7:24 PM IST | Atif Adnan Sheikh Sadiq | Mumbai

ایک بار اسی طرح مَیں گیلیلیو گلیلیکے شہر بھی پہنچ چکا تھا۔ اس لئے دوڑتا ہوا ایسی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں معلوم ہوسکے کہ مَیں کون سے دَور میں ہوں، اور پھر ایک جگہ کیلنڈر پر جولائی ۱۹۵۴ء لکھا نظر آیا۔ بس پھر کیا تھا، قریب سے گزر رہے ایک شخص سے پوچھا، ’’کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آئنسٹائن کہاں رہتے ہیں ؟‘‘

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

رات کے تقریباً گیارہ بج رہے تھے۔ مَیں بستر پر لیٹا اسکرول کررہا تھا کہ ایک ویڈیو سامنے آیا جو دنیا کے معروف سائنسداں البرٹ آئنسٹائن کے متعلق تھا۔ ویڈیو میں ان کی بایوگرافی تھی۔ جیسے جیسے مجھے ان کے بارے میں معلومات ملتی گئیں، اُن سے ملاقات کی خواہش بھی بڑھتی گئی۔ مَیں سوچنے لگا کہ کاش! اُن سے مل سکتا اور ان کی زبانی ان کی تحقیقات کے بارے میں سن سکتا۔ 
ابھی انہی خیالوں میں گم تھا کہ موبائل اسکرین سے تیز روشنی نکلی۔ میری آنکھیں چندھیا گئیں اور جب آنکھیں کھولیں تو مَیں ایک اجنبی شہر میں کھڑا تھا۔ ایسا میرے ساتھ دوسری مرتبہ ہوا تھا۔ ایک بار اسی طرح مَیں گیلیلیو گلیلیکے شہر بھی پہنچ چکا تھا۔ اس لئے دوڑتا ہوا ایسی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں معلوم ہوسکے کہ مَیں کون سے دَور میں ہوں، اور پھر ایک جگہ کیلنڈر پر جولائی ۱۹۵۴ء لکھا نظر آیا۔ بس پھر کیا تھا، قریب سے گزر رہے ایک شخص سے پوچھا، ’’کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آئنسٹائن کہاں رہتے ہیں ؟‘‘ اس نے مجھے یوں دیکھا جیسے مَیں احمق ہوں، پھر اطمینان سے بتایا کہ وہ پرنسٹن کی مرسر اسٹریٹ پر مکان نمبر ۱۱۲؍ میں رہتے ہیں۔ 
مجھے نہیں معلوم تھا کہ مَیں اس دَور میں کتنی دیر ٹھہر سکوں گا اس لئے ایک بھی لمحہ ضائع کئے بغیر مکانوں اور راستوں پر نصب نمبر اور نیم پلیٹس دیکھتے ہوئے تقریباً دوڑ رہا تھا، تبھی مطلوبہ مکان مل گیا، مَیں نے دروازے پر دستک دی۔ کچھ دیر بعد ایک بزرگ باہر آئے۔ سفید بکھرے بال اور بڑی بڑی مونچھیں۔ یہ وہی تھے جنہیں مَیں بچپن سے کتابوں میں دیکھتا آیا تھا۔ کچھ دیر تک تو مَیں کچھ کہہ ہی نہیں سکا۔

یہ بھی پڑھئے: پیکابو: ملکہ وکٹوریہ کی اُردو زبان سے دلچسپی دیکھ کر مَیں دَنگ رہ گئی

’’یونہی دیکھتے رہوگے؟ یا کچھ بتاؤ گے بھی؟‘‘ ان کہ بولنے پر یوں لگا جیسے مَیں کسی ٹرانس سے نکل آیا ہوں۔ کسی اے آئی اسسٹنٹ کی طرح میری زبان سے الفاظ یوں ادا ہوئے، ’’سر! مَیں ہندوستان سے ہوں، آپ سے ملنے کی خواہش یہاں لے آئی ہے۔ ‘‘ 
انہوں نے مسکراتے ہوئے مجھے دروازے سے آنے کی جگہ دی۔ اندر داخل ہوا تو چاروں طرف کتابیں، کاغذات اور سائنسی فارمولے نظر آئے۔ 
مَیں نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا، ’’سر! کیا آپ ہمیشہ تجربات کرتے رہتے ہیں ؟‘‘ 
’’جی ہاں ! مجھے بچپن سے ہی نئی چیزیں جاننے اور قدرت کے راز سمجھنے کا شوق تھا۔ ‘‘
میرا اگلا سوال تھا، ’’آپ کو سائنس میں اتنی دلچسپی کیسے پیدا ہوئی؟‘‘ انہوں نے بتایا کہ ’’جب مَیں پانچ سال کا تھا تو میرے والد نے مجھے ایک قطب نما دکھایا جس کی سوئی ہمیشہ ایک خاص سمت میں رہتی تھی۔ مَیں سوچتا تھا کہ اسے کون سی طاقت ایک ہی سمت رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ بس اسی نے مجھ میں سائنس کا شوق پیدا کیا۔ ‘‘ چونکہ موبائل اسکرین کی تیز روشنی کے بعد مَیں یہاں پہنچا تھا، اس لئے سائنسداں سے سوال کیا کہ ’’روشنی کے بارے میں آپ نے کیا تحقیق کی تھی؟‘‘
انہوں نے مجھے غور سے دیکھا، غالباً میرا چہرہ پڑھ رہے تھے، پھر یوں لگا جیسے وہ کسی راز سے واقف ہوگئے ہوں۔ عظیم سائنسداں نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’مَیں نے دنیا کو سمجھایا کہ روشنی چھوٹے چھوٹے توانائی کے پیکٹوں کی صورت میں بھی کام کرتی ہے۔ انہیں فوٹون کہا جاتا ہے۔ میری اس تحقیق سے فوٹو الیکٹرک اثر کو سمجھنے میں مدد ملی۔ اسی کام پر مجھے ۱۹۲۱ء کا طبیعیات کا نوبیل انعام ملا تھا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: پیکابو: ابنِ صفی صاحب! احمق جاسوس بنانے کا خیال کہاں سے آیا؟

پھر مجھے لگا کہ منظر دھندلا رہا ہے۔ مَیں نے اپنے آپ سے کہا، ’’کیا یہ سب ختم ہونے والا ہے؟‘‘
مَیں موقع نہیں گنوانا چاہتا تھا اس لئے مشہور فارمولے کے بارے میں پوچھنا سب سے اہم خیال کیا، ’’آپ کا مشہور فارمولا E=mc² کیا بتاتا ہے؟‘‘
انہوں نے سمجھایا، ’’یہ فارمولا بتاتا ہے کہ مادے اور توانائی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ بہت تھوڑے مادے میں بھی بہت زیادہ توانائی موجود ہوسکتی ہے۔ ‘‘
تبھی میری نظر پاس رکھے وائلن پر پڑی۔ شاید انہوں نے میرا سوال بھانپ لیا، اور کہنے لگے، ’’مجھے وائلن بجانا پسند ہے۔ موسیقی ذہن کو سکون دیتی ہے۔ ‘‘ 
’’سر! کیا آپ ٹائم ٹریول پر یقین رکھتےہیں ؟‘‘
میرے سوال پر وہ سنجیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا ’’مَیں مستقبل میں ٹائم ٹریول پر یقین رکھتا ہوں، ماضی میں نہیں۔ اور... ‘‘ انہوں نے وقفہ لیا، مجھے غور سے دیکھا، اور مسکراتے ہوئے کہنے لگے، ’’مجھے لگتا ہے کہ تم مستقبل سے ماضی میں آئے ہو۔ ‘‘ یوں لگا جیسے انہیں کسی راز کا سراغ مل گیا ہوں۔ 
’’اب تمہیں جانا چاہئے۔ ‘‘ قدرے سخت لہجہ میں کہتے ہوئے وہ اپنے وائلن کی طرف بڑھے۔ 
’’لیکن...‘‘ مَیں نے منہ کھولا ہی تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر وائلن بجانے لگے۔ اس قدر خوبصورت دھن کہ مَیں سوال بھول گیا۔ اور مجھ پر نیند طاری ہونے لگی۔ 
یوں لگا جیسے ہر طرف گہری خاموشی چھا گئی ہو۔ پھر ایک آواز آئی، ’’بچے! سوال پوچھنے کی عادت کبھی ترک نہیں کرنا۔ ‘‘ اور میری آنکھیں کھل گئیں ۔ 
کالم نگار سرکاری امتحان ایس ایس سی کی تیاری کر رہے ہیں اور تعلیمی انقلاب کے سابق طالب علم ہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK