مگر یہ کیا؟ ان کی شخصیت بدل رہی ہے۔ دبلے پتلے نوجوان کی ہیئت تبدیل ہونے لگی، اور اب میرے سامنے ڈاکٹر کلام کا ’اَپ گریڈیڈ‘ ورژن تھا۔
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 6:37 PM IST | Farhat Shaikh | Mumbai
مگر یہ کیا؟ ان کی شخصیت بدل رہی ہے۔ دبلے پتلے نوجوان کی ہیئت تبدیل ہونے لگی، اور اب میرے سامنے ڈاکٹر کلام کا ’اَپ گریڈیڈ‘ ورژن تھا۔
لیکچر کے بعد میم نے بتایا کہ ۱۵؍ اکتوبر کو ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے یومِ پیدائش کے موقع پر مضمون نویسی کا مقابلہ ہوگا۔ مَیں سوچنے لگی کہ اتنی عظیم شخصیت کے بارے میں ایسا کیا لکھوں کہ جو عام مضامین سے مختلف ہو! سوچتے سوچتے لگا کہ مَیں انتہائی تیز رفتار سے کئی سال پیچھے جارہی ہوں اور اگلے ہی لمحے مَیں رامیشورم کی ایک پرانی گلی میں کھڑی تھی۔ قریب سے سمندری لہروں کی ہلکی ہلکی سی آواز آرہی تھی اور ہوا میں نمکین سی نمی پھیلی تھی۔ مَیں سوچنے لگی کہ کیا اس بوسیدہ گلی سے کسی عظیم سائنسداں کے سفر کا آغاز ممکن ہے؟
تبھی ایک دبلا پتلا نوجوان اخباروں کا بنڈل اٹھائے تیزی سے میری طرف آیا۔ مجھے ۱۰۰؍ فیصد یقین تو نہیں تھا لیکن اندھیرے میں تیر چلانے کے مصداق پوچھ لیا، ’’کیا آپ عبدالکلام ہیں؟‘‘
انہوں نے مسکراتے ہوئے گردن ہلائی۔ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا، ’’لیکن آپ تو اخبار بیچ رہے ہیں !‘‘ انہوں نے مجھے یوں دیکھا جیسے اخبار بیچنا کوئی چھوٹا کام ہو۔ مَیں نے خفت مٹانے کیلئے کہا، ’’کیا مَیں کچھ وقت آپ کے ساتھ گزار سکتی ہوں ؟‘‘
انہوں نے سائیکل آگے بڑھاتے ہوئے گویا مجھے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ شرمندگی اس قدر تھی کہ مَیں راستہ بھر خاموش رہی۔ ان کے گھر پہنچی تو کتابوں میں پڑھی ہوئی باتیں صد فیصد درست ثابت ہوئیں۔ چھوٹا سا سادہ مکان۔ مَیں نے سوچا تھا کہ شاید سائنس داں بننے کی لگن میں انہوں نے گھر میں لیبارٹری بھی بنائی ہوگی۔ مَیں نے نظریں دوڑائیں۔ نہ کمپیوٹر، نہ روبوٹ، نہ راکٹ! مَیں نے آہستہ سے پوچھا، ’’سر، لیبارٹری کہاں ہے؟‘‘ انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا، ’’فی الحال کتابیں ہی کافی ہیں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: پیکابو: سلطان شمس الدین التمش کا مہمان بننے پر مجھے فخر محسوس ہورہا تھا
ناشتے کے بعد انہوں نے بتایا کہ انہیں ریاضی اور فزکس میں بہت دلچسپی ہے اور وہ ایرو اسپیس انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرکے ہندوستان کے خلائی و دفاعی پروگراموں میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ مگر یہ کیا؟ ان کی شخصیت بدل رہی ہے۔ دبلے پتلے نوجوان کی ہیئت تبدیل ہونے لگی، اور اب میرے سامنے ڈاکٹر کلام کا ’اَپ گریڈیڈ‘ ورژن تھا۔ جانے مجھے ایسا کیوں لگا کہ شاید انہوں نے اپنے خواب پالئے ہیں اسلئے مَیں نے فوراً پوچھا، ’’کیا راکٹ بنانا مشکل ہے؟‘‘ انہوں نے کہا، ’’بہت۔ ‘‘
مَیں نے پوچھا، ’’کتنا؟‘‘ جیسے مَیں راکٹ بنا کر ہی دَم لوں گی۔ وہ سادگی سے مسکرائے اور کہنے لگے، ’’ثابت قدمی اور مستقل مزاجی ہو تو تم بھی راکٹ بنا سکتی ہو۔ مگر...‘‘ مَیں نے ان کی نظروں کو فالو کیا جو میرے موبائل فون پر تھیں۔ مَیں نے جلدی سے فون کو اپنے دوپٹے میں چھپا لیا۔ پھر سوچا، ’’کچھ خوابوں کیلئے موبائل سے زیادہ محنت درکار ہوتی ہے!‘‘
کچھ دیر بعد ہماری گفتگو ہندوستان کے خلائی پروگرام تک پہنچ گئی۔ مَیں نے پوچھا، ’’سر، جب راکٹ کامیابی سے لانچ ہوا تو آپ کو کیسا لگا؟‘‘
’’بہت خوشی ہوئی لیکن اس سے زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ مَیں نے ناکامیوں سے زیادہ سیکھا ہے۔ ‘‘ تبھی کھڑکی کے باہر کسی بچے کی آواز آئی، ’’یہ میزائل مین آف انڈیا‘‘ کا گھر ہے۔ مَیں نے انہیں دیکھا تو وہ خاموشی سے مجھے ہی دیکھ رہے تھے۔ مجھے محسوس ہوا کہ اتنی اہم کامیابیوں کے باوجود ان کے انداز میں کوئی تکبر نہیں تھا۔ مَیں نے پوچھا، ’’آپ اتنے سادہ کیسے ہیں ؟‘‘ کہنے لگے، ’’انسان کی اصل پہچان اس کے عہدے سے نہیں، اس کے کردار اور دوسروں کیلئے اس کے کام سے ہوتی ہے۔ ‘‘ سورج ڈھلنے لگا تو مَیں نے آخری سوال پوچھا، ’’آپ کی سب سے بڑی کامیابی کیا ہے؟ راکٹ، میزائل یا صدرِ جمہوریہ بننا؟‘‘
ان کی نظریں ڈوبتے سورج پر تھی، ’’اگر میرے ملک کا کوئی نوجوان بڑا خواب دیکھے، محنت کرے اور اپنے ملک کیلئے کچھ کرنا چاہے، تو میرے لئے اس سے بڑی کامیابی کوئی نہیں۔ ‘‘ یہ سن کر میرے دل میں ان کیلئے احترام مزید بڑھ گیا۔ تبھی لگا کہ سمندری ہواؤں سے آنے والا کوئی تنکا میری آنکھوں میں چلا گیا ہے۔ آنکھیں ملیں تو دیکھا کہ واپس اپنی کلاس میں تھی۔
یہ بھی پڑھئے: پیکابو: ہجوم جانتا ہی نہیں تھا کہ یہی شخصیت مستقبل میں مہاتما کہلائے گی
’’فرحت! کہاں کھوئی ہوئی ہو؟‘‘
ساتھ والی بینچ پر بیٹھی بہن فاطمہ مجھے کافی دیر سے آواز دے رہی تھی۔ مَیں نے چونک کر اسےدیکھا۔
وہ کہنے لگی، ’’کب سے آواز دے رہی ہوں ! کہاں گم ہو؟ میم نے مضمون نویسی کے مقابلے میں حصہ لینے کو کہا ہے۔ چلو، ہم بھی حصہ لیتے ہیں !‘‘
مَیں نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’فاطمہ! مَیں تو ابھی ڈاکٹر عبدالکلام سے مل کر آئی ہوں !‘‘ وہ حیرت سے مجھے دیکھنے لگی۔ ’’کیا تمہارا دماغ چل گیا ہے؟‘‘
مَیں نے ہنستے ہوئے کہا، ’’بس، ذرا خیالوں کی ٹائم مشین میں تھی!‘‘ فاطمہ نے سر پکڑ لیا، ’’اب حقیقت کی دنیا میں لوٹ آؤ۔ ورنہ مقابلے سے پہلے ہی ہمارے خوابوں کا راکٹ لانچ ہونے سے رہ جائے گا!‘
کالم نگار جے ایم سی ٹی پولی ٹیکنک (ناسک) میں کمپیوٹر انجینئرنگ کی سال ِسوم کی طالبہ ہیں اور تعلیمی انقلاب کی سابق اسٹوڈنٹ ہیں۔