• Fri, 16 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بوتل کا آسیب

Updated: October 16, 2026, 6:50 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

اسکاٹ لینڈ کے معروف ادیب رابرٹ لوئی اسٹیونسن کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی بوٹل اِمپ‘‘ The bottle Impکا اردو ترجمہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ہوائی جزیرے پر کیوے نامی ایک شخص رہتا تھا۔ وہ غریب مگر بہادر اور محنتی تھا۔ وہ سمندر کو اچھی طرح سمجھتا تھا۔ کچھ عرصہ جزیرے کی بھاپ سے چلنے والی کشتیوں پر کام کرنے کے بعد وہ وہیل مچھلیوں کا شکار کرنے والی کشتی چلانے لگا۔ لیکن اس کے دل میں ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ دنیا کے بڑے شہر دیکھے جائیں۔ چنانچہ ایک دن وہ ایک جہاز پر سوار ہو کر سان فرانسسکو پہنچ گیا۔ یہاں کی دولت اور شان و شوکت نے اسے حیران کر دیا۔ 
ایک روز وہ شہر کی ایک پہاڑی پر ٹہل رہا تھا جہاں امیروں کے شاندار مکان تھے۔ ایک مکان نے خاص طور پر اس کی توجہ کھینچ لی۔ وہ بہت بڑا، خوبصورت اور آرام دہ تھا۔ کیوے نےسوچا، ’’کاش کبھی میرے پاس بھی ایسا مکان ہو!‘‘ تبھی اس کی نظر ایک عجیب آدمی پر پڑی جو مکان کے دروازے کے قریب کھڑا تھا۔ آدمی نے اسے پاس بلایا اور اندر لے گیا۔ گھر اندر سے اور بھی شاندار تھا مگر اسے سب سے زیادہ حیرت میز پر رکھی ایک شیشے کی بوتل کو دیکھ کر ہوئی۔ بوتل عام شیشے کی تھی مگر اس کے اندر ایک چھوٹا سا سایہ کبھی دھوئیں اور کبھی شعلے کی طرح حرکت کرتا تھا۔ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ کیوے نے پوچھا۔ 
آدمی نے بتایا کہ یہ عام بوتل نہیں۔ اس کے اندر ایک آسیب ہے جو اپنے مالک کی خواہش پوری کر سکتا ہے۔ دولت، شہرت، محبت، مکان، جو چاہو، مل سکتا ہے مگر بوتل کی ایک خوفناک شرط ہے۔ جو شخص یہ بوتل اپنے پاس رکھتے ہوئے مرے گا، اس کی روح جہنم میں جائے گی۔ اس سے نجات کا صرف ایک راستہ ہے: بوتل کسی دوسرے شخص کو اس قیمت سے کم قیمت پر بیچنی ہوگی جس پر اسے خریدا گیا تھا۔ اور یہ سودا صرف سکّے میں ہو سکتا ہے۔ نہ بوتل توڑی جا سکتی ہے، نہ پھینکی جا سکتی ہے، نہ مفت دی جا سکتی ہے۔ اگر مالک اسے کم قیمت پر کسی دوسرے کے حوالے نہ کرے تو آخر میں وہ اسی کے ساتھ جہنم میں جائے گا۔ کیوے نے بات سن کر حیرت سے بوتل اٹھائی۔ اسے یقین نہیں آیا۔ اس نے بوتل فرش پر پوری طاقت سے دے ماری، مگر بوتل اچھل کر واپس آ گئی۔ شیشے پر خراش تک نہ آئی۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: سنہری دریا کا بادشاہ

بوتل کے مالک نے بتایا کہ اس آسیب نے بڑے بڑے لوگوں کی قسمت بدلی ہے۔ یہاں تک کہ نپولین اور کیپٹن کک کے بارے میں بھی کہا جاتا تھا کہ کبھی یہ بوتل ان کے پاس رہی تھی۔ مگر آخرکار ہر مالک کو اس سے چھٹکارا حاصل کرنا پڑا۔ کیوے نے پہلے انکار کیا، لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ بوتل کی قیمت صرف پچاس ڈالر ہے تو اس کے دل میں لالچ آگیا اور اس نے بوتل خرید لی۔ سان فرانسسکو کے سفر میں اس کا دوست لوپاکا بھی ساتھ تھا۔ 
کیوے نے جب اسے بوتل کے بارے میں بتایا تو لوپاکا نے کہا کہ اگر بوتل واقعی اپنی طاقت دکھاتی ہے تو وہ اسے خرید لے گا اور ایک جہاز حاصل کرے گا۔ 
ہوائی واپس پہنچتے ہی ایک افسوسناک خبر ان کا انتظار کر رہی تھی۔ کیوے کے چچا مر چکے تھے اور اس کا ایک قریبی رشتہ دار سمندر میں ڈوب گیا تھا۔ ان کی جائیداد اب کیوے کو ملنے والی تھی۔ لوپاکا نے فوراً سوچا کہ شاید یہ بھی بوتل کے آسیب کا کام ہے کیونکہ کیوے نے جس جگہ اپنے خوابوں میں ایک شاندار مکان دیکھا تھا، وہ زمین اب اس کی ملکیت بننے والی تھی۔ 
دوسری جانب کیوے نے بوتل کی مدد سے اپنی خواہش پوری کی۔ پہاڑ کی ڈھلوان پر ایک ایسا شاندار مکان تعمیر ہوا جسے لوگ ’’روشن گھر‘‘ کہنے لگے۔ وہ بے حد خوب صورت تھا، کشادہ تھا اور اس کی کھڑکیوں سے سمندر اور پہاڑ دونوں دکھائی دیتے تھے۔ اب کیوے کو یقین ہو چکا تھا کہ بوتل واقعی طاقت رکھتی ہے۔ کچھ دنوں بعد اس نے بوتل لوپاکا کو بیچ دی۔ 
کچھ عرصہ بعد کیوے کی ملاقات کوکوا نامی ایک خوبصورت اور ذہین لڑکی سے ہوئی۔ اس کی ذہانت، خوش مزاجی اور بے تکلفی نے اسے ایسا متاثر کیا کہ وہ کوکوا سے شادی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے لگا۔ اور پھر چند مہینوں بعد دونوں کی شادی ہو گئی۔ دن بے فکری سے گزر رہے تھے مگر پھر کیوے پرقیامت ٹوٹ پڑی۔ ایک دن نہاتے ہوئے اس نے اپنے جسم پر ایک عجیب سا نشان دیکھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ کس بیماری کی علامت ہے۔ اسے خدشہ ہوا کہ وہ جذام میں مبتلا ہو چکا ہے، ایسی بیماری جس کے مریضوں کو مولکائی کے الگ تھلگ مقام پر بھیج دیا جاتا تھا۔ کیوے کیلئے بیماری سے زیادہ خوفناک بات یہ تھی کہ وہ کوکوا کو بھی ہمیشہ کیلئے کھو دے گا۔ اس رات اسے آسیب والی بوتل پھر یاد آئی۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: نیلی صلیب

وہ فوراً لوپاکا کو تلاش کرنے نکلا۔ بوتل کئی ہاتھ بدل چکی تھی، مگر آخرکار کیوے کو اس کا موجودہ مالک مل گیا۔ اب بوتل کی قیمت بہت کم ہو چکی تھی۔ مالک اسے صرف دو سینٹ میں دینے کو تیار تھا۔ کیوے نے جان لیا کہ اگر وہ بوتل دو سینٹ میں خریدے گا تو اسے آگے صرف ایک سینٹ میں ہی بیچ سکے گا۔ ایک سینٹ سے کم قیمت کا کوئی سکہ موجود نہ تھا۔ یعنی بوتل خریدنے کا مطلب یہ تھا کہ وہ اسے دوبارہ کبھی فروخت نہیں کر سکے گا۔ مگر کوکوا کے ساتھ زندگی گزارنے کی خواہش نے اسے مجبور کر دیا۔ اور اس نے ایک سینٹ میں بوتل خرید لی۔ اور جیسے ہی بوتل اس کے ہاتھ میں آئی، اس کی بیماری غائب ہو گئی۔ 
کیوے نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ اس کی جلد بالکل صاف تھی۔ بیماری کا نشان تک باقی نہیں تھا۔ مگر شفا کی خوشی کے ساتھ ہی اس کے دل میں ایک اور خوف نے جگہ لے لی۔ اب بوتل اس کے پاس تھی، اور اسے معلوم تھا کہ وہ آگے اسے کبھی فروخت نہیں کر سکے گا۔ 
ایک دن اس نے کوکوا کو سب کچھ بتا دیا۔ کوکوا اس کی بات سن کر ہرگز خوفزدہ نہیں ہوئی۔ ’’تم نے میری خاطر اپنی جان اور اپنی نجات خطرے میں ڈالی ہے، ‘‘ اس نے کہا، ’’تو کیا میں تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتی؟‘‘
اس نے ایک ترکیب بتائی۔ امریکی سینٹ سے بھی چھوٹی کرنسی دنیا میں کہیں موجود تھی۔ فرانسیسی علاقوں میں ’’سینٹیم‘‘ نام کا سکہ چلتا تھا، جو امریکی سینٹ سے کم قیمت رکھتا تھا۔ اگر وہ تہیٹی جائیں تو بوتل کو مزید کم قیمت پر بیچا جا سکتا تھا۔ پھر دونوں تہیٹی پہنچے۔ انہوں نے ایک خوبصورت مکان کرائے پر لیا اور لوگوں کو یہ یقین دلایا کہ وہ بہت دولتمند ہیں۔ مگر اصل مقصد بوتل بیچنا تھا۔ انہوں نے لوگوں کو بوتل کے بارے میں بتایا، لیکن کوئی اسے ہاتھ لگانے کو تیار نہ ہوا۔ لوگ دولت کی خواہش تو رکھتے تھے، مگر جہنم کی قیمت ادا کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ 
آخرکار کوکوا نے ایک بوڑھے آدمی کو تلاش کیا۔ وہ غریب اور بیمار تھا۔ کوکوا نے اسے پوری حقیقت بتائی اور اس سے بوتل خریدنے کی درخواست کی۔ مگر بوڑھا خوفزدہ ہوگیا۔ اسے لگا کہ یہ لڑکی اسے جہنم میں دھکیلنا چاہتی ہے۔ کوکوا نے اس کے سامنے اپنی اور کیوے کی پوری کہانی بیان کردی۔ آخرکار بوڑھا مان گیا۔ بوڑھے نے چار سینٹیم میں بوتل خرید لی۔ کوکوا نے اسے یقین دلایا کہ بعد میں وہ تین سینٹیم میں بوتل واپس خرید لے گی۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: شہزادی کی سالگرہ

اب کیوے آزاد تھا، مگر کوکوا کے چہرے سے خوشی غائب ہو گئی۔ وہ جانتی تھی کہ اب چند دنوں بعد بوتل اس کے پاس آجائے گی، اور اگر وہ مر گئی تو اس کی روح جہنم میں جائے گی۔ کیوے نے ابتدا میں سمجھا کہ کوکوا کو اس بوڑھے آدمی پر افسوس ہے۔ اسے یہ بات عجیب لگی کہ وہ اس شخص کیلئے رو رہی ہے جس نے بوتل خرید کر اسے مصیبت سے نکالا تھا۔ کوکوا اپنا راز ظاہر نہیں کر سکتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ کیوے کبھی اسے قربانی دینے کی اجازت نہیں دے گا۔ 
ایک شام کیوے دوستوں سے ملنے گیا جہاں اس کی ملاقات ایک بدتمیز کشتی بان سے ہوئی۔ یہ پہلے وہیل شکار کرنے والی کشتی پر کام کر چکا تھا اور جیل بھی جا چکا تھا۔ وہ شراب کا عادی تھا اور دنیا کے انجام کی زیادہ پروا نہیں کرتا تھا۔ کسی زمانے میں کیوے نے اس سے پیسے ادھار لئے تھے۔ لہٰذا قرض چکانے کیلئے کیوے رات گئے گھر واپس آیا۔ پیسے لینے کیلئے جب وہ صندوق کھولنے لگا تو اس کی نظر اس جگہ پڑی جہاں بوتل رکھی رہتی تھی۔ یہ دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گیا کہ بوتل اپنی جگہ موجود تھی۔ اس کے ذہن میں فوراً سوال آیا، ’’کیا کوکوا نے بوتل خرید لی ہے؟‘‘ اس کے دل پر جیسے پتھر آگرا۔ 
اسے یاد آیا کہ کوکوا کس طرح پریشان تھی اور اس نے اس کی پریشانی بھی جاننے کی کوشش نہیں کی تھی۔ کیوے نے فیصلہ کر لیا کہ اب وہ اپنی جان پر کھیل کر کوکوا کو بچائے گا۔ وہ فوراً بدتمیز کشتی بان سے ملنے گیا۔ 
’’میری بیوی کے پاس ایک انوکھی بوتل ہے، ‘‘ کیوے نے کہا، ’’تم اسے دو سینٹیم میں خرید لو۔ اور پھر مجھے ایک سینٹیم میں بیچ دو۔ ‘‘ کشتی بان کو اس سودے پر حیرت ضرور ہوئی مگر دو سینٹیم کا سودا برا نہ لگا۔ وہ کوکوا کے پاس گیا اور بوتل خرید لایا۔ اب کیوے نے اسے ایک سینٹیم پیش کیا۔ ’’بوتل مجھے دے دو۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: دھاگے کا ٹکڑا

کشتی بان ہنس پڑا۔ ’’کیوں ؟‘‘
’’کیونکہ اگر یہ بوتل تمہارے پاس رہی تو تم جہنم میں جاؤ گے۔ ‘‘ کشتی بان نے کندھے اچکائے۔ ’’میں تو ویسے بھی جہنم جانے والا ہوں۔ ‘‘
کیوے نے اسے سمجھانے کی کوشش کی، منت کی، اپنی پوری کہانی سنائی۔ مگر وہ شخص ٹس سے مس نہ ہوا۔ 
’’میں نے زندگی میں بہت کچھ دیکھا ہے، ‘‘ اس نے کہا۔ ’’اگر جہنم میرا مقدر ہے تو کم از کم یہ بوتل میرے پاس رہے گی اور میں جاتے جاتے اس سے فائدہ اٹھاؤں گا۔ ‘‘ کیوے کے پاس اب کوئی راستہ نہیں تھا۔ 
کشتی بان بوتل لے کر چلا گیا۔ اس نے کیوے کی پیش کردہ رقم بھی قبول نہیں کی اور بوتل دینے سے صاف انکار کر دیا۔ کیوے وہیں کھڑا رہ گیا، پھر اچانک اسے احساس ہوا کہ اس کے دل سے وہ بوجھ اتر چکا ہے جو کئی دنوں سے اسے جکڑے ہوئے تھا۔ کوکوا محفوظ تھی۔ 
وہ تیزی سے گھر کی طرف دوڑا۔ کوکوا اس کے انتظار میں تھی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کسی وضاحت کی ضرورت باقی نہ رہی۔ کیوے جان چکا تھا کہ اس کی بیوی نے اس کیلئے کیا قربانی دی تھی، اور کوکوا جانتی تھی کہ کیوے بھی اس کیلئے اپنی جان قربان کرنے پر تیار ہو گیا تھا۔ چند دن فرانس میں گزارنے کے بعد دونوں ’’روشن گھر‘‘ لوٹ آئے۔ 
اس رات پہلی بار اس گھر کی روشنی صرف چراغوں سے نہیں، ان دونوں کے دلوں سے بھی پھوٹی۔ اور اس کے بعد کیوے اور کوکوا نے اپنی باقی زندگی سکون سے گزاری، جبکہ وہ منحوس بوتل ان کی دنیا سے بہت دور جا چکی تھی۔ لیکن بدتمیز کشی بان کا کیا ہوا؟کیا اس کی روح جہنم میں چلی گئی؟ کیا بوتل کا آسیب آزاد ہوا؟ ان سوالوں کے جواب شاید کوئی نہیں جانتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK