• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی آئی ٹی سے فارغ التحصیل نوجوان نے ناکامی کے باوجود ایک آئیڈیا کو کامیاب کاروبارمیں بدل دیا

Updated: February 25, 2026, 3:20 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

اکثر لوگ کاروبار یا تعلیم میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بڑے خطرات مول لیتے ہیں، جیسے گھر یا زمین بیچ دینا، ملازمت چھوڑ دینا یا قرض لینا۔ لیکن جب آخرکار کامیابی مل جاتی ہے تو ان خطرات کا کوئی افسوس نہیں رہتا بلکہ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لینے کی خوشی ہوتی ہے۔

Arunabh Kumar`s Mother Sold Her Gold Bangles For Her Son`s Career.Photo:INN
ارونابھ کمار کی والدہ نے اپنے بیٹے کے کریئر کیلئے اپنے سونے کے کنگن بیچ دئیے تھے- تصویر:آئی این این
اکثر لوگ کاروبار یا تعلیم میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بڑے خطرات مول لیتے ہیں، جیسے گھر یا زمین بیچ دینا، ملازمت چھوڑ دینا یا قرض لینا۔ لیکن جب آخرکار کامیابی مل جاتی ہے تو ان خطرات کا کوئی افسوس نہیں رہتا بلکہ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لینے کی خوشی ہوتی ہے۔ آج ہم آپ کو ایک ایسے شخص کی کہانی بتا رہے ہیں جس کی کامیابی کے لیے اس کی والدہ نے اپنے سونے کے کنگن فروخت کر دیے، اور آخرکار یہ قربانی رائیگاں نہیں گئی۔ یہ کہانی بہار کے ایک چھوٹے سے قصبے سے تعلق رکھنے والے ارونابھ سنہا کی ہے۔ارونابھ کے خاندان کی مالی حالت کمزور تھی۔ اسی وجہ سے ان کی والدہ نے بیٹے کی تعلیم کے لیے اپنے سونے کے کنگن بیچ دیے۔ دراصل ارونابھ کو آئی آئی ٹی میں داخلہ لینا تھا، جس کے لیے کافی رقم درکار تھی۔ ارونابھ کو آئی آئی ٹی بمبئی میں داخلہ ملا۔ انہوں نے میٹالرجی اور میٹریل سائنس میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنا پہلا اسٹارٹ اپ ’’فرین گلوبل‘‘ شروع کیا، مگر یہ کاروبار کامیاب نہ ہو سکا۔ ناکامی کے باوجود ارونابھ نے ہمت نہیں ہاری اور نیا منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔۲۰۱۵ء میں انہوں نے اپنی کمپنی فروخت کر دی اور ٹریبو ہوٹلز میں سینئر عہدے پر کام شروع کیا۔ وہاں ان کی تنخواہ تقریباً۱۲؍ لاکھ روپے ماہانہ تھی۔
ہاسپیٹیلٹی انڈسٹری میں کام کے دوران ارونابھ نے محسوس کیا کہ ہوٹلوں میں تقریباً۶۰؍ فیصد شکایات لانڈری سے متعلق ہوتی ہیں۔ یہیں سے انہیں نیا لانڈری کاروبار شروع کرنے کا خیال آیا۔ چنانچہ انہوں نے ملازمت چھوڑ دی اور اپنی اہلیہ گنجن سنہا کی مدد سے ’یُوکلین ‘کے نام سے لانڈری بزنس شروع کیا۔ابتدا میں ان کے والدین اس کاروباری خیال کے خلاف تھے، مگر شاید قسمت میں یہی کامیابی لکھی تھی۔ ارونابھ کی کمپنی’ UClean ‘کپڑے۲۴؍ سے۴۸؍ گھنٹوں کے اندر دھو کر اور استری کر کے واپس پہنچاتی ہے۔ اس کی خدمات میں واش اینڈ آئرن، ڈرائی کلین اور خصوصی نگہداشت شامل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کا سالانہ ٹرن اوور۱۶۰؍ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے اور کاروبار کئی دیگر ممالک تک پھیل چکا ہے۔ارونابھ کا خواب ہے کہ اپنے آؤٹ لیٹس کی تعدادایک ہزار تک لے جائیں، جو اس وقت تقریباً۸۰۰؍ کے قریب ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK