ٹرمپ ، نیتن یاہو اور امریکی حکام کے بیانات کے بعدکشیدگی میں اضافہ۔امریکی صدر نے کہا: یقین ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی ۱۰۰؍فیصد روک دے گا۔
ایرانی پارلیمانی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی۔ تصویر:آئی این این
ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کا اب تک کوئی حل نہیں نکلا ہے جس کی وجہ سے دونوں جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل کو ایران نے انتباہ دیا ہے کہ اس پر اگر دوبارہ حملہ ہوتا ہے تو وہ یورینیم افزودگی۹۰؍ فیصد تک کر دے گا۔ ڈونالڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی حکام کے بیانات کے بعد مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران تہران نے سخت انتباہ دیا ہے کہ اگر اس پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو وہ یورینیم افزودگی کو ۹۰؍ فیصد تک پہنچا دے گا جسے ہتھیاروں کے درجے کی افزودگی تصور کیا جاتا ہے۔ایرانی پارلیمانی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے’ایکس ‘پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ۹۰؍ فیصد یورینیم افزودگی کے معاملے پر پارلیمنٹ میں غور کیا جائے گا۔ اگر ایران کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو تہران اپنے جوہری پروگرام کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران پہلے ہی۶۰؍ فیصد تک یورینیم افزودگی کر چکا ہے جو ویپن گریڈ کے کافی قریب سمجھی جاتی ہے۔ ایجنسی کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے گزشتہ برسوں کے دوران اعلیٰ درجے کی افزودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے جس پر مغربی ممالک مسلسل تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔
دریں اثناءامریکہ کے سابق قومی سلامتی مشیر ایچ آر میک ماسٹر نے بھی خطے میں دوبارہ فوجی کارروائی کے امکان کا اظہار کیا ہے۔ سی این این کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی مہم دوبارہ شروع ہونے کا امکان موجود ہے۔ ان سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان پر سوال کیا گیا تھا جس میں ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو ’لائف سپورٹ سسٹم پر‘ قرار دیا تھا یعنی ایسی حالت میں جو انتہائی کمزور اور غیر مستحکم ہو۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مجھے یقین ہے ایران یورینیم کی افزودگی۱۰۰؍ فیصد روک دے گا،اور جوہری ہتھیاروں کیلئے کوششیں ترک کردے گا۔امریکی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے۱۰۰؍ فیصد یقین ہے ایران کو یورینیم افزودگی اور ایٹم بم کی تیاری سے روکا جاسکتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق وہ ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات میں براہِ راست شریک ہیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا ایٹمی فضلہ حاصل کر لیں گے۔ ایران کے ساتھ معاہدے کیلئے تیزی سے کام کرنا ہوگا، جلد بازی نہیں کریں گے۔انہوںنے مزید کہا کہ ناکہ بندی کی موجودگی میں ایران کے حوالے سے کسی بھی اقدام میں جلد بازی نہیں کی جائے گی۔
’’ایران کے حوالے سے صورتحال غیرواضح ہے‘‘
ایران اور امریکہ کے درمیان اتفاق رائے میں رکاوٹوں اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کو’’وینٹیلیٹر پر‘‘ قرار دینے کے بعد اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہاکابی نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے صورتحال غیر واضح ہے۔انہوں نے منگل کو اپنے بیان میں کہاکہ ہم نہیں جانتے کہ ایران کے ساتھ معاملات کس سمت جائیں گے۔انہوںنے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے تہران کو اپنے عزائم میں تبدیلی کیلئے ہر ممکن موقع فراہم کیا ہے، جیسا کہ خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے رپورٹ کیا۔
’’کسی بھی ممکنہ خطرے کیلئے تیارہیں‘‘
دریںاثناءایرانی حکومت نے کہا ہے کہ سیکوریٹی فورسیز مکمل طور پر الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کیلئے تیار ہیں۔تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ اس کی ترجیح اب بھی پائیدار امن اور ملک کے مفادات پر مبنی سفارتکاری ہے۔یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب امریکی صدر نے گزشتہ روز ایران کے جواب کو’’ناقص اور احمقانہ‘‘ قرار دیا تھا۔
امریکہ کے زیر غور آپشنز میں سخت اقدام شامل
امریکی ویب سائٹ ’اکسیوس‘ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنی قومی سلامتی ٹیم سے ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے آئندہ اقدامات پر غور کیا جا سکے جن میں فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا امکان بھی شامل ہے، یہ پیش رفت تہران کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔