اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارا اپنے والدین، اولاد اور رشتہ داروں کے علاوہ ایک مستقل واسطہ ہمسایوں سے بھی ہوتا ہے۔ روزانہ کے مشاہدے سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمسایوں کے ساتھ تعلقات جس قدر خوشگوار ہوں ہمارے گھروں میں بھی اتنا ہی سکون ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: March 18, 2026, 3:26 PM IST | Sajda Fodkar | Mumbai
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارا اپنے والدین، اولاد اور رشتہ داروں کے علاوہ ایک مستقل واسطہ ہمسایوں سے بھی ہوتا ہے۔ روزانہ کے مشاہدے سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمسایوں کے ساتھ تعلقات جس قدر خوشگوار ہوں ہمارے گھروں میں بھی اتنا ہی سکون ہوتا ہے۔
ایک طرف رمضان کے رخصت ہونے کا غم ہے تو دوسری طرف عید کی خوشی ہے۔ یہ آپسی تعلقات کی آبیاری کے لئے بہترین موقع ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ہم اپنے ہم سایوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس عید انہیں اپنے قریب کرنے کی کوشش کریں۔ رسول کریمؐ نے اپنی تعلیمات و ہدایات میں ہمسائیگی کے تعلق اور اس کے احترام و رعایت کی خصوصی تاکید فرمائی ہے۔ اس کو ایمان کا جز اور داخلہ جنت کی شرط، نیز اللہ اور اس کے رسول کی محبت کا معیار قرار دیا ہے۔ ان تعلقات میں اگر کوئی کوتاہی ہوگی تو اس کا نتیجہ صرف آپسی روابط کی خرابی تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ آخرت کے خسارے کا باعث بھی بنے گا۔ رسول کریمؐ کی اس بارے میں بڑی سخت وعید ہے کہ اگر کسی مسلمان کے پڑوسی اس سے بےخوف اور مطمئن نہیں ہیں اسے ایمان کا مقام نصیب نہیں۔ جنت میں اس شخص کا داخلہ ممنوع ہے جس کی شرارتوں اور ایذا رسانیوں سے اس کے ہمسائے مامون نہ ہوں۔ تو ہم پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اس جانب سے ہرگز بھی رو گردانی نہ کریں۔ ہم سب اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ خواتین چاہے وہ خاتون خانہ ہو یا ملازمت پیشہ، دونوں صورتوں میں وہ اپنے گھر کے اندرونی معاملات کی سربراہ ہوتی ہے۔ پڑوسیوں سے تعلقات کی استواری میں اس کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ اس ضمن میں اسے اپنی ذمہ داری نبھانی چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: خاموش التجا؛ صدقہ اُنہیں دیں جو مانگ نہیں سکتے
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارا اپنے والدین، اولاد اور رشتہ داروں کے علاوہ ایک مستقل واسطہ ہمسایوں سے بھی ہوتا ہے۔ روزانہ کے مشاہدے سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمسایوں کے ساتھ تعلقات جس قدر خوشگوار ہوں ہمارے گھروں میں بھی اتنا ہی سکون ہوتا ہے۔ اس تعلق میں اگر کڑواہٹ ہو تو ہمارے گھروں میں بھی کسی نہ کسی صورت میں تلخی، بے سکونی و بے چینی ہوتی ہے جس کا برا اثر ہماری روزمرہ کی زندگی اور کارکردگی پر پڑتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس تعلق کو خوشگوار رکھنے میں خواتین کا کردار لازماً سر فہرست ہے کیونکہ خواتین اپنی فراست اور بردبادی سے بدترین ماحول کو بھی بہترین بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان کے رخصت ہونے سے قبل خواتین اِن باتوں کا خیال رکھیں
آج ہمارے معاشرے میں بہت کم لوگ ہیں جو اپنے پڑوسیوں سے خوش و مطمئن ہیں۔ ہوسکتا ہےکہ یہ صورتحال ہماری ہی کسی کمی یا کوتاہی کا نتیجہ ہو تو کیوں نہ دوسروں پر الزام تراشی کے بجائے ہم اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اس عید اپنے پڑوسیوں اپنے قریب کرنے کی کوشش کریں۔ جدید طرز زندگی اور مغربی تہذیب کے زیر اثر ہم اس بات کو فراموش کرچکے ہیں کہ پڑوسیوں کے تئیں حسن سلوک پر کتنی بشارتیں آئی ہیں۔ ان بشارتوں کا حقدار ہونے کے لئے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے پڑوسیوں کی عزت و حرمت کا خیال رکھیں۔ عید کی خوشیوں میں انہیں شامل کریں۔ عید کے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اپنے گھر ضیافت کیلئے مدعو کریں اور خلوص دل کے ساتھ ان کی خاطر مدارت کریں۔ اگر آپ صاحب ِ حیثیت ہیں تو پڑوس کے بچوں میں چاکلیٹ یا تحفہ بانٹیں۔ ان کی خوشی دیکھنے لائق ہوگی۔ اگر ہر ایک انفرادی گھر کی سطح پر خواتین اس جانب خصوصی توجہ دیں تو اس کا اثر ہماری اجتماعی زندگی و معاشرت پر ضرور پڑے گا اور ایک صحتمند و مثبت اقدار والا سماج وجود میں آئے گا۔