Inquilab Logo Happiest Places to Work

اٹکن بٹکن

Updated: May 02, 2026, 12:25 PM IST | Umar Adil Marharvi | Mumbai

منے بھیّا کا دل خوشی سے بلیوں اُچھلنے لگا۔ خوب اچھا ہوا جو پٹی جھوٹی کہیں کی.... منے بھیّا کمرے کی طرف دیکھتے ہوئے دل میں سوچا اور جیسے ہی انہوں نے دیکھا کہ امی غرارے کو پیچھے سے ایک ہاتھ میں پکڑے ان کی طرف آرہی ہیں انہوں نے زور زور سے پھر کتاب پڑھنا شروع کر دی ’’کسی شہر میں ایک اندھا فقیر رہتا تھا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

’’اٹکن بٹکن۔ دہی چکوٹا۔ راجہ گئے دِلّی۔ سات کٹوریاں لائے۔ ایک کٹوری پھوٹ گئی۔ راجہ کی ماں روٹھ گئی۔ دودھ دہی بہتیرا۔ کھانے کو منہ ٹیڑھا.... کنڈا لوگی چھری۔‘‘ مگر اس سے پہلے کہ شاہدہ کچھ کہتی منے بھیّا نے اُسے کندھے سے پکڑ کر چِت گرا دیا اور خود اس کے سینے پر بیٹھ کر ہاتھ کی چھری زور زور سے اس کے گلے پر پھیرنے لگے.... ’’اُدی مَری.... ہائے میں مری.... مجھے چھوڑ دو۔ مَیں.... مَیں اب کبھی تیرے ساتھ نہیں کھیلوں گی....‘‘ شاہدہ ہاتھ پیر چلاتے ہوئے زور زور سے چیخی مگر منے بھیّا نے اس کی ایک نہ سنی۔ اور آخر جب شاہدہ چیختے چیختے تھک گئی تو منے بھیّا نے اسے چھوڑ دیا مگر یہ دیکھ کر وہ کانپ گئے کہ شاہدہ کا نیا فراک سینے سے لے کر دامن تک پھٹ گیا۔ منے بھیّا جلدی سے کمرے سے نکل کر بھاگے اور باہر دالان میں رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھ کر زور زور سے کتاب پڑھنے لگے.... کمرے میں سے شاہدہ کے رونے کی آواز سن کر منے بھیّا ذرا رُکے اور پھر زور زور سے پڑھنے لگے ’’ایک دفعہ شہر میں پانی کا طوفان آیا....‘‘ اندر کمرے میں سے شاہدہ کی آواز آئی ’’فیل ہوجائے خدا کرے....‘‘
منے بھیّا نے دیکھا شاہدہ کے رونے کی آواز سن کر امّی باورچی خانہ سے اُٹھ کر کمرے میں جا رہی تھیں۔ جیسے ہی وہ منے بھیّا کے قریب سے گزریں انہوں نے زور زور سے پھر پڑھنا شروع کر دیا.... امی جب کمرے میں چلی گئیں تو منے بھیّا نے پڑھنے بند کر دیا اور کان لگا کر شاہدہ اور امّی کی گفتگو سننے لگے.... شاہدہ کہہ رہی تھی ’’منے بھیّا نے خود ہی مجھے اٹکن بٹکن کھیلنے کو بلایا اور پھر کنڈا لوگی یا چھری کہہ کر خوب زور زور سے میرے گلے پر ہاتھ پھیرنے لگے اور یہ.... یہ میرا فراک پھاڑ ڈالا۔‘‘ چٹاخ.... امّی کے تھپڑ مارنے کی آواز آئی اور ساتھ ہی شاہدہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اور ساتھ ہی امّی کے چلّانے کی آواز آئی ’’تُو کیوں آئی تھی کھیلنے۔ غضب خدا کا پہلی دفعہ دُھلا تھا یہ ساٹن کا فراک جو تُو نے کشتی لڑ کر پھٹوا لیا....‘‘

یہ بھی پڑھئے: یادگار پکنک

منے بھیّا کا دل خوشی سے بلیوں اُچھلنے لگا۔ خوب اچھا ہوا جو پٹی جھوٹی کہیں کی.... منے بھیّا کمرے کی طرف دیکھتے ہوئے دل میں سوچا اور جیسے ہی انہوں نے دیکھا کہ امی غرارے کو پیچھے سے ایک ہاتھ میں پکڑے ان کی طرف آرہی ہیں انہوں نے زور زور سے پھر کتاب پڑھنا شروع کر دی ’’کسی شہر میں ایک اندھا فقیر رہتا تھا۔ اُسی شہر میں ایک لنگڑا فقیر بھی رہتا تھا۔‘‘منے میاں اتنا ہی پڑھنے پائے تھے کہ انہیں اپنے کان کھنچتے ہوئے معلوم ہوئے اور قبل اس کے کہ وہ مڑ کر دیکھتے امی نے ایک تھپر ان کے منہ پر جڑ دیا۔ منے بھیّا اپنی صفائی پیش کرنا چاہتے ہی تھے کہ ایک تھپڑ اور.... ’’تمام فراک پھاڑ ڈالا، نیا کا نیا تھا....‘‘ امی بولیں۔ منے بھیّا نے چاہا کہ کچھ صفائی پیش کریں کہ وہ تو بہت دیر سے یہاں بیٹھے پڑھ رہے ہیں۔ خود ہی شاہدہ نے پھاڑا ہوگا اور اب الزام اس پر لگا رہی ہے۔ مگر امّی نے انہیں کچھ کہنے کی مہلت ہی نہیں دی اور جلدی جلدی دو چار دفعہ کان اور کھینچ کر باورچی خانے میں چلی گئیں۔ منے نے آستین سے اپنے آنسو پونچھے اور غصے میں بھرے ہوئے اپنے کمرے میں آئے جہاں شاہدہ ابھی تک تکیے میں منہ دیئے رو رہی تھی۔ آتے ہی منے بھیّا نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بس شاہدہ کا ہاتھ پکڑ کر لگے کھنچنے اور کمرے کے دروازے پر لاکر باہر دھکا دیتے ہوئے بولے ’’اب جو قدم رکھا میرے کمرے میں تو تمام گڑیوں کو آگ لگا دوں گا۔ آگ.... سن لیا کان کھول کر۔‘‘
’’کون آتا ہے تمہارے کمرے میں۔ میری جوتی کو غرض پڑی ہے جو آؤں اور تم بھی کبھی مجھے نہ بلانا کھیلنے۔‘‘ شاہدہ روتے ہوئے بولی۔
’’کون بلاتا ہے تمہیں کھیلنے، خود ہی تو آئی تھیں کہ اٹکن بٹکن کھیل لو میرے ساتھ....‘‘ منے بھیّا بولے۔
صبح چھوٹے بھیّا بیڈ منٹن کا ریکٹ لے کر باغ میں آئے مگر نیٹ لگاتے ہوئے انہیں یاد آیا کہ شاہدہ سے ان کی لڑائی ہوچکی ہے، بول چال بند ہے، پھر وہ کھیلیں گے کس کے ساتھ.... آخر مجبور ہو کر وہ اپنے کمرے میں آکر لیٹ گئے اور کتاب پڑھنے لگے مگر کتاب میں ان کا دل نہ لگا کیونکہ یہ وقت ان کے کھیلنے کا تھا۔ شاہدہ بھی اپنے کمرے میں خاموش لیٹی تھی۔ اس کے بھی یہ کھیل کا وقت تھا مگر منے بھیّا سے لڑائی تھی۔ آخر خاموشی سے گھبرا کر شاہدہ نے گرامو فون بجانا شروع کر دیا ’’میری گڑیا بنے گی دلہن....‘‘ گانے کی آواز سن کر منے بھیّا بے چین ہوگئے مگر شاہدہ کے کمرے میں جانے سے مجبور تھے۔ ایک لمحہ کو انہوں نے سوچا کہ شاہدہ سے میل کر لیا جائے مگر فوراً خیال آیا کہ شاہدہ سے خود میل کرنے میں ان کی ہتک ہے۔ جب تک شاہدہ انہیں نہ بلائے وہ نہیں جائیں گے اور نہ ہی خود میل میں پہل کریں گے۔ پوری دوپہر گزر گئی۔ شام کو منے بھیّا اپنی چھوٹی سی موٹر لے کر باغ میں گئے اور چبوترے پر خاموش بیٹھی ہوئی شاہدہ کو دیکھ کر روش پر خوب زور زور سے موٹر چلانے لگے روز شاہدہ بھی موٹر میں ان کے پیچھے بیٹھی ہوتی تھی۔ اس لئے آج اکیلے تفریح کرنے میں ان کا دل نہیں لگ رہا تھا اور شاہدہ بھی بیچاری چبوترے پر خاموش بیٹھی ان کی فراٹے بھرتی ہوئی موٹر کو حسرت سے تک رہی تھی۔ اس کا بہت دل چاہ رہا تھا کہ اس وقت وہ بھی منے بھیّا کے ساتھ بیٹھ کر سیر کرتی۔ کاش کہ منے بھیّا سے اس کی لڑائی نہ ہوتی۔ خیر اس نے سوچا، لڑائی ہوگئی ہے تو کیا ہوا اب وہ منے بھیّا سے میل کر لے مگر فوراً ہی اُسے خیال آیا کہ منے بھیّا سے خود میل کرنے میں اس کی ہتک ہے۔ منے بھیّا کو خود اس سے میل کرنا چاہئے کیونکہ خطا تو اُن ہی کی ہے پھر وہ کیوں خود سے میل کرے۔ مگر مغرب کا وقت ہوگیا، منے بھیّا نے اُسے موٹر میں بیٹھنے کو نہیں کہا اور جب سورج ڈوب گیا تو اپنی موٹر کو تالا لگا کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔ شاہدہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور وہ بھی خاموشی سے اُٹھ کر چلی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: ایل بی ڈبلیو

دوپہر کو جب تنہائی سے شاہدہ کا دل گھبرایا تو اس نے گرامو فون بجانا شروع کر دیا مگر منے بھیّا کے بغیر گانا سننے میں بھی اس کا دل نہ لگا۔ اُس نے گراموفون بند کر دیا اور پھر خاموشی سے لیٹ گئی۔ تھوڑی ہی دیر بعد اُس کا دل گھبرانے لگا اور آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ یکایک شاہدہ کو کچھ خیال آیا۔ اس نے اپنی کاپی اٹھائی اور اس پر کچھ لکھنے کے بعد کاغذ پھاڑ کر جیب میں رکھ لیا.... اپنے کمرے سے نکل کر وہ منے بھیّا کے کمرے میں آئی اور کیواڑوں سے آنکھ لگا کر اندر جھانکا.... منے بھیّا پلنگ پر اوندھے لیٹے سسک رہے تھے۔ شاہدہ کا دل چاہا دوڑ کر منے بھیّا کے گلے لگ جائے مگر ہمت نہ پڑی اور ہاتھ میں پکڑے ہوئے پرچے کو جو وہ منے بھیّا کو دینے لائی تھی لے کر واپس اپنے کمرے میں آکر بےچینی سے ٹہلنے لگی۔
تھوڑی دیر بعد شاہدہ نے دیکھا منے بھیّا اس کے کمرے میں جھانک کر آگے بڑھ گئے۔ یہ موقع اس کے لئے بہت اچھا تھا۔ جلدی سے پرچہ لے کر وہ منے بھیّا کے کمرے میں چلی گئی۔ اور اُدھر منے بھیّا کمرہ خالی پا کر اس کے کمرے میں داخل ہوگئے.... اُدھر شاہدہ ان کے کمرے سے نکلی اور اِدھر منے بھیّا اس کے کمرے سے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے کمروں سے نکلتے دیکھ لیا مگر منہ سے کچھ نہ بولے اور اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ منے بھیّا نے اپنے کمرے میں آکر دیکھا ان کی کتاب پر ایک پرچہ رکھا تھا۔ جلدی سے پرچہ اٹھا کر انہوں نے پڑھنا شروع کیا:
میرے منے بھیّا!
مجھے معاف کر دو۔ تمہارے بغیر میرا دل بہت گھبراتا ہے۔ میں کان پکڑتی ہوں جوکبھی امی سے تمہاری شکایت کروں۔ مجھے اچھے بھیّا مجھے معاف کر دو اور مجھ سے بولنے لگو۔
تمہاری بہن شاہدہ
شاہدہ جب اپنے کمرے میں آئی تو اس نے دیکھا گراموفون پر ایک پرچہ رکھا تھا۔ اس نے جلدی سے کھول کر پڑھا:
میری پیاری بہن شاہدہ!
میری اچھی سی بہن مجھے معاف کر دو۔ میں کبھی تمہیں پریشان نہ کروں گا اور نہ کپڑے پھاڑوں گا۔ تمہارے بغیر میں موٹر میں سیر نہیں کروں گا۔ مجھ سے میل کر لو میری شبو، اور مجھے معاف کر دو۔
تمہارا منے بھیّا
شاہدہ اور منے بھیّا کے دل پرچہ پڑھ کر خوشی سے جھوم اٹھےلیکن منے بھیّا سوچ رہے تھے کہ اگر مَیں تھوڑی دیر اور انتظار کرتا تو شاہدہ تو معافی مانگ ہی رہی تھی۔ اُدھر شاہدہ افسوس کر رہی تھی کہ اس نے بیکار معافی مانگی منے بھیّا مانگ ہی رہے تھے۔ لیکن پھر بھی دونوں خوش تھے۔
رات کو منےبھیّا اور شاہدہ آلتی پالتی مارے آمنے سامنے بیٹھے تھے اور دونوں کے ہاتھوں کی مٹھیاں ایک دوسرے کے ہاتھوں کی میٹھوں پر تلے اوپر رکھی تھیں اور منے بھیا کہہ رہے تھی ’’اٹکن بٹکن دہی چکوٹا راجہ گئے دلّی ساتھ کٹوریاں لائے ایک کٹوری پھوٹ گئی راجہ کی ماں روٹھ گئی دودھ دہی بہترا کھانے کو منہ ٹیڑھا... کنڈا لوگی چھری...‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK