بچوں نے آسمان کی طرف دیکھا تو وہ حیران رہ گئے۔ صاف آسمان میں بے شمار چمکتے ہوئے ستارے نظر آ رہے تھے۔ وہ بیٹھ کر تاروں کو گنتے رہے اور قدرت کی خوبصورتی کو محسوس کرتے رہے۔
EPAPER
Updated: April 25, 2026, 11:30 AM IST | Atif Adnan Sheikh Sadiq | Mumbai
بچوں نے آسمان کی طرف دیکھا تو وہ حیران رہ گئے۔ صاف آسمان میں بے شمار چمکتے ہوئے ستارے نظر آ رہے تھے۔ وہ بیٹھ کر تاروں کو گنتے رہے اور قدرت کی خوبصورتی کو محسوس کرتے رہے۔
گرمیوں کا موسم شروع ہوچکا تھا۔ تیز دھوپ، لمبے دن اور اسکول کی چھٹیاں بچوں کے لئے خوشی کا پیغام لے کر آئیں۔ امتحان ختم ہوتے ہی سب بچے خوشی سے جھوم اُٹھے۔ انہی بچوں میں ایک ذہین اور سمجھدار لڑکا تھا، جس کا نام زیان تھا۔
جیسے ہی چھٹیاں شروع ہوئیں، زیان نے تیزی کے ساتھ ایک اچھا منصوبہ بنایا۔ اس نے فوراً اپنے دوستوں کو جمع کیا اور انہیں سمجھایا کہ ہم اپنی چھٹیاں صرف کھیل کود میں ضائع نہیں کریں گے بلکہ کچھ نیا سیکھیں گے اور ایک یادگار پکنک منائیں گے۔ سب بچے اس کی بات سے بہت متاثر ہوئے اور فوراً تیار ہوگئے۔
بچّوں نے طے کیا کہ وہ شہر کے شور شرابے سے دور پہاڑوں اور جنگل کی طرف جائیں گے۔ ان کے ساتھ ان کی استانی بھی تھیں، جو ہمیشہ بچوں کو اچھی باتیں سکھاتی تھیں۔
ایک صبح سب بچے جلدی اُٹھے، تیار ہوئے اور اپنے بیگ لے کر نکل پڑے۔ وہاں پہنچ کر سب نے سکون کا ایک الگ ہی احساس محسوس کیا۔ ٹھنڈی ہوا، درختوں کی سرسراہٹ اور پرندوں کی چہچہاہٹ دل کو خوش کر رہی تھی۔
زیان نے سب بچوں سے کہا کہ سب سے پہلے ہم اپنے دن کی شروعات نماز سے کرینگے۔ سب بچوں نے مل کر صف باندھی اور سکون کیساتھ نماز ادا کی اور اللہ سے علم اور بھلائی کی دعا مانگی۔
پھر بچوں نے پکنک کا لطف اُٹھایا، درختوں کے نیچے بیٹھ کر کھانا کھایا اور ایک دوسرے کے ساتھ خوشی خوشی وقت گزارا۔ زیان نے سب کو چھوٹے چھوٹے پودے دیئے اور سب نے مل کر انہیں زمین میں لگایا اور پانی دیا۔
جب شام ہونے لگی تو بچوں نے فیصلہ کیا کہ وہ رات بھی وہیں گزاریں گے۔ سب نے مل کر ٹینٹ لگائے۔ یہ کام بچوں کے لئے نیا تھا، مگر سب نے مل جل کر اسے آسان بنا لیا۔
رات کا وقت آیا تو ماحول اور بھی خوبصورت ہوگیا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، اور جنگل میں مختلف جانوروں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ کچھ بچے پہلے تھوڑا ڈرے، لیکن زیان اور استانی نے انہیں سمجھایا کہ یہ فطرت کا حصہ ہے اور ڈرنے کی ضرورت نہیں۔
بچوں نے آسمان کی طرف دیکھا تو وہ حیران رہ گئے۔ صاف آسمان میں بے شمار چمکتے ہوئے ستارے نظر آ رہے تھے۔ وہ بیٹھ کر تاروں کو گنتے رہے اور قدرت کی خوبصورتی کو محسوس کرتے رہے۔ یہ منظر ان کے لئے بہت خاص تھا، کیونکہ شہر میں اتنے ستارے نظر نہیں آتے۔
پھر سب نے مل کر وہیں کھانا بنایا۔ کسی نے سبزیاں کاٹیں، کسی نے آگ جلائی، اور کسی نے برتن سنبھالے۔ سب نے مل کر سادہ مگر مزیدار کھانا تیار کیا اور خوشی سے کھایا۔
کھانے کے بعد سب بچے اپنے اپنے ٹینٹ میں چلے گئے۔ تھکن کی وجہ سے سب کو جلد ہی نیند آگئی۔ ٹینٹ کے باہر ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور قدرت کی آوازیں ایک خوبصورت لوری کی طرح محسوس ہو رہی تھیں۔
اگلے دن صبح سب بچے اُٹھے، نماز ادا کی اور تازہ دم ہوگئے۔ استانی نے انہیں جنگل کے پودوں اور جانوروں کے بارے میں مزید معلومات دیں۔ بچوں نے صفائی کا خاص خیال رکھا اور کچرا ایک جگہ جمع کیا۔
پکنک کے دوران بچوں نے ایک دوسرے کی عزت کرنا، مدد کرنا اور ماحول کا خیال رکھنا سیکھا۔ وقت گزرتا گیا اور واپسی کا وقت آگیا۔ جب سب بچے اپنے گھروں کو واپس آئے تو انہوں نے اپنے والدین کو سب کچھ بتایا.... ٹینٹ لگانے سے لے کر رات کے ستارے دیکھنے تک، اور جانوروں کی آوازیں سننے تک۔ والدین یہ سب سن کر بہت خوش ہوئے۔
چھٹیاں ختم ہونے سے پہلے بچوں نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ وہ اپنے نانا نانی اور دوسرے رشتہ داروں سے ملنے جائیں گے۔ سب بچے خوشی خوشی اپنے خاندان والوں کے گھروں گئے اور انہیں اپنی پکنک کی کہانیاں سنائیں۔ نانا نانی یہ سب سن کر بہت خوش ہوئے اور بچوں کو دعائیں دیں۔ رشتہ داروں کے ساتھ وقت گزار کر بچوں کو بہت سکون اور خوشی محسوس ہوئی۔ اس طرح ان کی چھٹیاں مزید یادگار بن گئیں۔
اس پکنک نے بچوں کو یہ سکھایا کہ قدرت سے محبت کرنی چاہئے، مل جل کر کام کرنا چاہئے، صفائی کا خیال رکھنا ضروری ہے، ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہئے، اور سادہ زندگی میں بھی خوشی مل سکتی ہے۔ یوں یہ خوبصورت پکنک بچوں کے لئے ایک انمول سبق بن گئی، جسے وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔