Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایل بی ڈبلیو

Updated: April 18, 2026, 11:25 AM IST | Irfan Sharaf | Mumbai

کرکٹ دیکھنے اور کھیلنے میں دلچسپی رکھنے والے ایک نوعمر کی کہانی

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ہلال نے ایک خوبصورت سی گیند پھینکی۔ گیند باہر جا رہی تھی لیکن اچانک اندر گھوم آئی اور دھپ سے قیصر کے پیٹ پر لگی۔
’’ہاؤازاٹ!‘‘ نوید، سعد، مسعود، عقیل، یونس، انور، جاوید سب ایک ساتھ چلّا پڑے۔ ایمپائر باسط نے اپنی انگلی اُٹھا دی اور سب تالیاں بجانے لگے لیکن قیصر اڑ گیا ’’نہیں بھئی مَیں آؤٹ نہیں ہوں۔ ایل بی ڈبلیو ہو کیسے سکتا ہوں میرا پیر صاف کریز کے باہر ہے۔‘‘
’’نہیں نہیں یہ دھاندلی نہیں چلے گی تم صاف آؤٹ ہو اور ایمپائر نے تمہیں آؤٹ قرار دیا ہے۔‘‘ سب ایک ساتھ چلّائے۔
’’دھاندلی تم کر رہے ہو مَیں ہرگز آؤٹ نہیں ہوں۔ ایمپائر باسط تمہاری طرفداری کر رہا ہے۔ جاؤ مَیں نہیں کھیلتا تم جیسے بے ایمانوں کے ساتھ۔ لاؤ میری گیند۔‘‘ قیصر بھی چیخ کر بولا۔
پھر اُس نے گیند اُٹھا لی۔ اسٹمپ اکھاڑ لئے۔ اور گراؤنڈ پر سے چلا گیا۔ تمام لڑکے پیر پٹخ کر رہ گئے اور کھیل دھرا کا دھرا رہ گیا۔
قیصر کھیلتا تو بہت ہی اچھا تھا مگر یہ عادت اُس میں بہت خراب تھی کہ کھیل میں دھاندلی بہت کرتا تھا۔ اگر اُسے پورا یقین ہوتا بھی کہ وہ آؤٹ ہے تو وہ کھلے بندوں انکار کر دیتا۔ اور اگر اُس کی گیند پر کوئی آؤٹ نہ بھی ہوتا تو اُسے زبردستی آؤٹ کرالیتا۔ اس کے تمام ساتھی اس کی اس عادت سے تنگ آگئے تھے۔ انہوں نے کئی بار اپنی ٹیم سے اُس کا بائیکاٹ بھی کر دیا لیکن اس کی عدم موجودگی سے اُن کی ٹیم بہت کمزور پڑ جاتی۔ اس کے علاوہ قیصر ’سینٹ ہلینا‘ کے بہترین کھلاڑیوں کا تربیت یافتہ تھا اور وہ خود بہترین کھیلنے کے علاوہ دوسروں کو بھی صحیح کھیل بتاتا اور انہیں نہایت اچھی طرح کھیل کی اونچ نیچ سے واقف کراتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں وہ ایک اچھا کوچ بھی تھا اسی وجہ سے اُس کے ساتھیوں کو اُسے منا کر دوبارہ اپنی ٹیم میں لانا پڑتا تھا۔
آج بھی تمام کھلاڑی اُسے ملامت کرتے اور اُسے ٹیم سے نکال دینے کا عہد کرتے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ لیکن ان کا دل یہ اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ سب فضول باتیں ہیں۔ قیصر کو ٹیم میں لینا ہی پڑے گا۔

یہ بھی پڑھئے: غلیل کا نشانہ

قیصر بھی گنگناتا ہوا گھر پہنچا۔ جیسے ہی اُس نے گھر میں قدم رکھا بھائی جان نے اُسے آواز دی۔ قیصر نے سوچا آگئی شامت اب بھائی جان دوڑائیں گے پوسٹ آفس یا اپنے کسی دوست کے گھر اور وہ ڈرتا ہوا بھائی جان کے کمرے میں داخل ہوا۔ بھائی جان اس کے چہرے سے اس کے دل کا حال سمجھ کر مسکرائے۔
’’گھبراؤ نہیں مَیں نے تمہیں کسی کام سے نہیں بلایا بلکہ تمہارے لئے ایک خوشخبری ہے۔ تمہیں کرکٹ کا بہت شوق ہے نا؟‘‘
قیصر نے حامی بھری۔
’’تو تم یہ بھی جانتے ہوگے کہ پرسوں بمبئی میں آسٹریلیا اور انڈیا کے درمیان تیسرا ٹیسٹ میچ ہورہا ہے؟‘‘ بھائی جان نے پوچھا۔
’’ہاں ہاں دہلی ٹیسٹ اور کانپور ٹیسٹ کی تو پوری پوری کومینٹری میں نے سنی تھی۔‘‘ قیصر نے بے تابی سے کہا۔
’’تو اب تمہیں بمبئی ٹیسٹ کی کومینٹری سننے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ ٹیسٹ میچ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو گے۔ تمہیں تو معلوم ہے میں کل بمبئی گیا تھا ٹکٹ لانے۔ مَیں تمہارے اور اپنے لئے دو سیزن ٹکٹ لایا ہوں۔ اور پرسوں تم میرے ساتھ بریبورن اسٹیڈیم بمبئی میں اچھل رہے ہوگے۔‘‘ بھائی جان نے مسکرا کر کہا۔ قیصر اُسی وقت اچھل پڑا۔ اُسے کچھ دیر تک تو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا وہ چلّا اُٹھا ’’میرے اچھے بھائی جان!‘‘ اور اس نے فرط مسرت سے اپنی بانہیں بھائی جان کے گلے میں ڈال دیں۔
بھائی جان نے مسکراتے ہوئے کہا ’’اچھا اب جاؤ جنرل اسٹورس سے ایک ٹن ’ریڈ اینڈ وہائٹ‘ کا لے آؤ۔ جلدی سے۔‘‘
’’ایک ٹن تو کیا آپ کہیں تو سارا اسٹورس ہی اُٹھا لاؤں۔‘‘ قیصر نے ہنستے ہوئے کہا اور دوڑتے ہوئے بازار چلا گیا۔
سارے راستے میں وہ سوچ رہا تھا۔ دنیا کے تیز ترین بالر لنڈوال کو دیکھوں گا۔ بینو، ہاردے، اونیل، امریگر، کنٹراکٹر اور بیگ کا کھیل واللہ مزہ آجائے گا۔ وہاں سے آکر سب دوستوں کو بتاؤں گا کہ وہ کیسا کھیلتے ہیں۔ لنڈوال  یوں دوڑتا ہے یوں گیند پھینکتا ہے۔ ہاروے ایسے بلّا گھماتا ہے اور گیند باؤنڈری لائن میں نظر آرہی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا بمبئی تو سب دوستوں نے دیکھی ہے لیکن ٹیسٹ میچ آج تک کسی نے نہیں دیکھا۔ پہلی بار دیکھنے کا شرف مجھے حاصل ہوگا۔ اور بازار آگیا۔
دو روز بعد ساٹھ ہزار آدمیوں سے کھچا کھچ بھرے بریبورن اسٹیڈیم میں بیٹھے قیصر کا دل بلیوں اچھل رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کتنا شاندار گراؤنڈ ہے۔ ہمارے گراؤنڈ کے تو چوگنا ہے۔ باؤنڈری لائن کتنی دور ہے اگر مَیں پوری طاقت سے بھی بلّا گھماؤں تو بھی گیند وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔
پھر اُس نے مسکراتے ہوئے بھائی جان سے کہا ’’بھائی جان! اچھا ہوا جو آپ نے سیزن ٹکٹ لے لئے نہیں تو آج ٹکٹ ملنا بہت مشکل ہے۔ اپنے ساتھ جو افتخار صاحب تھے وہ تو اسٹیڈیم سے چرچ گیٹ تک لگی ہوئی لمبی لائن دیکھ کر ہی واپس لوٹ گئے۔‘‘
بھائی جان اُس کی باتیں سُن کر دل ہی دل میں مطمئن تھے کہ قیصر کتنا خوش ہے۔ اُسے آج میری کتنی قدر ہے۔ زندگی بھر بیچارہ یاد رکھے گا کہ میری وجہ سے اُسے ٹیسٹ میچ دیکھنا نصیب ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: شامت

سی سی آئی پویلین کے دروازے سے جب آسٹریلین کھلاڑی کپتان بینو کی قیادت میں جب گراؤنڈ پر داخل ہوئے تو قیصر انہیں اچک اچک کر دیکھنے لگا۔ بھائی جان اُسے بتانے لگے ’’یہ بینو ہے۔ اس کے بازو میں وہ موٹا سا جو ہے نا! وہ لنڈوال ہے۔ دائیں اونیل ہے۔ اور وہ دیکھو انڈیا کے اوپننگ بلہ باز بھی آگئے۔ وہ چشمہ والا رائے ہے اور دوسرا کنٹریکٹر۔‘‘
قیصر خوشی سے دیوانہ ہو رہا تھا اور یہ حالت صرف قیصر کی تھی بلکہ بمبئی اور بمبئی کے اطراف کے اُن ان گنت لوگوں کی تھی جو میچ دیکھنے آئے تھے۔
میچ شروع ہوا۔ رائے جلد ہی آؤٹ ہوگئے۔ عباس علی بیگ جم گئے تھے کہ اچانک گیند کپتان بینو نے اپنے ہاتھ لی۔ بینو کی پہلی ہی گیند دھپ سے بیگ کے پیٹ پر لگی۔ بینو کے سوا تمام کھلاڑیوں نے اپیل کی ایمپائر نے انگلی اُٹھا دی۔ قیصر کا دل دھک سے ہوگیا۔ بیگ اُس کا پسندیدہ کھلاڑی تھا۔ بیگ پویلین کی طرف لوٹ ہی رہا تھا کہ بینو نے اچانک اُسے ٹھہرا لیا اور اُسے دوبارہ کھیلنے کے لئے کہا۔ بینو نے ایمپائر سے کہا اُسے پورا یقین ہے کہ بیگ اُس کی اس گیند پر آؤٹ نہیں ہے۔ پھر بیگ دوبارہ کریز پر لوٹ آیا۔ سارا اسٹیڈیم خوشی سے پاگل ہوگیا۔ بیگ کے آؤٹ نہ ہونے پر اور بینو کی ایمانداری پر۔ ہر شخص بینو کی ’اسپورٹس مین اسپرٹ‘ کو سراہ رہا تھا۔ قیصر اس واقعہ سے بہت متاثر ہوا۔ ایمپائر نے بھی آؤٹ قرار دیا تھا پھر بھی بینو کی اتنی ایمانداری۔ اُسے بیگ کی نصف سنچری سے زیادہ بینو کے اس رویہ کی خوشی تھی۔
پانچ روز تک قیصر نے میچ دیکھا اور پھر وہ گھر لوٹ آیا۔ گھر آکر اُس نے میچ کا تمام حال اپنے دوستوں کو سنایا۔ لیکن بینو والا واقعہ سناتے اُسے بہت شرم محسوس ہوئی اور وہ، وہ واقعہ بیان نہیں کرسکا۔ اور پھر اُس نے ایک میچ بھی مقرر کر لیا۔
اُس کے دوست میچ کے دن ناراض تھے کہ آج بھی قیصر آؤٹ ہوگا اور دھاندلی کرے گا۔ اور سارے کھیل کا ستیاناس ہوجائیگا۔ بہت سوچ کر انہوں نے آپس میں یہ طے کر لیا کہ اگر آج قیصر آؤٹ بھی ہو تو بھی وہ اپیل نہیں کریں گے اور اُسے کھیلنے دیں گے۔ قیصر آج بہت اچھا کھیل رہا تھا۔ تمام ٹیسٹ کھلاڑیوں کی اسٹائلز اُس نے ذہن نشیں کر لی تھیں۔ جب اُسکے پچیس رنز پورے ہوگئے تو اچانک ہلال کی ایک گیند اُسکے پیٹ پر لگی۔ ارادہ نہ کرتے ہوئے بھی ہلال کے منہ سے بے ساختہ اپیل نکل گئی۔ اور ایمپائر باسط نے اُنگلی اُٹھا دی۔
تمام بچّے سمجھے کہ اب ہوگیا کھیل کا ستیا ناس۔ لیکن خلاف معمول قیصر مسکراتا ہوا کریز پر سے ہٹ گیا ’’یس آئی ایم آؤٹ! ہلال تمہارا لگ بریک بہت اچھا تھا۔ بالکل بینو کی طرح۔‘‘ اور قیصر نے آگے بڑھ کر ہلال سے ہاتھ ملایا۔ تمام بچّے مسکراتے ہوئے بڑی حیرت سے قیصر کو دیکھ رہے تھے۔ لیکن کوئی یہ نہ جانتا تھا کہ ہلال نے تو قیصر کو ایل بی ڈبلیو کر ہی دیا ہے لیکن ساتھ ہی قیصر کی بے یمانی بینو کی ایمانداری کے لگ بریک سے ایل بی ڈبلیو ہوگئی ہے۔
(ماخوذ: کھلونا، نومبر ۱۹۶۰ء)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK