Inquilab Logo Happiest Places to Work

شامت

Updated: April 04, 2026, 11:38 AM IST | Abida Mahboob | Mumbai

دو بہنوں کی نوک جھونک پر مبنی ایک پیاری سی کہانی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

کھانے کی میز سے جیسے ہی مَیں اٹھی آپا بری طرح چونک پڑیں ’’ہیں! کھا چکیں!‘‘
مَیں نے جواب دینے کے بجائے اثبات میں صرف اپنا سَر ہلا دیا۔
’’ارے! بس اتنا سا؟ کھایا ہی کیا تم نے؟ یہ دہی بڑے، آلو کی کھیر اور آم تو یوں ہی رکھے ہیں!‘‘
’’نہیں آپا! اب نہیں!‘‘
’’بھئی! نخرے نہ کرو۔ چلو آؤ! دیکھو تو آلو کی کھیر کتنی لذیذ بنی ہے!‘‘ وہ میرے منہ میں پانی لانے کی کوشش کرنے لگیں۔
’’قسم سے آپا بالکل جگہ نہیں ہے۔ ورنہ مَیں نہ کھاتی؟‘‘
’’دیکھا امّی آپ نے؟‘‘ وہ آم کاٹتے کاٹتے امی سے مخاطب ہو کر بولیں ’’اس کی غذا دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔ پہلے تو کچھ کھا لیا کرتی تھی۔ مگر اب تو چڑیا کی طرح دو دانے کھاتی ہے! دبلی نہ ہوگی تو کیا ہوگا.... مَیں لاکھ کہتی ہوں کہ....‘‘
یقین جانئے جب بھی آپا اس قسم کا پیار جتاتی ہیں (ہائے اس پیار کے قربان) تو مجھے ہمیشہ ایک واقعہ یاد آجاتا ہے۔ وہ واقعہ جس نے ’ماضی کی آپا‘ اور ’حال کی آپا‘ میں زمین و آسمان کا فرق پیدا کر دیا۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میری عمر ۶؍ سال کی ہوگی اور آپا ہوں گی کوئی گیارہ سال کی۔ چونکہ وہ مجھ سے بڑی تھیں۔ اس لئے رعب جمانا تو ان کا پیدائشی حق تھا ہی۔ پھر بے دھڑک دبلے پن کی وجہ سے اُن کے ’اونٹ نما‘ قد نے انہیں اپنے ’طرہ باز خاں‘ ہونے کا یقین دلایا تھا۔ اس یقین کی بنا پر وہ بڑی فراخ دلی کے ساتھ مجھ پر رعب جمایا کرتی تھیں! ایک دو باتیں ہوتیں تو نظرانداز بھی کر دی جاتیں پر ان کا تو میری ہر چیز اور ہر بات میں دخل تھا۔ کھیلنے کودنے میں، سونے جاگنے میں، پڑھنے لکھنے میں، اُٹھنے بیٹھنے میں اور خصوصیت سے کھانے پینے میں ’’ہیں ہیں! اچار مت کھانا کھانسی ہوجائے گی۔‘‘ ’’ارے! جیلی مت سونگھنا، زکام ہوجائے گا۔‘‘ ’’موز کو ہاتھ نہ لگانا قبض ہوجائے گا۔‘‘ ’’نارنگی اور جامن کی طرف نہ دیکھنا۔ گلے آجائیں گے!‘‘ وغیرہ وغیرہ۔
ظاہر ہے مَیں اُن کا دخل درمعقولات ہر چیز میں برداشت کرسکتی تھی مگر کھانے پینے کی چیزوں میں بھلا کیسے گوارا کرسکتی تھی؟ آپ ہی بتلائیے یہ کہاں کا انصاف تھا کہ خود تو مرغی کی طرح چن چن کر کھاتی پھرتیں اور سب چیزیں مجھ پر حرام کر دیتیں! نتیجہ یہ کہ مجھ میں اور آپا میں ہمیشہ ٹھنی رہتی۔ یہی نہیں امی کو بھی الٹی سیدھی باتیں سکھایا کرتیں۔ امی کا دل یوں بھی بڑا ہے۔ سب سے بڑھ کر مساوات کا قائل! چھوٹا ہو یا بڑا۔ امی ہر چیز سب کو برابر تقسیم کرتیں! مگر یہ آپا جو اس وقت سرمایہ دارانہ دل و دماغ رکھتی تھیں کبھی یہ گوارا نہ کر پاتیں کہ چھوٹوں کو بھی بڑوں کے برابر حصہ ملے۔ فوراً بیچ میں ڈنڈی مارتیں ’’امّی! ان لوگوں کو آدھا آدھا گلاب جامن دے دیجئے بس۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیکی کا پھل

ایسے ہی کشمکش کے دن گزر رہے تھے کہ ایک دن بابا کے کسی دوست کے یہاں سے دعوت آئی۔ بابا تو اپنے کام کی وجہ سےد ورے پر تھے۔ امی کی طبیعت ٹھیک نہ تھی اسلئے وہ بھی نہ جاسکیں، مجھے اور آپا کو نوکر کے ہمراہ بھجوا دیا۔ بھجوانے سے پہلے امی نے ہم دونوں کو ہدایتیں کیں!
’’وہاں جا کر سب کو سلام کرنا! تمیز سے بیٹھنا۔ ادب سے بات کرنا۔ آپس میں مت لڑنا۔ اِدھر اُدھر بھاگ دوڑ نہ کرنا۔ یہ نہ کرنا۔ وہ نہ کرنا وغیرہ وغیرہ۔‘‘ پھر آپا سے مخاطب ہو کر بولیں ’’دیکھو اپنی چھوٹی بہن کا خیال رکھنا....‘‘ کاش! امّی نے سب کچھ کہا ہوتا۔ آخری جملہ نہ کہتیں تو کتنا اچھا ہوتا۔ کیونکہ ان کے اس حکم کو آپا نے سَر آنکھوں پر لیا بھی تو بھی کھانے کی میز پر!
’’بس ٹھیک سے بیٹھو اور تمیز سے کھاؤ! ورنہ میں جاکر امی سے صاف صاف کہہ دوں گی!‘‘ انہوں نے خواہ مخواہ چھیڑ شروع کی۔ مجھے بھوک زوروں پر لگ رہی تھی۔ پھر دو قسم کے پلاؤ۔ دو چار میٹھے۔ دم کا مرغ، قورمہ۔ روٹی نہ جانے کیا کیا رکھا تھا سامنے! مَیں نے آپا کی بات ایک کان سے سنی اور دوسرے کان سے نکال دی۔ کچھ دیر بعد وہ پھر آہستہ سے بولیں ’’تم انڈا مت کھانا۔ رات کا وقت ہے ہضم نہ ہوگا!‘‘ اور خود دو انڈے ہضم کر لئے! ذرا سا انٹرول دے کر پھر ’کھسر پھسر‘ شروع کی ’’اور دیکھو.... تم فیرنی بھی مت کھانا.... زکام نہ ہوجائے!‘‘ اور خود دو تین پیالے چٹ کر گئیں! آپا کے اس طرح پورا پورا خیال رکھنے پر مَیں جھنجھلا گئی گھر تو گھر باہر بھی یہ رعب جمائیں گی۔ اس خیال سے مجھے آگیا غصہ۔ دھیرے سے جواب دیا۔
’’آپا! یہ گھر نہیں ہے!‘‘
’’گھر ہو یا باہر! پیٹوؤں کی طرح نہ کھاؤ! مالِ مفت ملا تو کیا ہوا پیٹ تو اپنا ہے! کہیں کوئی شامت آگئی تو غضب ہوجائیگا۔ امی مجھ پر ناراض ہونگی!‘‘
یا اللہ....! تو کیا یہ چاہتی ہیں کہ میں بس ہوا پر زندہ رہوں! پھر میں آپا کو ’’نہ... نہ!‘‘ اور ’’بس... بس!‘‘ کے ساتھ ’’اپنی تواضع آپ‘‘ پر پوری طرح ’’عمل‘‘ کرتے ہوئے پھر بھی دیکھ رہی تھی۔ کیسے چھوڑ دیتی۔
’’آپا! آپ بھی ذرا دیکھ بھال کر کھائیے.... ورنہ....‘‘
’’ورنہ کیا....؟‘‘
’’آپ صبح کہہ رہی تھیں کہ سَر میں درد ہو رہا ہے.... کہیں پیٹ میں درد نہ ہوجائے!‘‘
’’مَیں تمہاری جیسی نہیں ہوں کہ پیٹ پر سے جان قربان کر دوں!‘‘ اُن کی آواز تو دھیمی رہی مگر چہرہ مارے غصے کے ’چقندر‘ ہوگیا۔
’’پھر آپ کس کے جیسی ہیں!‘‘ مَیں بھی جرح پر اُتر آئی۔
’’جو جانتے ہیں احتیاط بہتر ہے علاج سے!‘‘ وہ فخریہ بولیں۔
’’بالکل نہیں جانتیں آپ یہ بات!‘‘ مَیں نے بھی چپکے چپکے میں ہی انہیں چڑایا۔
’’اچھا دیکھ رہی ہوں تمہاری ساری بدتمیزیاں! ٹھہرو۔ امّی سے نہ کہوں تو میرا دوسرا نام رکھ دینا!‘‘
اور گھر آکر آپا نے امی سے میری الٹی سیدھی شکایتیں کیں۔ اپنی بڑی پارسائی جتائی اور لگیں ٹسوے بہانے! امّی نے مجھ ’شیطان‘ کو خوب ڈانٹا اور میں روتے روتے نہ جانے کب سوگئی۔
رات یکایک آنکھ جو کھلی تو دیکھا گھر کی تمام بتیاں کھلی پڑی تھیں کچھ بھاگ دوڑ ہو رہی تھی۔ امی اور نوکر پریشان کھڑے تھے اور ڈاکٹر شعیب معائنہ کر رہے تھے۔
’’ہائے اللہ.... اب زندہ نہیں بچوں گی.... افوہ.... امی.... یا اللہ مَیں کیا کروں؟‘‘ آپا پیٹ پکڑے مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھیں! ’’ار.... ارے مَیں مری....‘‘
آپا کی یہ حالت دیکھ کر مجھے ایک دم رونا آگیا ’’یا اللہ تو آپا کو جلدی اچھا کر دے میں ایک روپیہ خیرات کروں گی!‘‘ مَیں گم سم کھڑی دل ہی دل میں لمبی چوڑی دعائیں مانگنے لگی۔ آخر ڈاکٹر صاحب کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ وہ کہہ رہے تھے ’’پریشانی کی کوئی بات نہیں! دراصل کھانا ہضم نہیں ہوا.... اسی لئے الٹیاں ہو رہی ہیں۔ یہ دوا کھلا دیجئے۔ صبح تک سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: گیت گایا کوے نے

واقعی صبح تک آپا ٹھیک ہوگئیں مگر کمزور کافی ہوگئیں! نہ جانے کیوں مجھے سوجھی شرارت! سوچا اب آپا کی ’مزاج پرسی‘ ذرا اچھی طرح کروں! کمرے میں جا کر دیکھا تو وہ سَر سے پیر تک لحاف تانے پڑی تھیں (مارے شرم کے!) میں نے قریب جا کر پوچھا:
’’آپا! سنا ہے رات دشمنوں کی طبیعت خراب ہوگئی تھی!‘‘ کوئی جواب نہیں۔
’’مالِ مفت ملا تھا تو کیا ہوا.... پیٹ تو اپنا تھا!‘‘ جواب ندارد۔
’’بھلا پیٹو کیا جانیں احتیاط بہتر ہے علاج سے!‘‘ وہ اب بھی چپ رہیں۔
مَیں تو نشتر لگانے پر تلی ہی بیٹھی تھی ’’کیا ارسطو چورن ختم ہوگئی تھی جو یہ ’شامت‘ آگئی!‘‘
یکایک زلزلہ آگیا.... آپا لحاف سے نکل اُٹھ بیٹھیں اور مَیں بھاگ کر دور جا کھڑی ہوئی! وہ مجبوراً پلنگ پر بیٹھے بیٹھے چلّا اُٹھیں۔
’’امّی! منع کر دیجئے اس ’نمبری‘ کو ورنہ پیٹ کر رکھ دوں گی؟‘‘
’’آئینہ دیکھئے پہلے!‘‘ مَیں نے نقل کی ’’پیٹ کر رکھ دوں گی! ہوں!‘‘
’’مَیں کہتی ہوں دفع ہوجا یہاں سے!‘‘ ان کی اکڑ باقی ہی تھی۔
’’مَیں تو جا رہی ہوں ناشتہ کرنے! آج ناشتہ بھی بڑا زور دار ہے! بتلاؤں ناشتہ پر کیا کیا ہے؟ مگر کیا فائدہ آپ کو بتلانے سے.... ڈاکٹر صاحب نے تو آپ کو نمک و پانی کا ساگودانہ دینے کو....‘‘
انہوں نے کوئی چیز مار پھینکنے کے لئے اٹھائی اور مَیں وہاں سے بھاگ آئی۔ اتفاق سے اس دن ناشتہ پر معمول سے زیادہ الم غلم چیزیں تھیں اور بہت ساری میری پسندیدہ! مگر باوجود امی کے اصرار کے مَیں صرف ایک پیالی دودھ کے کچھ نہ لے سکی! نہ جانے کیوں....؟
....وہ دن اور آج کا دن آپا بالکل ’سیدھی‘ ہوگئی ہیں!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK