پتھروں کو رگڑ کر آگ پیدا کی جاتی تھی اور چونکہ برتن وغیرہ اس زمانہ میں ایجاد نہیں ہوسکے تھے اس لئے پرندوں اور جانوروں کو آگ میں بھون کر کھایا کرتے تھے۔
EPAPER
Updated: March 28, 2026, 3:23 PM IST | Parvana Rudolvi | Mumbai
پتھروں کو رگڑ کر آگ پیدا کی جاتی تھی اور چونکہ برتن وغیرہ اس زمانہ میں ایجاد نہیں ہوسکے تھے اس لئے پرندوں اور جانوروں کو آگ میں بھون کر کھایا کرتے تھے۔
یہ اس زمانہ کی بات ہے۔ جب نہ ہوائی جہاز تھے نہ پانی کے جہاز۔ نہ ایٹم بم تھے نہ ہائیڈروجن بم۔ نہ خلائی جہاز تھے نہ راکٹ موٹر کاریں۔ جیپیں، ٹرینیں اور سائیکلیں تو بڑی چیزیں ہیں بیل گاڑیاں بھی نہ تھیں۔ اُس زمانہ میں لوگ جنگلوں میں رہتے تھے۔ بڑے بڑے شہروں اور بندرگاہوں کی جگہ پر خوفناک جنگل اور ویران چٹانیں وغیرہ تھیں لیکن انسان اُس زمانہ میں بھی زیبائش کو پسند کرتا تھا۔ عورتیں طرح طرح کے رنگ برنگے پتھروں کو رگڑ رگڑ کر اُن کے زیورات بناتی تھیں۔ مرد بھی جنگلی درندوں کی ہڈیوں اور جڑی بوٹیوں کو کسی درخت کی چھال کے ریشے نکال کر اُن پر گوندھتے تھے اور عجیب و غریب مالائیں پہنا کرتے تھے۔
پتھروں کو رگڑ کر آگ پیدا کی جاتی تھی اور چونکہ برتن وغیرہ اس زمانہ میں ایجاد نہیں ہوسکے تھے اس لئے پرندوں اور جانوروں کو آگ میں بھون کر کھایا کرتے تھے۔
اُس دور میں لوگ مختلف قبیلوں اور گروہوں میں بنٹے ہوئے تھے۔ ہر قبیلہ اور گروہ کا ایک سردار ہوتا تھا جسے اس کی اطاعت قبول کرنے والے لوگ ٹیکس ادا کیا کرتے تھے۔ اس سردار کا حکم قانون کی حیثیت رکھتا تھا۔ اور کوئی بھی جھگڑا نہ اقوام متحدہ میں جاتا تھا نہ کسی اعلیٰ و ادنیٰ عدالت میں بلکہ قبیلہ کے سردار کے سپرد ہر جھگڑا کر دیا جاتا تھا اور اس کا فیصلہ ہی سب کچھ ہوتا تھا۔ اکثر قبیلے اپنے سرداروں کی پوجا یا پرستش کرتے تھے اور اُن کے احکامات کو خدائی احکامات سمجھ کر اُن پر عمل کرتے تھے۔ وہ عجیب دُنیا تھی۔ نہ عالمگیر جنگ کے خطرات تھے نہ انساں کے تباہ و برباد ہونے کے شبہات۔ ہاں یہ بات ضرور تھی کہ اکثر مختلف قبیلوں کے درمیان خوفناک جھڑپیں ہوجاتی تھیں لیکن یہ جھڑپیں اتنے محدود علاقہ میں ہوتی تھیں کہ ایک جنگل پر ہونے والی جھڑپ کا علم تھوڑے فاصلے پر واقع دوسرے جنگل میں رہنے والوں کو کافی دیر کے بعد ہوا کرتا تھا۔ ان مقابلوں یا جھڑپوں میں نکیلے پتھروں، لکڑی کے تیروں اور خار دار ڈنڈوں ہی کا استعمال ہوتا رہا ہوگا اس لئے یقینی طور بہت کم لوگ ہلاک ہوتے رہے ہوں گے۔ پھر بھی جنگ بہرحال بُری چیز ہے اور وہ زمانہ بھی ان برائیوں سے پاک نہیں تھا۔ رفتہ رفتہ حالات بدلے اور انسان پتھروں سے دھاتوں کے دور میں داخل ہوگیا۔ سونے، چاندی اور ہیرے جواہرات کا پتہ لگا تو مال و دولت حاصل کرنے کے لئے جھگڑے بڑھنے لگے۔ لیکن قبائلی طرز زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اب ایک قبیلہ کی دوسرے قبیلہ سے جو لڑائی ہوتی اُس میں تیر، بلم، بھالے اور تلوریں استعمال کی جاتیں اور اس مقابلہ میں کافی جانی و مالی نقصان ہوتا۔ یہ زمانہ بھی پتھروں کے زمانے ہی کی طرح بڑا طویل تھا۔ اور اس زمانہ کے لوگ خود کو بہت ترقی یافتہ سمجھتے تھے لیکن تم ہی بتاؤ کہ آج کے دور کے مقابلہ میں اس دور کی وقعت ہے بہرحال ہر نئی چیز پُرانی بنتی جائے گی اور ہر پرانی بات داستان بنتی جائے گی۔ انسان کی فکر و تلاش کا جذبہ نئے نئے مسائل بھی پیدا کرتا رہے گا اور کچھ پُرانے مسائل کو حل بھی کرتا رہے گا۔ لیکن ہم تو بات کر رہے تھے اُس زمانہ کی جب سونے، چاندی، فولاد، تانبے، پیتل اور ہیروں جواہرات کا پتہ چل گیا تھا اور ان چیزوں کے لئے مختلف قبیلوں کے درمیاں بڑی بڑی جنگیں ہوتی تھیں۔ اسی زمانہ میں اپنے ملک ہندوستان ہی میں ہمالیہ کی وادی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بیوہ عورت رہتی تھی۔ اس کا نام تھا ساوتری۔ اُس کا شوہر بڑا بہادر اور جنگجو انسان تھا اور اُس کے گھر میں دولت کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ اگر ساوتری چاہتی تو وہ ساری عمر اپنے شوہر کی جمع کی ہوئی دولت کے سہارے پر عیش و آرام سے زندگی گزار دیتی مگر وہ بے انتہا رحم دل اور نیک عورت تھی۔ کوئی ضرورتمند بھی چاہے وہ جس رنگ و نسل کا ہو اُس کے دروازہ پر آکر مایوس واپس نہیں ہوتا تھا۔
لوگ جوق در جوق ساوتری کے گھر پر آتے۔ اُسے اپنی پریشانیوں اور مصیبتوں سے آگاہ کرتے اور ساوتری غور سے اُن کی باتیں سننے کے بعد اُنہیں کھانا کھلاتی اور حسب ِ ضرورت رقم دے کر رخصت کر دیتی۔ اُس کی رحم دلی اور خدمت خلق کے چرچے دور دور تک تھے۔ ایک روز ساوتری اپنے باغ میں ٹہل رہی تھی اُس نے دیکھا کہ نرم و گداز گھاس پر ایک زخمی چڑیا پڑی ہوئی پھڑپھڑا رہی ہے۔ ساوتری نے چڑیا کو بڑی احتیاط سے اُٹھایا اور اپنے گھر میں داخل ہوگئی۔ وہاں اُس نے چڑیا کے زخموں کی مرہم پٹی کی، گرم دودھ پلایا اور اس وقت تک اپنے ہاتھوں میں رکھا جب تک اُس کے جسم میں گرمی نہ پہنچ جائے۔ ایک مہینہ تک ساوتری نے اس چڑیا کی خدمت کی یہاں تک کہ اب وہ چڑیا اُڑنے کے قابل ہوگئی۔
ایک دن وہ چڑیا ساوتری کے شانہ پر بیٹھی اور ساوتری کے گالوں کو اپنی چونچ سے مس کرنے لگی جیسے الوداعی بوسے لے رہی ہو پھر اُڑ گئی۔
کئی سال گزر گئے۔ ساوتری کی کوئی آمدنی تو تھی نہیں وہ تو اپنے شوہر کی چھوڑی ہوئی دولت ہی کو خرچ کر رہی تھی اس لئے رفتہ رفتہ وہ غریب ہوگئی تھی۔ ایک دن ایسا بھی آیا جب اُس کے گھر میں ایک دانہ بھی نہ رہ گیا۔ بھوک ایک ایسی خواہش ہے جس سے کسی شخص کا بھی بچنا مشکل ہے۔ ساوتری کو بھوک نے جب بہت ستایا تو اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے اُس نے کھانا لینا شروع کیا لیکن سب لوگ تو ساوتری کی طرح رحم دل تھے نہیں اس لئے ایک دن ایسا بھی آیا جب تمام دوستوں اور رشتہ داروں نے ساوتری کو کھانا دینا بند کر دیا اور وہ کئی دن تک بھوکی رہی۔ ایک روز صبح کو وہ بہت اداس اور مایوس اپنے باغ کے ایک گوشہ میں بیٹھی تھی اچانک کوئی چیز آکر اُس کے کاندھے پر بیٹھ گئی۔ گھبرا کر اس نے شانہ پر نظر ڈالی تو ایک چڑیا بیٹھی ہوئی نظر آئی اور اُس نے اندازہ لگا لیا کہ یہ وہی چڑیا ہے جس کی برسوں قبل اُس نے خدمت کی تھی۔ چڑیا نے تھوڑی دیر تک ساوتری کے شانہ پر آرام کیا اُسکے بعد اپنی چونچ سے کوئی چیز ساوتری کے ہاتھ پر پھینکی اور اُڑ گئی۔ ساوتری نے دیکھا کہ وہ ایک چھوٹا سا بیج تھا۔ وہ مسکرائی اور یہ سمجھی کہ چونکہ اُس نے چڑیا کی ایک عرصہ تک خدمت کی تھی اس لئے آج وہ احسان اُتار گئی ہے۔ اس نے بیج کو اپنے قریب ہی زمین کھود کر گاڑ دیا اور اُٹھ کر گھر چلی گئی۔ پھر وہ اس واقعہ کو بھول بھی گئی۔
لیکن ایک دن ایک مسافر اس کے گھر پر آیا اور اُس نے کچھ کھانے کے لئے مانگا۔ اس روز بھی ساوتری کے گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا وہ بہت پریشان ہوئی اُس کے ذہن میں بار بار یہ سوال اُبھرا کہ ’’ایک مہمان کو وہ اپنے گھر سے کیسے مایوس و نامراد واپس کر دے؟‘‘
جلدی جلدی وہ اپنے باغ میں یہ دیکھنے گئی کہ اگر کسی درخت میں کوئی پھل ہو تو توڑ کر لے آئے اور مہمان کی خاطر و مدارات کرے۔ یہ دیکھ کر اُسے بڑی حیرت ہوئی کہ اُس کے باغ میں ایک ایسی تربوز کی بیل پھیلی ہوئی ہے جو اُس نے پہلے کسی باغ میں نہیں دیکھی تھی۔ اس تربوز کی بیل میں ایک پکّا ہوا تربوز بھی لگا تھا اُس نے یہ تربوز توڑ لیا اور خوشی خوشی گھر واپس ہوئی اس نے تربوز کو اپنے مہمان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ’’مجھے افسوس ہے کہ اس وقت میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے مَیں آپ کی خدمت میں پیش کرسکوں!‘‘ اس نے جیسے ہی ایک چھری سے تربوز کو کاٹا اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ تربوز کے اندر سے بہت سے ہیرے جواہرات اور آنکھوں کو چکا چوند کرنے والے قیمتی پتھر نکل کر زمین پر بکھر گئے۔ اُس نے حیرت سے اپنے مہمان کی جانب دیکھا لیکن اُس مہمان نے مسکرا کر کہا ’’ساوتری یہ تمہاری نیکیوں اور مہربانیوں کا پھل ہے!‘‘ اور یہ کہہ کر وہ مہمان پُراسرار طور پر غائب ہوگیا۔