سابق جج مرحوم احمدسعید عریضی کیلئے وائی بی چوان سینٹر میں تعزیتی نشست میں سابق چیف جسٹس چندرچڈ کا تعزیتی پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔
سابق جج مرحوم احمدسعید عریضی۔ تصویر: آئی این این
بامبے سٹی سول کورٹ کے سابق جج اور گریٹر ممبئی کے سابق ایڈیشنل سیشن جج ایڈوکیٹ احمد سعید عریضی (۹۱؍ سال ) کیلئے جمعہ کو وائی بی چوان سینٹر میں تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیاجس میںشہر کے نامور سابق جج اور وکلاء کے علاوہ معروف اور معزز شخصیات نے شرکت کی۔
ایڈوکیٹ احمد سعید عریضی وکالت کے پیشے سے وابستہ ہونے کے ساتھ متعدد سماجی، تعلیمی اور ملّی اداروں سے منسلک تھے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ اقلیتی کمیشن ، منی بھون ،گاندھی سنگھرالیہ اور انجمن اسلام کے مختلف عہدوں پر فائز رہے۔
بامبے ہائی کورٹ کے سابق جج سید امجد، جسٹس روشن دلوی ، جسٹس شمیم دلوی ، سینئر کونسل گوپال ہیگڈے، ایڈوکیٹ پورنیما کنتھاریہ ، ایڈوکیٹ سعید اختر، ایڈوکیٹ مبین سولکر، ایڈوکیٹ کرون وکیل، ایڈوکیٹ قاضی مہتاب اور ایڈوکیٹ ویشنو وغیرہ نے تعزیتی نشست میں شریک ہوئے۔
سابق چیف جسٹس آف انڈیا دھننجے چندرچڈ نے بھی ایڈوکیٹ عریضی کی رحلت پر خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوںنے عریضی صاحب کی بیٹی شفق عریضی کو تعزیتی پیغام ارسال کیا جس میں انہوں نے کہا ہےکہ ’’مجھے آپ کے والد کے انتقال کے بارے میں جان کر دکھ ہوا ۔ ایڈوکیٹ عریضی کو میں اس وقت سے جانتا تھا جب وہ سٹی سول کورٹ کے جج تھے ۔ انہوں نے جب بارکونسل میں شمولیت اختیار کی تو وہ قانونی پیشے کے ایک شناسا رکن تھے۔ و ہ عدالت اور مخالفین کیلئے ہمیشہ نرم مزاج، ہمدرد اور مہربان رہے ۔ وہ ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے ۔ میری دعائیں آپ کے اور آپ کے خاندان کے ساتھ ہیں۔‘‘
اسمال کائوسز کورٹ کے وکیل سنتوش ہری داس نے کہا کہ ’’میں نے اپنی پریکٹس ۲۰۰۰ءمیں شروع کی تھی۔ عریضی صاحب میرے حریف تھے لیکن جس سادگی ، خلوص اور محبت سے پیش آئے تھے ، مجھے کبھی نہیں لگاکہ وہ میرے مخالف ہیں ۔انہوں نے ہمیشہ میری رہنمائی کی ۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ۔ ان کی موت میرے لئے ذاتی نقصان ہے ۔وہ بڑی ایمانداری سے پریکٹس کرتے تھے۔ایسے قیمتی لوگ اب نہیں ملیں گے ۔‘‘
معروف صحافی جیوتی پنوانی نے کہا کہ ’’ ایڈوکیٹ عریضی سے ہمارے دیرینہ تعلقات تھے۔ وہ گاندھی نواز تھے۔ سرودیہ مہم سے بھی ان کی وابستگی رہی۔ بہت ہی اُصول پرست تھے۔ کبھی غصہ نہیں ہوتے تھے ۔ ہم نے ان سے صبر کرناسیکھا۔وہ اپنی قوم کی کمیوں کا بھی برملا اظہار کرتے تھے۔ ان کی کمی کاشدت سے احساس ہو رہاہے ۔‘‘
منی بھون کے ایگزیکٹیو سیکریٹری میگھ شیام اجگائوکر اور آفس سیکریٹری سجیو راجن کے علاوہ ایڈوکیٹ سعید اختر نے ایڈوکیٹ احمد سعید عریضی کو پُرخلو ص ،ایماندار، انسانیت نواز، رشتہ نبھانے والا اور نیک انسان قرار دیتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
سابق جج سیدامجدنے ایڈوکیٹ عریضی کے تعلق سے اپنے جذبات کا اظہار کرتےہوئے کہاکہ ’’ ایک سینئر وکیل ہونے کے باوجود جس طرح وہ اپنے جونیئر وکلاء کے ساتھ پیش آتے تھے، وہ اپنی مثال آپ ہے ۔انہوںنے کبھی اپنی ذات سےکسی کو تکلیف نہیں پہنچائی ۔قانونی معاملات میں اپنے ہم پیشہ افرادکی ہمیشہ مدد کی۔ اس طرح کے لوگ اب نہیں ملیں گے۔‘‘
ان کے فرزند معین عریضی نےکہاکہ ’’میرے والد نے ہمیشہ لوگوں کی مدد کی اور اپنے تجربے کی بنیاد پر ۵۰؍سے زیادہ اُمیدواروں کو وکالت کی ڈگری دلانے میں مددکی ہے۔ جج کی حیثیت سے ان کی خدمات کو لوگ آج بھی یاد کرتےہیں۔ ان کادفتر لاءیونیورسٹی کی حیثیت رکھتا ہےکیونکہ یہاںسےلوگو ںکو بہت کچھ سکھایاجاتاہے۔‘‘