Inquilab Logo Happiest Places to Work

چھ مسلم اکثریتی اضلاع جو ممتا کی جیت میں اہم رول ادا کرتے ہیں

Updated: April 25, 2026, 11:41 AM IST | Kolkata

مرشد آباد، مالدہ، شمالی دیناج پور، جنوبی۲۴؍پرگنہ، شمالی۲۴؍پرگنہ اور بیر بھوم کے اسمبلی حلقوں  میں  ٹی ایم سی کی اچھی گرفت ہے، ۲۰۲۱ء میں ٹی ایم سی نے ۲۱۵؍ سیٹوں  پر کامیابی حاصل کی تھی جن میں  سے۱۰۳؍ یعنی ۴۸؍ فیصد سیٹیں صرف ان ۶؍ اضلاع سے آئیں۔

Muslim voters in these districts used to lean towards the Left Front, which Mamata Banerjee has wooed in her favour. Photo: INN
ان اضلاع کے مسلم ووٹرز کا جھکاؤ پہلے بائیں محاذ کی طرف ہوا کرتا تھا، جسے ممتابنرجی نے اپنے حق میں  کیا۔ تصویر: آئی این این

مغربی بنگال کے۲۳؍ اضلاع میں سے۶؍ مسلم اکثریتی اضلاع مرشد آباد، مالدہ، شمالی دیناج پور، جنوبی۲۴؍پرگنہ، شمالی۲۴؍پرگنہ اور بیر بھوم وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی پارٹی ٹی ایم سی کی جیت میں غیر معمولی رول ادا کرتے ہیں۔ اسمبلی کی کل ۲۹۴؍ میں سے ۱۱۸؍ نشستیں یعنی۴۰؍ فیصد نشستیں انہی اضلاع میں ہیں۔ 
۲۰۲۱ءمیں ٹی ایم سی نے ۲۱۵؍ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی جن میں سے۱۰۳؍ یعنی ۴۸؍ فیصد سیٹیں صرف ان ۶؍ اضلاع سے آئیں۔ ان اضلاع میں ٹی ایم سی کی جیت کا تناسب ۸۷؍ فیصد فیصد رہا تھا جبکہ بی جے پی کو محض۱۴؍ نشستیں ملی تھیں۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں  ہیں  بلکہ یہ ۶؍ اضلاع مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کے اقتدار کی بنیاد ہیں۔ اگر یہ بنیاد ہلی تو ریاست میں  ٹی ایم سی کی کی حکومت بھی ہل سکتی ہے۔ ہمایوں  کبیر اور مجلس اتحاد المسلمین کے اتحاد سے اس خطہ میں ٹی ایم سی کوشدید نقصان کا خطرہ تھا تاہم ہمایوں  کبیر کی بی جےپی سے در پردہ ساز باز بے نقاب ہونے کے بعد یہ خطرہ بڑی حد تک کم ہوا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: راگھو چڈھا نے عام آدمی پارٹی میں پھوٹ ڈال دی، بی جے پی میں شامل ہوگئے

یہ خطہ ۳۴؍ سال تک بائیں  محاذ کا گڑھ رہا۔ مسلم ووٹر’’لال جھنڈے‘‘ کے ساتھ تھے مگر ۲؍ واقعات نے صورتحال بدل دی اور ٹی ایم سی کو یہاں  قدم جمانے کا موقع مل گیا۔ ۲۰۰۶ء کی سچر کمیٹی رپورٹ نے ظاہر کیا کہ بنگال کے مسلمانوں کی معاشی اور سماجی حالت ملک کے دیگر علاقوں کے مسلمانوں  کے مقابلے میں  زیادہ بدتر ہے۔ فطری طور پر اسے بائیں  محاذ کی دہائیوں کی حکمرانی کے نتیجہ کے طور پر دیکھا گیا اور مسلمانوں میں بائیں  محاذ کے خلاف گہری ناراضی پیدا ہوئی۔ پھر۲۰۰۷ءمیں نندی گرام اور سنگور میں زمین کو تحویل میں  لینے کا معاملہ سامنے آیا۔ اس سے بڑی تعداد میں مسلم کسان متاثر ہونے والے تھے۔ ممتا نے ان کے اس خلاف مہم چھیڑ دی اور ’’ ماں، مٹی، منُش’ کا نعرہ دے کر خود کو غریبوں اور اقلیتوں کا ہمدرد باور کرایا۔ بائیں  محاذ سے ناراض مسلم ووٹر ان کی طرف آنے لگے۔ ۲۰۱۱ء میں اقتدار میں آنے کے بعد ممتا نے اس تعلق کو پالیسیوں کے ذریعہ اور مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ ائمہ کرام اور مؤذنین کیلئے ماہانہ وظیفہ، ’’ایکیاشری‘‘ اسکالرشپ کے ذریعے لاکھوں اقلیتی طلبہ کی مددکی راہ ہموار کی اور مسلم برادریوں کو او بی سی میں شامل کر کے ریزرویشن کا فائدہ پہنچایا۔ 

یہ بھی پڑھئے: آخربنگال میں غیر معمولی۹۲ء۹۰ ؍ فیصد پولنگ کی وجہ کیا ہے ؟

جب این آر سی اور سی اے اے کے بعد مسلمانوں  میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا تو ممتا نے خود کو مسلمانوں کی واحد محافظ کے طور پر پیش کیا۔ یہ بیانیہ اتنا مضبوط ہوا کہ۲۰۲۱ء میں بی جے پی بھرپور کوششوں کے باوجود مسلم ووٹوں میں دراڑ نہیں ڈال سکی۔ 
مغربی بنگال کے سینئر صحافی پربھاکر منی تیواری کے مطابق اس بار ایس آئی آر میں کافی نام کٹے ہیں، جس سے کچھ تبدیلی آ سکتی ہے تاہم بی جے پی کی یکطرفہ جیت نہیں ہوگی۔ اگر بدعنوانی کا مسئلہ ووٹنگ پر اثر انداز ہوتا تو ممتا کئی سال پہلے ہار چکی ہوتیں لیکن یہ موضوع بنگال میں  زیادہ اثر نہیں رکھتا۔ نارتھ اور ساؤتھ پرگنہ میں ممتا اب بھی کافی مضبوط رہیں گی، اس لئے بی جے پی کیلئے انہیں ان کے گڑھ میں چیلنج دینا ابھی آسان نہیں ہے۔ تاہم شمالی بنگال میں بی جے پی ضرور مضبوط رہے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK