Updated: May 25, 2026, 10:03 PM IST
| New delhi
عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کرنے والی منی پوری فلم Boong کو حال ہی میں یو پی ایس سی سول سروسیز پریلمز امتحان ۲۰۲۶ء کے جنرل اسٹڈیز پیپر ون میں شامل کیا گیا۔ سوال فلم کی تاریخی کامیابی، اس کی ہدایت کار لکشمی پریہ دیوی اور بافٹا ایوارڈ سے متعلق تھا۔ فلم نے اس سال بچوں اور خاندانی فلم کے زمرے میں بافٹا ایوارڈ جیت کر تاریخ رقم کی تھی۔
ایوارڈ یافتہ اور بین الاقوامی سطح پر سراہی جانے والی منی پوری فلم Boong کو حال ہی میں یونین پبلک سروس کمیشن (UPSC) کے سول سروسیز کے پریلمز ۲۰۲۶ء میں جگہ دی گئی، جس نے علاقائی ہندوستانی سنیما کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اہمیت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا۔ یو پی ایس سی کے جنرل اسٹڈیز پیپر ون میں فلم سے متعلق ایک کرنٹ افیئرز سوال پوچھا گیا، جس میں فلم کی تاریخی کامیابی اور عالمی شناخت کا حوالہ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے : ممبئی صرف خواب نہیں دکھاتا بلکہ انہیں پورا کرنے کی طاقت بھی دیتا ہے: شریا
سوال میں امیدواروں سے فلم کے بارے میں تین بیانات کی درستی جانچنے کو کہا گیا تھا۔
امتحان میں پوچھا گیا سوال یہ تھا:فلم ’’بونگ‘‘ کے حوالے سے درج ذیل بیانات پر غور کریں:
(۱) فلم نے حال ہی میں بچوں اور خاندانی فلم کے زمرے میں بافٹا ایوارڈ جیتا ہے۔
(۲) فلم کی ہدایت کاری لکشمی پریہ دیوی نے کی ہے۔
(۳) یہ بچوں اور خاندانی فلم کے زمرے میں بافٹا ایوارڈ جیتنے والی پہلی ہندوستانی فلم ہے۔
صحیح جواب ’’آپشن اے‘‘ تھا، یعنی تینوں بیانات درست تھے۔
یہ بھی پڑھئے : ’’چاند میرا دل‘‘ میں اننیا پانڈے کا بھرت ناٹیم فیوژن ڈانس، ٹرولنگ کا شکار
یاد رہے کہ فلم ’’بونگ‘‘ نے اس سال بافٹا ایوارڈز میں کامیابی حاصل کر کے ہندوستانی علاقائی سنیما کے لیے ایک تاریخی لمحہ رقم کیا تھا۔ خاص طور پر منی پوری زبان میں بننے والی اس فلم کی عالمی سطح پر پذیرائی نے اسے نہ صرف فلمی حلقوں بلکہ تعلیمی اور سماجی مباحث کا بھی حصہ بنا دیا۔ فلم کی کہانی منی پور کے پس منظر میں ترتیب دی گئی ہے اور ایک نو سالہ بچے کے گرد گھومتی ہے جو اپنی ماں کے لیے اپنے لاپتہ والد کو تلاش کرنے کے سفر پر نکلتا ہے۔ بچے کی معصوم نگاہ سے بیان کی گئی یہ کہانی نہ صرف جذباتی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے بلکہ ریاست منی پور کے پیچیدہ سیاسی اور سماجی حالات کی جھلک بھی پیش کرتی ہے۔
فلم کو عالمی سطح تک پہنچانے میں مختلف فلمی اداروں اور پلیٹ فارمز نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ پروجیکٹ پہلے نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے فلم بازار پروگرام کے ’’ورک اِن پروگریس لیب‘‘ کا حصہ رہا، جس کے بعد اسے انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا میں بہترین ڈیبیو ڈائریکٹر زمرے میں پیش کیا گیا۔ اسے ایکسل انٹرٹینمنٹ ، چاک بورڈ انٹرٹینمنٹ اور سویٹبل پکچرز نے مشترکہ طور پر پروڈیوس کیا تھا۔ ایکسل انٹرٹینمنٹ کی نمائندگی معروف فلم ساز فرحان اختر اور رتیش سدھوانی نے کی۔ فلم کی عالمی کامیابی اور بعد ازاں یو پی ایس سی جیسے ملک کے سب سے بڑے مسابقتی امتحان میں اس کا ذکر اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ اب علاقائی سنیما نہ صرف ثقافتی سطح پر بلکہ قومی علمی مباحث میں بھی نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے۔