بھائی جان جل بھن کر کباب ہوئے جا رہے تھے۔ بار بار دانت پیستے اور باجی کے کمرے کی طرف گھورنے لگتے۔ باجی کے کمرے سے مسلسل ہنسی قہقہے کی آوازیں بھائی جان کو اور زیادہ ستا رہی تھیں۔
EPAPER
Updated: January 17, 2026, 6:22 PM IST | Wasiya Irfan | Mumbai
بھائی جان جل بھن کر کباب ہوئے جا رہے تھے۔ بار بار دانت پیستے اور باجی کے کمرے کی طرف گھورنے لگتے۔ باجی کے کمرے سے مسلسل ہنسی قہقہے کی آوازیں بھائی جان کو اور زیادہ ستا رہی تھیں۔
بھائی جان جل بھن کر کباب ہوئے جا رہے تھے۔ بار بار دانت پیستے اور باجی کے کمرے کی طرف گھورنے لگتے۔ باجی کے کمرے سے مسلسل ہنسی قہقہے کی آوازیں بھائی جان کو اور زیادہ ستا رہی تھیں۔
بات یہ تھی کہ باجی نے پکنک کا پروگرام بنایا تھا۔ اور بھائی جان کو یہ تھپکی دی تھی کہ وہ انہیں اور اُن کے دوستوں کو بھی ساتھ لے چلنے پر راضی ہیں اور ان سب کے لئے کھانے کی چیزیں تیار کر رہی ہیں۔ بس بھائی جان کے لئے اتنا ہی کافی تھا وہ خوشی سے پھول گئے بھلا ایسا نادر موقع اور کبھی کیوں آیا ہوگا.... وہ باجی کی خوشامد میں اُن کے چاروں طرف گھوم رہے تھے.... باجی کسی کام سے اٹھتیں تو، ان کے اُٹھنے سے پہلے خود لپک کر وہ کام کر دیتے.... باجی سوکھا سا منہ بنا کر ’شکریہ‘ کہہ دیتیں اور بھائی جان دانت نکال دیتے۔
صبح سے دوڑتے دوڑتے بھائی جان تھک گئے ان کا جی چاہ رہا تھا کہ تھوڑی دیر آرام کرلیں مگر باجی کی آواز سنتے ہی باہر بھاگتے۔ اس ڈر سے کہ اگر وہ خفا ہوگئیں تو کل کی مفت میں ہونے والی تفریح ماری جائیگی اسکے علاوہ دوستوں کو جو دعوت دے رکھی ہے ان کے سامنے بھی شرمندگی ہوگی۔
چونکہ صبح سویرے نکلنے کا پروگرام تھا اور کار ہماری تھی اس لئے شام ہی سے سب سہیلیاں باجی کے پاس جمع ہوگئیں۔ اس کے بعد جو ہنسی مذاق اور باتوں کا طوفان اُٹھا ہے تو کسی نے بھی پلٹ کر بھائی جان کو نہ پوچھا، رات کے ایک، دو بج گئے لیکن اُن لوگوں کی باتیں تھیں کہ ختم ہونے کا نام نہ لیتیں۔ بھائی جان دو تین بار، کھنکار کر اور گنگنا کر باجی کے کمرے کے سامنے سے گزرے، مگر باجی تو جیسے انہیں بھول ہی گئی تھیں۔ باجی کی بے نیازی پر بھائی جان کو سخت غصہ آرہا تھا۔ وہ کمرے میں پاؤں پٹختے ہوئے ٹہل رہے تھے۔ پھر وہ ایک جھٹکے سے بیچ کمرے میں رُک گئے کیونکہ انہیں اب یہ خیال آرہا تھا کہ باجی نے محض ایک تھپکی دی تھی۔ چونکہ اِن سے کام لینا تھا اس لئے اپنے ساتھ لے جانے کا بہلاوا دے دیا۔ یہ انکشاف ہوتے ہی بھائی جان پر غصہ کا بھوت سوار ہوگیا وہ دانت پیسنے لگے۔
دوسری صبح کو وہ اپنے کمرے سے دیکھتے ہی رہے اور باجی مع اپنی ساتھیوں کے ہنستی مسکراتی چل دیں۔ بھائی جان کا مارے طیش کے بُرا حال تھا۔ سوچ رہے تھے کہ کیا بدلہ لوں جو تفریح بھی ہو اور باجی کو سبق بھی ملے.... وہ یہی سوچتے ہوئے باہر نکلے۔ امّی انہیں دیکھتے ہی چونک پڑیں۔
’’ارے.... کیا تم نہیں گئے۔‘‘
’’جی.... اب جاؤں گا.... ابھی میرے دوست نہیں آئے۔‘‘ بھائی جان نے منہ بنا کر کہا۔
امی ہنسنے لگیں۔
بھائی جان نے پہلے تو حیرت سے امّی کو دیکھا۔ پھر خود ہی شرمندہ ہوگئے۔
’’مَیں جانتی ہوں۔ روحی تمہیں بیوقوف بنا گئی ہے۔ بھلا لڑکیوں میں تم لوگوں کا کیا کام؟ سچ مچ، تم بڑے بیوقوف ہو۔‘‘
بھائی جان اور زیادہ بھنا گئے۔
ابھی وہ ناشتہ ہی کر رہے تھے کہ ان کے سب دوست آگئے۔ لیکن یہاں بالکل سناٹا دیکھ کر ایک دوست نے پوچھا، ’’کیوں کیا پروگرام ملتوی؟‘‘
’’نہیں ملتوی کیوں۔ ضرور چلیں گے۔‘‘ بھائی جان کچھ سوچ کر اُٹھے۔ اپنے کمرے میں جا کر جلدی جلدی کچھ لکھا پھر باہر آکر بولے۔
’’دیکھو! تم لوگوں کو ان سب سے چھپ کر رہنا ہوگا، جب تک مَیں نہ کہوں سامنے نہ آنا....‘‘
’’کیوں....؟‘‘
’’تم نے وہ مثل تو سنی ہوگی جیسے کو تیسا۔ آج ہم اُسے آزمائیں گے.... بھئی.... بات یہ ہے.... باجی نے مجھے اُلّو بنایا ہے مَیں اب ان سے بدلہ لے رہا ہوں.... خیر.... چلو دیر ہوگئی تو سب پلان خاک میں مل جائے گا....‘‘
باجی آرام سے گھاس پر نیم دراز تھیں قریب ہی گراموفون بج رہا تھا دو چار جھولا جھول رہی تھیں تو دو ایک اسٹو جلائے چائے بنا رہی تھیں.... یہ سب دیکھ کر بھائی جان کا منہ انگارہ ہوگیا مگر پھر وہ اپنے چہرے پر لاکھوں پریشانیاں سمیٹ کر آگے بڑھے.... جیسے ہی باجی کی اِن پر نظر پڑی باجی بوکھلا کر اُٹھ بیٹھیں، بھائی جان نے بغیر کچھ کہے ہوئے ایک کاغذ انہیں پکڑا دیا جس پر ٹوٹی پھوٹی تحریر میں لکھا تھا:
’’روحی۔ میری طبیعت تمہارے جاتے ہی اچانک سخت خراب ہوگئی ہے تم فوراً چلی آؤ.... مَیں بہت بے چین ہو.... فوراً چلی آؤ۔ مَیں تمہیں ہرگز نہ بلاتی لیکن بے حد مجبور ہوگئی.... کیا کروں....‘‘
’’کیا میرے آتے ہی خراب ہوگئی....‘‘ باجی کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔
’’ہاں.... باجی.... جلدی چلئے۔ مَیں بھاگم بھاگ آرہا ہوں۔ وہ تو کہئے آپ نے مجھے یہاں کا پتہ بتا دیا تھا ورنہ.... نہ جانے کہاں ٹاپتا رہ جاتا....‘‘
سب لڑکیوں کے چہرے بھی اداس ہوگئے۔ باجی انہیں لاکھ منع کرتی رہیں لیکن کسی نے بھی گوارا نہ کیا کہ ایسے ’نازک‘ موقع پر وہ تفریح کریں۔ وہ سب واپس چلنے پر تیار ہوگئیں۔ کچھ دوڑ دوڑ کر سامان سمیٹنے لگیں.... بھائی جان کو پھر غصہ آنے لگا مگر ضبط کرکے بولے۔ ’’ارے.... آپ لوگ چلئے۔ مَیں سامان لے آتا ہوں.... وہاں امّی کی طبیعت خراب ہے اور آپ یہاں دیر کر رہی ہیں۔ غضب خدا کا، امّی آپ کی راہ تکتی ہوں گی، جلدی جائیے....‘‘
بھائی جان نے ایسی ہونق صورت بنا کر کہا کہ باجی بیچاری یہ دھیان دیئے بغیر کہ امّی کی طبیعت خراب تھی تو انہوں نے چٹھی کیسے لکھی، سب کچھ چھوڑ چھاڑ سیدھی گھر بھاگیں۔
اُن کی کار جیسے ہی نظروں سے اوجھل ہوئی، بھائی جان نے ایک لمبا چوڑا قہقہہ لگایا ’’آہاہا.... یہ رہا.... شاندار بدلہ....!‘‘