نینا کے جنم دن کی پارٹی تھی۔ اس کی بہت سی سہیلیاں آئی ہوئی تھیں۔ رنگ برنگے ریشمی فراک، ربن، گوٹے کناری، کمرے میں جھلمل جھلمل کر رہے تھے۔ کچھ لڑکیاں نینا کیلئے ڈبوں میں تحفے لائی تھیں جن پر کئی رنگوں کے کاغذ لپٹے ہوئے تھے۔
EPAPER
Updated: June 27, 2026, 3:51 PM IST | M.K. Mehtab | Mumbai
نینا کے جنم دن کی پارٹی تھی۔ اس کی بہت سی سہیلیاں آئی ہوئی تھیں۔ رنگ برنگے ریشمی فراک، ربن، گوٹے کناری، کمرے میں جھلمل جھلمل کر رہے تھے۔ کچھ لڑکیاں نینا کیلئے ڈبوں میں تحفے لائی تھیں جن پر کئی رنگوں کے کاغذ لپٹے ہوئے تھے۔
نینا کے جنم دن کی پارٹی تھی۔ اس کی بہت سی سہیلیاں آئی ہوئی تھیں۔ رنگ برنگے ریشمی فراک، ربن، گوٹے کناری، کمرے میں جھلمل جھلمل کر رہے تھے۔ کچھ لڑکیاں نینا کیلئے ڈبوں میں تحفے لائی تھیں جن پر کئی رنگوں کے کاغذ لپٹے ہوئے تھے۔ نینا کے بھائی رمیش کے کچھ دوست بھی آئے ہوئے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے گھر رنگ برنگے خوشنما پھولوں کی کیاری بن گیا ہو۔ نینا کے پتا شرماجی بھی دفتر سے جلد لوٹ آئے تھے۔ وہ بچّوں کی دعوت کیلئے ایک کمرے میں میزوں پر مٹھائیاں بسکٹ وغیرہ سجا رہے تھے۔ نینا کی ماں نے چولہے پر کڑاہی چڑھا رکھی تھی اور کچوریاں تل رہی تھیں۔ جنم دن کی پارٹی کیلئے آئے ہوئے یہ سب مہمان کھانے پینے اور گانے بجانے کیلئے بے تاب ہو رہے تھے۔ لیکن شرماجی اور اُن کی بیوی ابھی پارٹی کیلئے تیار نہیں تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ رمیش اسکول سے لوٹ آئے تب ہی پروگرام شروع ہو۔
چار بج چکے تھے۔ انہوں نے رمیش سے کہا تھا کہ وہ تین بجے تک ضرور گھر لوٹ آئے لیکن وہ ابھی تک نہیں آیا تھا۔ کھانے پینے کا سب سامان میزوں پر سج گیا تھا۔ کیک پر موم بتیاں لگا دی گئی تھیں۔ بچے یوں ہنس بول رہے تھے جیسے کسی درخت پر چڑیاں چہچہا رہی ہوں۔ لڑکیاں گیت گانے لگی تھیں۔ ایک دوسرے سے ہنسی مذاق ہو رہا تھا۔ لیکن نینا کے والدین کے چہرے پر حقیقی خوشی کی جھلک دکھائی نہیں دیتی تھی۔ انہیں رمیش کا انتظار تھا۔ پانچ بج چکے تھے۔ سب سوچ رہے تھے۔ اب تو اسکول بھی بند ہو چکا ہوگا۔ اور بچے الگ بے تاب ہو رہے تھے۔ انہیں اپنے گھروں کو واپس جانا تھا۔ ’’رمیش اسکول سے آتے ہوئے کسی دوست کے ہاں ٹھہر گیا ہوگا۔ ہم پارٹی شروع کر دیں۔ وہ آتا ہی ہوگا۔‘‘ رمیش کی ماں نے شرماجی سے کہا۔
یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: قصہ ایک شیر کی حجامت کا
پارٹی شروع ہوگئی، نینا نے کیک پر جلتی ہوئی موم بتیاں بجھا دیں۔ مبارک باد، کی آوازیں بلند ہوئیں۔ کھانے پینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ پھر گیت، سنگیت، ناٹک ہونے لگا۔ لیکن شرماجی کا چہرہ اُترا ہوا تھا۔ اُن کی بیوی کا دھیان بھی کہیں اور تھا۔ وہ دونوں بچوں کے ہنسی مذاق میں محض رسمی طور پر شریک تھے، ورنہ اُن کے دل کہیں اور تھے.... نہ جانے رمیش اس وقت کہاں ہوگا۔ کیا اُسے بس نہیں ملی۔ کیا کسی اسکوٹر یا بس سے ٹکر ہوگئی؟ کیا اُسے راستے ہی میں کوئی بہلا پھسلا کر لے گیا؟ وہ اگر نہ آیا تو وہ اُسے کہاں کہاں تلاش کرتے پھریں گے؟ انہیں اُس کے کس کس ہم جماعت کے گھر سے اس کا پتہ کرنا ہوگا؟
مہمان بچے، انکل بائے، آنٹی نمستے، کہتے اور پھدکتے ہوئے رخصت ہونے لگے۔ اب گھر میں شرماجی تھے، اُن کی بیوی تھی، نینا اور اس کی چھوٹی بہن تارا تھی، یا رات کے بڑھتے ہوئے سائے۔ سب بچوں کے چلے جانے کے بعد وہ لوگ کمرے میں یوں خاموش بیٹھے تھے گویا خوشی کی تقریب غم کے موقع میں بدل گئی ہو۔ ’’آخر آپ کب تک یوں بیٹھے رہینگے؟‘‘ نینا کی ماں نے شرماجی سے پوچھا۔ ’’تم ہی کرتار سنگھ کے گھر جا کر معلوم کر آؤ۔ اُن کا لڑکا بھی تو اُسی اسکول میں جاتا ہے۔‘‘ شرما جی نے کہا۔
رمیش کی ماں جب کرتار سنگھ کے گھر سے لوٹی تو اس کا رنگ پیلے سے بھی زرد تھا۔ اُسے وہاں سے پتہ چلا تھا کہ ایک سائیکل کی موٹر رکشا سے ٹکر ہوگئی تھی اور سائیکل پر سوار دونوں بچے ہسپتال میں تھے۔ شرماجی کا دل بیٹھتا جا رہا تھا۔ یہ ضرور رمیش ہی ہوگا۔ اُسے اپنی کسی دوست کو پارٹی پر لانا تھا۔ وہ فوراً اسکوٹر نکال کر ہسپتال پہنچے۔ سارے راستے اُن کی آنکھیں ڈبڈبائی رہیں۔ ہسپتال میں پتہ چلا کہ وہ بچے کسی اور اسکول کے تھے۔ لیکن وہاں سے یہ اطلاع بھی ملی کہ اسٹیشن پر دو آدمی پکڑے گئے ہیں جو ایک لڑکے کو بیہوش کرکے لئے جا رہے تھے۔ شرماجی پسینے میں شرابور اسٹیشن پر پہنچے۔ پھر کوتوالی گئے لیکن وہ لڑکا کوئی اور تھا۔
رات کے نو بج رہے تھے۔ نینا کے جنم دن کی پارٹی کی خوشی ختم ہوچکی تھی۔ شرماجی کا گھر لوٹنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ وہ رمیش کے اسکول چلے گئے کہ شاید وہاں کوئی کلاس چل رہی ہو مگر اسکول کو اندھے کی آنکھوں کی مانند بے نُور ہو رہا تھا۔
وہ مایوس ہو کر گھر چل دیئے۔ لیکن امید کی کرن اب بھی باقی تھی۔ شاید اب تک رمیش لوٹ آیا ہو۔ وہ گھر پہنچے تو اُن کی بیوی، نینا اور تارا تینوں دروازے پر بیٹھی رمیش کی راہ دیکھ رہی تھیں۔ شرماجی کو اکیلا لوٹتے دیکھ کر اُن کے چہرے اتر گئے۔ خود شرماجی اسکوٹر بند کرکے اُس پر یوں بیٹھے رہے گویا اب اُن میں ہلنے جلنے کی سکت نہ رہی ہو۔ وہ سوچتے رہے اب وہ کہاں جائیں۔ پولیس میں رپورٹ تو صبح ہی کو کی جاسکتی تھی۔
سب مایوس ہو کر اپنے اپنے کمروں میں آبیٹھے۔ پارٹی کا سامان، چینی کے برتن جوں کے توں اِدھر اُدھر بکھرے رہے۔
شرماجی بیٹھے کتاب دیکھنے لگے۔ دس بج چکے تھے۔ اُن کا دماغ غصے سے اُبل رہا تھا۔ وہ مار مار کر رمیش کی ہڈی پسلی برابر کر دینا چاہتے تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ یہ غصہ رحم کے جذبے میں بدلتا جا رہا تھا۔ نہ جانے رمیش اب کس حالت میں ہو؟ اُسے اغوا کرنے والوں نے اُسے کہاں رکھا ہو؟ اُسے کھانے کو کبھی کچھ ملا ہو یا نہیں؟ عجیب عجیب سوال اُن کے دل میں اُٹھ رہے تھے۔
اتنے میں مکان کے باہر آئنی پھاٹک پر کسی کے آنے کی آہٹ ہوئی۔ شرماجی نے کھڑکی میں سے دیکھا، رمیش گلے میں بستہ لٹکائے چوروں کی مانند دبے پاؤں اندر آیا اور ماں کے کمرے میں گھس گیا۔
کچھ دیر اُس کمرے میں کھسر پھسر ہوتی رہی۔ ماں اُسے جھڑکیاں دے رہی تھی۔ شرماجی رات کے وقت کوئی ہنگامہ کھڑا نہیں کرنا چاہتے تھے، اِس لئے اطمینان سے سو گئے۔
صبح کو شرماجی اُٹھے تو رمیش ابھی سو رہا تھا۔ وہ مکان کے باہر باغیچے میں ٹہلنے لگے جہاں رمیش نے ایک چھوٹی سی کیاری میں بہت سے رنگوں کے خوبصورت پھول کھلا رکھے تھے جنہیں وہ صبح و شام پانی دیتا تھا، نلائی کرتا تھا، کھاد ڈالتا تھا۔ صبح کی اوس میں یہ ننھے ننھے پھول بہت خوشنما نظر آرہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: مختصرکہانی: کلاکار اور شیر
شرماجی نے نلائی کے لئے رکھا کھرپا اُٹھایا۔ انہوں نے سب پودے اُکھاڑ ڈالے، سب پھول کچل دیئے۔
رمیش کی ماں نے رمیش کو بہت ڈانٹا ڈپٹا تھا۔ رمیش اپنے جس دوست کو پارٹی میں لانے کیلئے گیا تھا۔ اُس کے پاس سنیما کے پاس تھے اور رمیش اُس کے ساتھ سنیما دیکھنے چلا گیا تھا۔
رمیش جب باہر آیا تو اپنی کیاری کی حالت دیکھ کر رونے لگا ’’یہ کس نے کیا ہے؟‘‘
’’مَیں نے۔‘‘ شرماجی اُس کے سامنے آکھڑے ہوئے۔
’’ان ننھے پودوں نے آپ کا کیا بگاڑا تھا؟‘‘ رمیش نے پوچھا۔ ’’اگر تمہیں اِن پودوں کا اتنا درد ہے تو سوچو کہ تم بھی تو میرے ننھے پودے ہو۔ مَیں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا؟‘‘