پاشا کے شیر سے ڈرنے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی اور گروپ کے چند منچلوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کی سوچی، لہٰذا اندھیرا ہوتے ہی ایک صاحب شیر کی کھال اوڑھ کر پاشا کے خیمے میں جھانکے اور ہلکا سا غرا دیئے۔
EPAPER
Updated: June 13, 2026, 12:19 PM IST | Dr. Ghulam Rasool Sarwar | Mumbai
پاشا کے شیر سے ڈرنے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی اور گروپ کے چند منچلوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کی سوچی، لہٰذا اندھیرا ہوتے ہی ایک صاحب شیر کی کھال اوڑھ کر پاشا کے خیمے میں جھانکے اور ہلکا سا غرا دیئے۔
پچھلے سال کا واقعہ ہے کہ سرکار کی طرف سے فلم بنانے والوں کا ایک گروپ ایک جنگل میں آکر خیمہ زن ہوا تھا۔ فلم جنگل کے پرندوں اور جانوروں سے متعلق تھی اور اگلے روز شوٹنگ شروع ہونے والی تھی۔ شام کا سہانا وقت تھا اور چڑیاں خوب چہچہا رہی تھیں۔ مگر کیمرہ مین پاشا کو ان سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اسے ایک فکر کھائے جا رہی تھی۔ شیر کی وہ سوچ رہا تھا کہ شیر جنگل میں ہوتے ہی کیوں ہیں، آخر کس کو ضرورت ہے شیروں کی۔
’’کیا تم چاہتے ہو کہ اس جنگل میں شیر موجود ہوں۔ ‘‘ اس نے برابر کے خیمے میں جا کر فلم کے ڈائریکٹر سے پوچھا۔ ’’ہاں بھئی کیوں نہیں، مَیں شیروں کی وجہ سے تو اس جنگل میں آیا ہوں فلم بنانے۔ تم ڈرتے ہو کیا شیروں سے؟‘‘ ’’شیروں سے سب ڈرتے ہیں۔ مَیں بھی ڈرتا ہوں۔ ہاں اگر شیر کہیں سلاخوں کے پیچھے ہو تو بات اور ہے مگر یہ تو کھلا جنگل ہے اور یہاں شیر آزاد پھرتے ہوں گے۔ مجھے تو نیند بھی نہیں آئے گی۔ ‘‘ ’’دیکھو ڈرو مت، شیروں کے بارے میں کتابوں میں لکھا ہے کہ بہت طاقتور جانور ہے مگر پھر بھی انسان پر حملہ نہیں کرتا، بس کبھی کبھی کوئی شیر آدم خوری پر اتر آتا ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: مختصرکہانی: کلاکار اور شیر
ظاہر ہے کہ ان باتوں سے پاشا کا خوف بجائے کم ہونے کے اور بڑھ گیا اور پھرتی سے واپس اپنے خیمے میں چلا آیا۔
پاشا کے شیر سے ڈرنے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی اور گروپ کے چند منچلوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کی سوچی، لہٰذا اندھیرا ہوتے ہی ایک صاحب شیر کی کھال اوڑھ کر پاشا کے خیمے میں جھانکے اور ہلکا سا غرا دیئے۔ پاشا کیلئے بس اتنا ہی کافی تھا۔ اس نے مدد کیلئے کسی کو پکارا اور نہ کہیں بھاگا۔ وجہ یہ تھی کہ اس کی آواز حلق میں پھنس گئی تھی اور ٹانگیں موم کی طرح اس کے جسم تلے مڑ گئی تھیں۔ اس نے بس ایک ہاتھ کو ہلکی سی جنبش دی، جیسے تمام انسانیت کو الوداع کہنا چاہتا ہو، اور بیہوش ہو کر فرش پر دھم سے آن پڑا۔
پانی کی کئی بالٹیاں جب اس پر انڈیلی جا چکیں تو اس نے آنکھ کھولی۔ سب لوگ ہنس رہے تھے۔ پاشا فوراً بات کی تہہ تک پہنچ گیا اور خود بھی ہنسنے کی کوشش میں دانت نکالنے لگا۔ اس نے سوچا کہ غلطی خود اسی کی تھی، اب بات کا بتنگڑ بنانے سے کیا فائدہ۔
لوگ جلد ہی اس واقع کو بھول گئے مگر پاشا نہیں بھول سکتا تھا۔ ایک صبح وہ اپنے خیمے میں ایک آئینے کے سامنے بیٹھا شیو بنانے والا تھا کہ اچانک خیمے کے اندر ایک شیر کی گردن داخل ہوئی۔ اور پاشا کو دیکھ کر ہلکا سا غرائی۔ پاشا نے فوراً اپنی آنکھیں بند کر لیں اور صابن کے جھاگ بھرے برش کو مضبوطی سے تھام لیا۔ چند لمحوں بعد اس نے آہستہ سے ایک آنکھ کھول کر شیر کو دیکھا۔ پھر اس کے چہرے پر انتقامی مسکراہٹ پھیل گئی اور اس نے دوسری آنکھ بھی کھول لی۔
یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: شرط
’’تو مجھے دوبارہ احمق نہیں بنا سکتا۔ ‘‘ اس نے دانت پیس کر یہ کہتے ہوئے صابن کے جھاگ سے بھرا برش شیر کی آنکھوں میں بھونک دیا، ’’آ تیری حجامت بناؤں، کیا سمجھا ہے تو نے مجھے....‘‘ وہ پھر چلّایا۔ صابن کی جلن سے شیر کی آنکھیں بند ہوگئیں اور مارے تکلیف کے وہ دُم دبا کر الٹا جنگل کو بھاگا۔ پاگلوں کی طرح یہ بھول گیا کہ وہ کتنا طاقتور درندہ ہے اور کتابوں میں اس کے بارے کیا لکھا ہے۔ وہ بھاگتا ہی چلا گیا۔ صابن نے نہ صرف اس کی آنکھوں کو جلایا تھا بلکہ اس کے درندانہ جذبات کو بھی سخت مجروح کیا تھا۔ یہ سوچ سوچ کر کہ ایک تیسرے درجے کے فلم کیمرہ مین نے ایک گھٹیا سے صابن بھرے برش کی مدد سے اسے فرار پر مجبور کر دیا تھا، وہ بھوں بھوں کرکے روئے جا رہا تھا۔ آخر وہ اب جنگل کے دوسرے جانوروں کو کیا منہ دکھائے گا۔
ادھر پاشا خیمے سے باہر آکر اپنا شیو کا برش لہرا لہرا کر فاتحانہ نعرے لگا رہا تھا ’’بزدل کدھر گیا، آ تیری حجامت بناؤں، آ سامنے....‘‘ وہ دھاڑ رہا تھا۔
اس واقعے کی اطلاع جس جس کو ملی اس نے آکر پاشا کو بار بار مبارکباد دی۔ واہ صاحب کمال کر دیا آپ نے تو.... وغیرہ وغیرہ مگر پاشا پر اس کا عجیب سا اثر ہوا۔ اس نے سب کو ایک ایک کرکے شک کی نگاہوں سے دیکھا، اور جب اس کی سمجھ میں اچھی طرح یہ آگیا کہ اس نے کس کی آنکھوں میں صابن بھرا برش بھونک دیا تھا، تو اس کا چہرہ سفید پڑگیا۔ پھر اس نے ایک زور کی ہچکی لی۔ پھر دوسری، پھر تیسری۔ آج کل بھی اکثر ہچکیاں لیتا پھرتا ہے۔ اب وہ اپنے شیو کے برش سے بھی دور رہتا ہے اور تمام چہرہ داڑھی میں چھپائے پھرتا ہے۔ جنگل تو ایک طرف اب تو اسے کوئی پیسے دے کر چڑیا گھر بھی نہیں لے جا سکتا۔
(روسی مزاح نگار گریگوری رِکلن سے ماخوذ)