Inquilab Logo Happiest Places to Work

لارنس اسٹین ہاؤس: برطانوی ماہر تعلیم اور تدریسی اصلاحات کےعلمبردار

Updated: August 14, 2026, 7:53 PM IST | Mumbai

Lawrence Stenhouseنے تعلیم کے میدان میں ایسا سرمایہ چھوڑا جو آج بھی ماہرین تعلیم، محققین، اساتذہ اور نصاب سازوں کیلئے مشعلِ راہ ہے۔

Lawrence`s ideas are the basis of modern educational reforms. Photo: INN
لارنس کے نظریات جدید تعلیمی اصلاحات کی اساس ہیں۔ تصویر: آئی این این

لارنس اسٹین ہاؤس جدید تعلیمی نظریات، نصاب (Curriculum) کی تشکیل اور عملی تحقیق (Action Research) کے میدان میں بیسویں صدی کے ممتاز ماہرِ تعلیم تھے۔ انہوں نے اس تصور کو فروغ دیا کہ تعلیم محض معلومات کی منتقلی کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا تخلیقی اور تحقیقی عمل ہے جس میں استاد، طالب علم اور نصاب ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل تعامل کرتے ہوئے سیکھتے اور ترقی کرتے ہیں۔ لارنس کو جدید نصابی نظریات کا معمار اور ’’Teacher as Researcher‘‘ (استاد بطور محقق) کے تصور کا بانی خیال کیا جاتا ہے۔ ان کے خیالات نے برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں نصاب سازی، تدریسی طریقوں اور تعلیمی تحقیق پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ 
لارنس اسٹین ہاؤس۲۹؍مارچ۱۹۲۶ء کو برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی، بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کیلئے یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں انہوں نے تعلیم، فلسفہ اور سماجی علوم کا گہرا مطالعہ کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے مختلف تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ عملی تدریس کے دوران انہیں یہ احساس ہوا کہ تعلیم صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ اس کا مقصد طلبہ میں تنقیدی سوچ، تحقیق کا جذبہ، تخلیقی صلاحیت اور مسائل حل کرنے کی اہلیت پیدا کرنا ہے۔ یہی تجربات بعد میں ان کے تعلیمی نظریات کی بنیاد بنے۔

یہ بھی پڑھئے: جارج واشنگٹن کارور مشہور امریکی زرعی سائنسداں اور موجد تھے

ابتدائی تدریسی زندگی کے بعد انہوں نے تعلیمی تحقیق کی طرف بھرپور توجہ دی اور نصاب کی تیاری، تدریسی اصلاحات اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ برطانیہ کے معروف ادارے’ سینٹر فار اپلائیڈ ریسرچ اِن ایجوکیشن‘( سی اے آر ای)سے وابستہ رہے، جہاں انہوں نے نصابی تحقیق اور تدریسی بہتری کے متعدد منصوبوں کی قیادت کی۔ ان کا ماننا تھا کہ تعلیمی اصلاحات صرف حکومتی احکامات سے ممکن نہیں ہوتیں بلکہ ان میں اساتذہ کی فعال شرکت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ 
لارنس اسٹین ہاؤس کی سب سے نمایاں خدمت نصاب (Curriculum) کے بارے میں ان کا انقلابی نظریہ ہے۔ ان کے مطابق نصاب کوئی جامد دستاویز یا مقررہ کتابوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا لچکدار منصوبہ ہے جو عملی تدریس کے دوران مسلسل بہتر ہوتا رہتا ہے۔ ان کے تعلیمی فلسفے کا دوسرا اہم ستون’’ استاد بطور محقق‘‘کا نظریہ ہے۔ اس نظریے کے مطابق ہر استاد کو محض پڑھانے والا فرد نہیں بلکہ ایک محقق بھی ہونا چاہئے۔ لارنس اسٹین ہاؤس نے تعلیمی تحقیق کو عملی زندگی سے جوڑنے پر زور دیا۔ ان کی سب سے معروف تصنیف ’’این انٹروڈکشن ٹو کریکولم ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ‘‘ہے جو۱۹۷۵ء میں شائع ہوئی۔ ان کے نظریات نے نہ صرف برطانیہ بلکہ یورپ، ایشیا، آسٹریلیا اور دیگر خطوں کے تعلیمی نظاموں پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ لارنس اسٹین ہاؤس کا انتقال ۵؍ستمبر۱۹۸۲ء کو۵۶؍ برس کی عمر میں برطانیہ میں ہوا تھا۔ 
(وکی پیڈیا)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK