Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: کینٹروِل کا بوڑھا بھوت

Updated: August 14, 2026, 7:58 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

آئرلینڈ کے معروف شاعر اور ادیب آسکر وائلڈ کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی کینٹروِل گھوسٹ‘‘ The Canterville Ghost کا اردو ترجمہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

انگلستان کے ایک سرسبز علاقے میں واقع قدیم کینٹروِل محل اپنی شان و شوکت سے زیادہ ایک پراسرار داستان کی وجہ سے مشہور تھا۔ صدیوں سے یہ کہا جاتا تھا کہ اس محل میں ایک بھوت ہے۔ یہ صرف دیہاتیوں کی کہانی نہیں تھی بلکہ کینٹروِل خاندان اور وہاں قیام کرنے والے کئی معزز مہمان بھی عجیب و غریب واقعات کا ذکر کرتے تھے۔ کسی نے زنجیروں کی کھنک سنی، کسی نے سفید لباس میں ایک پراسرار شخص کو دیکھا، جبکہ بعض لوگ ایک ہی رات گزارنے کے بعد دوبارہ وہاں آنے کی ہمت نہ کر سکے۔ ان تمام کہانیوں کا مرکز سر سائمن ڈی کینٹروِل تھے، جو تقریباً تین سو برس پہلے اس محل کے مالک تھے۔ روایت کے مطابق انہوں نے اپنی بیوی، لیڈی ایلینور، کو قتل کر دیا تھا اور کچھ ہی عرصے بعد خود پراسرار طور پر غائب ہو گئے۔ ان کی لاش کبھی نہ ملی مگر اس کے بعد سے محل میں پیش آنے والے عجیب واقعات نے لوگوں کو یقین دلا دیا کہ ان کی بے چین روح آج بھی یہیں بھٹکتی ہے۔ 
وقت گزرنے کے باوجود محل کی یہ شہرت ختم نہ ہوئی۔ آخرکار موجودہ مالک لارڈ کینٹروِل نے اسے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا مگر بھوت کی کہانی سن کر ہر خریدار پیچھے ہٹ جاتا تھا۔ پھر امریکہ سے تعلق رکھنے والے عملی مزاج مسٹر ہائرم بی اوٹس سامنے آئے، جو ایسی باتوں پر یقین رکھنے کے بجائے ہر چیز کو عقل کی کسوٹی پر پرکھتے تھے۔ معاہدہ مکمل ہونے سے پہلے کینٹروِل نے سنجیدگی سے کہا، ’’مسٹر اوٹس، اس محل میں سر سائمن کا بھوت رہتا ہے۔ ہمارے خاندان اور کئی مہمان اسے دیکھ چکے ہیں، اسی لئے ہم یہاں مستقل نہیں رہتے۔ ‘‘
مسٹر اوٹس مسکرا کر بولے، ’’اگر بھوت واقعی موجود ہے تو وہ بھی فرنیچر کے ساتھ ہمارے حصے میں آ جائیگا۔ ‘‘
لارڈ کینٹروِل نے تشویش کے باوجود معاہدہ مکمل کر دیا اور یوں پہلی بار کینٹروِل محل ایک امریکی خاندان کی ملکیت بن گیا۔ 
مسٹر اوٹس اپنی اہلیہ، بڑے بیٹے واشنگٹن، نرم دل بیٹی ورجینیا اور شرارتی جڑواں بیٹوں کے ساتھ انگلینڈ پہنچے۔ محل میں ان کا استقبال برسوں سے خدمت انجام دینے والی مسز امنی نے کیا اور انہیں قدیم تصویروں اور بھاری پردوں سے سجے مرکزی ہال میں لے گئیں، جہاں ہر طرف پراسرار خاموشی چھائی ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: صنوبر کا درخت

اسی دوران مسز اوٹس کی نظر فرش پر ایک گہرے سرخ دھبے پر پڑی۔ انہوں نے پوچھا تو مسز امنی نے سنجیدگی سے بتایا، ’’یہ لیڈی ایلینور کے خون کا نشان ہے۔ سر سائمن نے انہیں یہیں قتل کیا تھا۔ اسے بارہا صاف کیا گیا مگر یہ ہر بار دوبارہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ ‘‘
واشنگٹن اوٹس نے مسکراتے ہوئے اپنی جیب سے داغ صاف کرنے والا محلول نکالا، چند قطرے نشان پر ڈالے اور پل بھر میں خون کا دھبہ غائب کر دیا۔ وہ ہنستے ہوئے بولا، ’’امریکہ میں ایسے داغ زیادہ دیر نہیں ٹھہرتے۔ ‘‘اتنے میں زور دار گرج سنائی دی، بجلی چمکی اور مسز امنی خوف سے بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔ انہیں سنبھالنے کے بعد مسٹر اوٹس نے تسلی دی، مگر کہیں نہ کہیں ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے سر سائمن کو اپنے تین سو سال پرانے خون کے نشان کا مٹایا جانا ہرگز پسند نہ آیا ہو۔ 
رات کے کھانے پر بھی اسی واقعے کا ذکر ہوتا رہا۔ واشنگٹن نے ہنستے ہوئے کہا، ’’اگر وہ نشان دوبارہ نمودار ہوا تو میرے پاس محلول ابھی باقی ہے۔ ‘‘ جڑواں لڑکے قہقہہ لگا کر ہنس پڑے، جبکہ ورجینیا خاموشی سے کھڑکی سے باہر پھیلی چاندنی دیکھتی رہی۔ 
تقریباً ایک بجے مسٹر اوٹس کی آنکھ اچانک کھل گئی۔ انہوں نے ایک عجیب سی آواز سنی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی بھاری زنجیر پتھریلے فرش پر گھسیٹتا ہوا آہستہ آہستہ راہداری سے گزر رہا ہو۔ یہ آواز ہر لمحے قریب آتی جا رہی تھی۔ مسٹر اوٹس اٹھ بیٹھے۔ انہوں نے دروازہ کھولا اور راہداری میں نکل آئے۔ سامنے ایک نہایت عجیب منظر تھا۔ مدھم روشنی میں ایک بوڑھا شخص کھڑا تھا۔ اس کے جسم پر صدیوں پرانا لباس تھا، بال بے ترتیب تھے، چہرہ زرد اور جھریوں سے بھرا ہوا تھا، جبکہ اس کی کلائیوں اور ٹخنوں سے بھاری زنجیریں لٹک رہی تھیں جو چلنے کے ساتھ فرش پر گھسٹ رہی تھیں۔ 
یہ سر سائمن ڈی کینٹروِل تھے۔ محل کا مشہور بھوت۔ 
سر سائمن نے توقع کی تھی کہ نئے رہائشی انہیں دیکھتے ہی خوف سے چیخ اٹھیں گے یا بے ہوش ہو جائیں گے، جیسا کہ ماضی میں کئی مرتبہ ہو چکا تھا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ مسٹر اوٹس نے نہایت سکون سے انہیں دیکھا، پھر جیب سے ایک چھوٹی سی شیشی نکالی۔ 
’’جناب!‘‘ انہوں نے انتہائی شائستگی سے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ آپ کی زنجیروں میں کافی آواز آ رہی ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کو یہ اعلیٰ درجے کا امریکی تیل پیش کرنا چاہوں گا۔ اس کے استعمال سے ہر قسم کی زنجیر خاموشی سے چلنے لگتی ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے شیشی سر سائمن کی طرف بڑھا دی۔ بھوت چند لمحوں تک انہیں گھورتا رہا۔ شاید تین سو برس میں کسی انسان نے اس سے اس انداز میں بات نہیں کی تھی۔ اچانک اس نے ایک خوف ناک چیخ ماری، اپنی سرخ آنکھوں سے آگ برساتا ہوا شیشی کو زور سے جھٹکا، اور لمحہ بھر میں راہداری کے دوسرے سرے کی طرف لپکا۔ اسی وقت اس نے اپنی مافوق الفطرت طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک لمحے کیلئے سبز روشنی سے پورا راستہ بھر دیا، تاکہ سامنے والا شخص خوف سے کانپ اٹھے۔ 
لیکن مسٹر اوٹس نے صرف اتنا کہا، ’’اگر آپ کو تیل کی ضرورت محسوس ہو تو شیشی اپنے پاس رکھ لیجئے۔ میرے پاس ایک اور ہے۔ ‘‘یہ کہہ کر وہ اتنے ہی سکون سے واپس اپنے کمرے میں چلے گئے اور دروازہ بند کر لیا۔ سر سائمن اپنی جگہ کھڑا رہ گیا۔ اس کی پوری زندگی میں شاید پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ اس کے تمام خوفناک کرتب کسی پر اثر ہی نہ کر سکے۔ وہ ابھی اس حیرت سے باہر نہیں نکلا تھا کہ اچانک راہداری کے ایک دروازے کے پیچھے سے ہلکی سی سرگوشی سنائی دی۔ 
اگلے ہی لمحے دونوں جڑواں لڑکوں نے دروازہ کھولا، اپنے تکیے پوری قوت سے اس کی طرف پھینکے اور قہقہہ لگاتے ہوئے دوبارہ اندر بھاگ گئے۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: انمول رتن

تکیے سیدھے سر سائمن کے سینے سے ٹکرائے۔ بھوت غصے سے کانپ اٹھا۔ اس نے اپنی پوری زندگی میں بادشاہوں، سپاہیوں، رئیسوں اور دلیر آدمیوں کو خوف سے لرزتے دیکھا تھا۔ مگر آج ایک شخص اسے زنجیروں کیلئے تیل پیش کر رہا تھا۔ اور دو شرارتی بچے اس پر تکیے پھینک کر ہنس رہے تھے۔ سر سائمن نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ اگلی رات وہ اپنی تمام خوف ناک صلاحیتیں استعمال کرے گا اور اوٹس خاندان کو ایسا سبق سکھائے گا جسے وہ کبھی نہ بھول سکیں۔ 
اگلی صبح مسٹر اوٹس نے گزشتہ رات کا واقعہ اس انداز میں سنایا جیسے کوئی دلچسپ لطیفہ ہو، جبکہ جڑواں لڑکے خوب ہنستے رہے۔ ادھر سر سائمن سخت غصے میں تھا۔ اسے وہ زمانہ یاد آ رہا تھا جب اس کے نام سے لوگ کانپ اٹھتے تھے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنے سب سے خوفناک روپ اختیار کر کے اوٹس خاندان کو ضرور ڈرائے گا، مگر ہر نئی کوشش بچوں کی کسی نہ کسی شرارت کا شکار بن گئی۔ کبھی اس کیلئے مصنوعی بھوت تیار کر دیا گیا، کبھی اس کا مذاق اڑایا گیا، اور ہر بار وہ پہلے سے زیادہ شرمندہ ہو کر اپنے خفیہ کمرے میں لوٹ جاتا۔ 
ادھر اوٹس خاندان اپنی روزمرہ کی زندگی میں مصروف تھا۔ صرف خون کا نشان اپنی پراسرار روایت نبھاتا رہا۔ واشنگٹن اسے روز صاف کر دیتا، مگر اگلی صبح وہ دوبارہ ظاہر ہو جاتا۔ کبھی اس کا رنگ سرخ، کبھی سبز، کبھی نیلا اور کبھی ارغوانی ہوتا، جس پر جڑواں لڑکے خوب ہنستے، جبکہ سر سائمن دل ہی دل میں اپنی بے بسی پر کڑھتا رہتا۔ حقیقت یہ تھی کہ خون کے نشان کو ہر روز دوبارہ بنانا اب اس کیلئے بھی آسان نہ رہا تھا۔ سرخ رنگ کا پرانا ذخیرہ ختم ہو چکا تھا، اس لئے اسے محل کے مختلف کمروں میں رکھے ہوئے رنگ استعمال کرنے پڑ رہے تھے۔ اسی وجہ سے نشان کبھی سبز، کبھی نیلا اور کبھی ارغوانی نظر آتا تھا۔ سر سائمن نے مزید کئی بھیس بدلے اور مختلف طریقوں سے خاندان کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی، مگر ہر بار ناکامی اس کا مقدر بنی۔ جڑواں لڑکے مسلسل اس کی شرارتوں کا جواب اپنی شرارتوں سے دیتے رہے۔ آخرکار وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ زمانہ بدل چکا ہے۔ جو کرتب صدیوں تک لوگوں کو خوفزدہ کرتے رہے تھے، اب کسی پر اثر نہیں کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ اس کا غرور ٹوٹ گیا اور اس کی جگہ گہری اداسی نے لے لی۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: خدا کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں

انہی دنوں اس کی نظر اکثر باغ میں کتاب پڑھتی ورجینیا پر پڑی۔ خاندان کے باقی افراد کے برعکس اس نے کبھی اس کا مذاق نہیں اڑایا تھا۔ سر سائمن کو پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید اس وسیع محل میں ایک شخص ایسا بھی ہے جو اسے صرف خوفناک بھوت نہیں بلکہ ایک غم زدہ اور تنہا روح کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔ 
ایک شام ورجینیا محل کے ایک سنسان حصے میں جا پہنچی جہاں اسے کسی کے سسکنے کی آواز سنائی دی۔ دروازہ کھولنے پر اس نے سر سائمن کو ایک پرانی کرسی پر بیٹھا پایا۔ آج وہ خوفناک نہیں بلکہ بے حد تھکا ہوا اور غم زدہ دکھائی دے رہا تھا۔ ورجینیا نے نرمی سے پوچھا، ’’کیا آپ پریشان ہیں ؟‘‘ یہ سوال سن کر سر سائمن حیران رہ گیا، کیونکہ تین سو برس میں پہلی بار کسی نے اس کے خوف کے بجائے اس کے دکھ کو سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ اس نے آہستہ سے کہا، ’’میں بہت تھک گیا ہوں۔ تین سو برس سے اس محل میں بھٹک رہا ہوں۔ لوگ مجھے صرف ایک قاتل کے طور پر جانتے ہیں، مگر میری سزا بہت طویل ہو چکی ہے۔ ‘‘ پھر اس نے ایک قدیم پیش گوئی کا ذکر کیا کہ اگر کوئی پاک دل لڑکی اس کیلئے...... 
......دعا کرے تو اسے ہمیشہ کی بے چینی سے نجات مل سکتی ہے۔ ورجینیا کی آنکھوں میں ہمدردی بھر آئی۔ اس نے پوچھا، ’’اگر میں آپ کی مدد کروں تو؟‘‘ سر سائمن نے جواب دیا، ’’میرے ساتھ ایسی جگہ چلو جہاں زندہ لوگ نہیں جاتے، اور میرے لئے دعا کرو۔ ‘‘ چند لمحے سوچنے کے بعد ورجینیا نے اثبات میں سر ہلایا اور دونوں ایک خفیہ دروازے سے اندر چلے گئے۔ جب رات تک ورجینیا واپس نہ آئی تو پورا محل پریشان ہو گیا۔ ہر کمرہ اور باغ چھان مارا گیا مگر اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔ ادھر وہ سر سائمن کے ساتھ ایک قدیم خفیہ کمرے میں پہنچی، جہاں اس کی باقیات موجود تھیں۔ سر سائمن نے کہا، ’’اتنے برس گزر گئے، کسی نے میرے لئے دعا نہیں کی۔ ‘‘ورجینیا خاموشی سے گھٹنوں کے بل بیٹھی اور دل سے دعا مانگنے لگی۔ چند لمحوں بعد کمرہ نرم روشنی سے بھر گیا۔ سر سائمن کے چہرے سے صدیوں کی بے چینی مٹ گئی۔ اس نے آہستہ سے کہا، ’’تم نے مجھ پر وہ رحم کیا جو کسی نے نہیں کیا۔ خدا تمہیں خوش رکھے۔ ‘‘ 
یہ اس کے آخری الفاظ تھے۔ اسی وقت ورجینیا محل میں واپس آ گئی اور سب کو خفیہ کمرے تک لے گئی، جہاں سر سائمن کی باقیات دریافت ہوئیں۔ چند دن بعد انہیں مذہبی رسومات کے ساتھ دفن کر دیا گیا اور اس دن کے بعد کینٹروِل محل میں کبھی کوئی پراسرار واقعہ پیش نہ آیا۔ 
برسوں بعد ورجینیا کے شوہر نے پوچھا، ’’تم نے اس دن بھوت کے ساتھ کیا دیکھا تھا؟‘‘ 
ورجینیا نے مسکرا کر کہا، ’’وہ ایک راز ہے۔ ‘‘ پھر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی، ’’البتہ اس نے مجھے یہ ضرور سکھایا کہ سچی ہمدردی اور معافی وہ طاقت ہیں جو صدیوں پرانے اندھیروں کو بھی روشنی میں بدل سکتی ہیں۔ ‘‘ یوں کینٹروِل محل کی خوفناک داستان رحم، ندامت اور معافی کی علامت بن گئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK