Inquilab Logo Happiest Places to Work

خدا کے حضور سب برابر ہیں: مندروں میں وی آئی پی درشن پر مدراس ہائی کورٹ کا بیان

Updated: May 30, 2026, 9:05 PM IST | Chennai

مدراس ہائی کورٹ نےمندروں میں وی آئی پی درشن پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ خدا کے حضور سب برابر ہیں، ساتھ ہی پوچھا کہ معززین کے لیے خصوصی رسائی کی کیا ضرورت ہے۔

Photo: PTI.
تصویر: پی ٹی آئی

مدراس ہائی کورٹ نے جمعہ کو مندروں میں وی آئی پی شخصیات کے ساتھ خصوصی سلوک پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خدا کے نزدیک سب برابر ہیں، اور اس بات پر سوال اٹھایا کہ معززین کے لیے خصوصی رسائی کی کیا ضرورت ہے۔جسٹس جی آرسوامی ناتھن اور جسٹس وی لکشمی نارائنن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ زبانی مشاہدات ایک درخواست کی سماعت کے دوران کیے جس میں ریاست کے ہندو مذہبی اور خیراتی اداروں (HR&CE) کے زیر انتظام مندروں میں وی آئی پی اور خصوصی درشن کی سہولت ختم کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔بنچ نے مندروں میں وی آئی پی درشن کے عمل پر سوال کرتے ہوئے کہا کہ تمام عقیدت مند خدا کے نزدیک برابر ہیں، اور وزراء اور دیگر معززین کے لیے خصوصی رسائی عام عبادت گزاروں کے لیے پریشانی کا باعث نہیں بننی چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: کیرالا وندے ماترم تنازع پر وزیراعلیٰ کی وضاحت: مکمل قومی گیت پیش کرنا لازمی نہیں

بعد ازاں ہائی کورٹ نے کہا، ’’ایسا نہ ہو کہ وزراء اور ایم ایل اے یہ سمجھیں کہ وہ کسی بھی وقت مندر میں داخل ہو سکتے ہیں اور خدا ان کا انتظار کر رہا ہوگا۔ ہمیں وی آئی پی درشن کی کیا ضرورت ہے؟ خدا کے نزدیک سب برابر ہیں۔‘‘تاہم ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پی وی بالاسبرامنیم نے بتایا کہ یہ عمل قطاروں کو کم کرنے کے لیے اپنایا جا رہا ہے اور اس سے مندروں کو خاطر خواہ آمدنی بھی ہوتی ہے۔ تاہم اے اے جی نے،وزیر سی ٹی آر نمل کمار کے حالیہ دورے کے دوران تھریپرنکنڈرم کے سبرامنیا سوامی مندر کو دیر سے بند کرنے کے الزامات کی تردید کی۔
دریں اثناءریاست نے اس معاملے پر رپورٹ پیش کی اور جوابی حلف نامہ جمع کروانے کے لیے اضافی وقت طلب کیا۔ عدالت نے درخواست قبول کرتے ہوئے معاملہ چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا۔واضح رہے کہ یہ درخواست وشو ہندو پریشد کی شمالی تامل ناڈو اکائی کے صدر پی چوکالنگم نے دائر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سناتن دھرم دولت، سماجی حیثیت یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی اجازت نہیں دیتا، تمام عقیدت مندوں کے ساتھ مساوی سلوک ہونا چاہیے۔درخواست کے مطابق نہ ہندو مذہبی روایت اور نہ ہی HR&CE ایکٹ اضافی ادائیگی کے بدلے خصوصی درشن کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ درخواست گزار نے کہا کہ ترجیحی رسائی کے لیے عقیدت مندوں سے رقم وصول کرنا محصولات پیدا کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ایک عمل ہے جو استحصال کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پونے کے مختلف مقامات پر زہریلی شراب پینے سے ۱۵؍ افراد کی موت

درخواست میں مزید کہا گیا کہ خصوصی درشن کا نظام مساوات اور مذہبی آزادی کے آئینی ضمانتوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس میں HR&CE ڈیپارٹمنٹ کے تحت تمام مندروں کو بزرگ شہریوں اور معذور افراد کے لیے وہیل چیئر فراہم کرنے کی ہدایت دینے کی بھی استدعا کی گئی۔تاہم درخواست گزار نے بعض زمروں کے لیے استثنیٰ طلب کیا، جن میں بزرگ شہری، معذور افراد، حاملہ خواتین، نوبیاہتا جوڑے، مندر کے فرائض انجام دینے والے فنکار، سربراہانِ مملکت اور آئینی عہدیدار شامل ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK