Inquilab Logo Happiest Places to Work

جمہوری ملک میں کاکروچ جنتا پارٹی کی شہرت پر حیران نہیں ہونا چاہئے: آر ایس ایس

Updated: May 30, 2026, 8:02 PM IST | New delhi

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے پہلی مرتبہ سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہونے والی طنزیہ تنظیم ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ (سی جے پی) کے حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوری معاشرے میں مختلف آراء، تنقید اور مباحثے ایک فطری عمل ہیں اور انہیں غیرمعمولی یا چونکا دینے والا نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ آر ایس ایس کے پرچار پرمکھ سنیل امبیکر نے کہا کہ ہندوستان کا جمہوری نظام اتنا مضبوط ہے کہ وہ اختلافِ رائے، تنقید اور عوامی اظہار کو اپنے اندر سمو سکتا ہے۔

Photo : X
تصویر: ایکس

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے پہلی بار سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والی طنزیہ تنظیم ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ (سی جے پی) کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت میں مختلف آراء اور عوامی مباحث کو معمول کا حصہ سمجھا جانا چاہیے اور انہیں کسی بحران یا صدمے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ آر ایس ایس کے پرچار پرمکھ سنیل امبیکر نے اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ایک باشعور اور جمہوری معاشرہ ہے جہاں عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا مکمل حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق ملک کا جمہوری ڈھانچہ شفاف انتخابات، آزاد میڈیا اور سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارمز پر مشتمل ہے جہاں مختلف نظریات اور خیالات پر مسلسل بحث ہوتی رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے : پیٹرول کی قلت اور داموں میں اضافے کیخلاف کانگریس کارکنان کا احتجاج

امبیکر نے کہا کہ ’’ہم ایک باشعور معاشرہ ہیں اور جمہوری عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ جمہوریت میں مختلف آراء، مباحثے اور اختلافات فطری ہوتے ہیں۔ انہیں غیرمعمولی یا چونکا دینے والا نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔‘‘ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ نامی طنزیہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم نوجوانوں، خاص طور پر جین زی صارفین کے درمیان غیرمعمولی مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران اس تنظیم نے سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز حاصل کیے ہیں اور بعض پلیٹ فارمز پر اس کی مقبولیت کئی روایتی سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس سے بھی زیادہ دیکھی گئی ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس تنظیم کو لے کر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ جہاں اپوزیشن کے متعدد لیڈروں نے اس کی سرگرمیوں کی حمایت کی ہے، وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بعض لیڈروں نے اس کے مقاصد اور پس منظر پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بعض بیانات میں اس تنظیم کے مبینہ غیر ملکی روابط، خصوصاً پاکستان سے تعلقات کے الزامات بھی لگائے گئے، اگرچہ ان دعوؤں کے حق میں کوئی باضابطہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھئے : آج سے منوج جرنگے کی دوبارہ بھوک ہڑتال، سرکاری وفد منانے میں ناکام

کاکروچ جنتا پارٹی کے ایکس اکاؤنٹ کو حکومت کی جانب سے بلاک کیے جانے کے بعد یہ معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا۔ اس حوالے سے قانونی تنازع بھی جاری ہے اور معاملہ اس وقت دہلی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ سنیل امبیکر نے اس تنازع پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت میں ایسے معاملات سے نمٹنے کے لیے مضبوط ادارے موجود ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتیں، میڈیا اور عدالتی ادارے خود اس نوعیت کے تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ تمام معاملات مکالمے اور جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔ میڈیا آزاد ہے، سیاسی جماعتیں مضبوط ہیں اور ہمارے ادارے کمزور نہیں ہیں۔ وہ ایسے مسائل سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘
نوجوان نسل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امبیکر نے کہا کہ آر ایس ایس کو ہندوستان کے نوجوانوں پر مکمل اعتماد ہے۔ ان کے مطابق آج کا نوجوان ملک کے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہے اور قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہماری جمہوریت مضبوط ہے اور اس میں ہر آواز کو شامل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ جین زی کو ملک پر اعتماد ہے اور آر ایس ایس کو بھی نوجوان نسل پر مکمل بھروسہ ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے : طلبہ کے سنگین مسائل کی اصل وجہ بدترین بدعنوانی

کاکروچ جنتا پارٹی کی بنیاد سماجی کارکن اور ڈجیٹل مواد تخلیق کرنے والے Abhijeet Dipke نے رکھی تھی۔ حالیہ مہینوں میں اس پلیٹ فارم کو اپوزیشن کے متعدد لیڈروں کی حمایت حاصل ہوئی ہے، جن میں مہوا موئترا، کیرتی آزاد اور اکھلیش یادو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فلمی دنیا اور اسٹینڈ اپ کامیڈی سے وابستہ کئی معروف شخصیات بھی کھل کر اس تنظیم کے حق میں اظہارِ خیال کر چکی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کا ابھرنا اس بات کی علامت ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں سیاسی طنز، مزاح اور متبادل اظہارِ رائے نوجوان نسل کے درمیان نئی سیاسی اور سماجی بحثوں کو جنم دے رہے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسی سرگرمیوں کو شفافیت، جوابدہی اور قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے تاکہ اظہارِ رائے اور ذمہ داری کے درمیان توازن برقرار رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK