Updated: May 30, 2026, 8:01 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اداکار ورون دھون نے اپنی شخصیت کے حقوق (Personality Rights) کے تحفظ کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اداکار نے الزام عائد کیا کہ ان کے نام، تصویر، آواز اور ڈجیٹل شناخت کو ان کی اجازت کے بغیر مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر تجارتی اور استحصالی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ورون دھون۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ اداکار ورون دھون نے اپنی شناخت اور شخصیت کے حقوق کے تحفظ کے لیے دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ اداکار نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان کے نام، تصویر، آواز اور دیگر ذاتی خصوصیات کو ان کی رضامندی کے بغیر تجارتی یا استحصالی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے روکا جائے۔ اطلاعات کے مطابق ۲۹؍ مئی کو دائر کی گئی درخواست میں ورون دھون نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی شناخت کو مختلف ڈجیٹل پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا سائٹس اور آن لائن مواد میں غیر مجاز طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ان کے قانونی حقوق متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے : عالیہ بھٹ ’’الفا‘‘ میں پیشہ ور قاتل کا کردار ادا کررہی ہیں
معاملے کی سماعت دہلی ہائی کورٹ میں جسٹس جیوتی سنگھ کی سنگل جج بنچ نے کی۔ ابتدائی سماعت کے دوران عدالت نے اداکار کے حق میں عبوری حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ پلیٹ فارمز کو ہدایت دی کہ وہ ورون دھون سے متعلق خلاف ورزی کرنے والے مواد کو فوری طور پر ہٹائیں۔ عدالتی حکم کے مطابق انٹرنیٹ پر موجود ایسے مواد کو ہٹایا جائے گا جس میں اداکار کی شناخت کو غیر مجاز طور پر استعمال کیا گیا ہو۔ اس میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ڈیپ فیک ویڈیوز، جعلی اشتہارات، غیر اخلاقی یا قابل اعتراض مواد، تجارتی مصنوعات اور دیگر ایسے ڈجیٹل مواد شامل ہیں جو ورون دھون کی اجازت کے بغیر ان سے منسوب کیے جا رہے ہیں۔
ورون دھون کی جانب سے سینئر وکیل سندیپ سیٹھی نے عدالت میں مؤقف پیش کیا۔ درخواست میں مبینہ طور پر متعدد ویب لنکس اور آن لائن پلیٹ فارمز کی نشاندہی کی گئی جہاں اداکار کی شخصیت اور شناخت کا غیر مجاز استعمال سامنے آیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق عبوری حکم کسی مقدمے کے حتمی فیصلے سے پہلے جاری کیا جانے والا ایک عارضی عدالتی حکم ہوتا ہے، جس کا مقصد فریقین کے حقوق کا تحفظ اور ممکنہ نقصان کو روکنا ہوتا ہے۔ ایسے معاملات میں عدالتیں عموماً اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہیں کہ مقدمے کے حتمی فیصلے تک متاثرہ فریق کو ناقابلِ تلافی نقصان نہ پہنچے۔
یہ بھی پڑھئے : شویتا ترپاٹھی نے کہا: علی فضل اور نمرت کور کی ترقی دیکھ کر فخر ہوتاہے
یاد رہے کہ ورون دھون اس نوعیت کا مقدمہ دائر کرنے والے پہلے ہندوستانی اداکار نہیں ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں مصنوعی ذہانت، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث متعدد معروف شخصیات نے اپنے تشہیری اور شخصی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا ہے۔ گزشتہ سال ایشوریہ رائے بچن نے بھی اپنی شخصیت اور تشہیری حقوق کے تحفظ کے لیے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ اس سے قبل امیتابھ بچن کو بھی عدالت کی جانب سے ان کے نام، آواز، تصویر اور شخصیت کے غیر مجاز استعمال کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کیا جا چکا ہے۔
اسی طرح سلمان خان، جونیئر این ٹی آر، آد مادھون اور راما راؤ سمیت متعدد فلمی ستارے بھی اپنے شخصی حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی کارروائی کر چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے نہ صرف عام افراد بلکہ عوامی شخصیات کے لیے بھی نئے قانونی اور اخلاقی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ اب کسی بھی شخص کی تصویر، آواز یا ویڈیو کو مصنوعی طریقے سے تبدیل کر کے ایسا مواد تیار کیا جا سکتا ہے جو بظاہر حقیقی محسوس ہوتا ہے، جس سے غلط معلومات، مالی فراڈ اور ساکھ کو نقصان پہنچنے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : اسٹیون اسپیلبرگ کی یو ایف او تھریلر ’’ڈسکلوزر ڈے‘‘ کا ٹریلر جاری
ورون دھون کی قانونی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وہ اپنی آنے والی رومانوی کامیڈی فلم ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ کی ریلیز کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ فلم کی ہدایت کاری ان کے والد ڈیوڈ دھون نے کی ہے اور اس میں ورون دھون کے ساتھ مرنال ٹھاکر اور پوجا ہیگڑے بھی اہم کرداروں میں نظر آئیں گی۔ فلم ۵؍ جون کو سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی ہے، تاہم ریلیز سے قبل اداکار کی جانب سے اپنے شخصی حقوق کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا یہ قانونی قدم فلمی اور قانونی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔