معروف روسی ادیب نکولائی گوگول کی شہرہ آفاق کہانی’’دی اوور کوٹ ‘‘ The Overcoat کا اردو ترجمہ۔
EPAPER
Updated: March 20, 2026, 5:48 PM IST | Mumbai
معروف روسی ادیب نکولائی گوگول کی شہرہ آفاق کہانی’’دی اوور کوٹ ‘‘ The Overcoat کا اردو ترجمہ۔
سینٹ پیٹرزبرگ کی سردیوں کا اپنا مزاج ہوتا ہے۔ یہ وہ سردی ہے جو انسان کے جسم سے زیادہ اس کی ہمت کو آزمانے لگتی ہے۔ برف سے ڈھکی ہوئی سڑکیں، یخ ہوا کے تیز جھونکے اور آسمان پر چھایا ہوا مدھم سا اندھیرا؛ یہ تمام چیزیں مل کر شہر کو ایک سنجیدہ اور خاموش فضا میں لپیٹ لیتی ہیں۔ یہ شہر اپنے محلات اور چوڑی سڑکوں کیلئے جتنا مشہور ہے، اتنا ہی اپنے گمنام لوگوں کیلئے بھی ہے۔ ان گمنام لوگوں میں ایک ایسا آدمی بھی تھا جسے شاید ہی کوئی یاد رکھتا ہو۔ اس کا نام تھا آکاکی آکاکیویچ۔
وہ ایک معمولی کلرک تھا۔ اس کا عہدہ اتنا چھوٹا تھا کہ دفتر کے نئے آنے والے ملازمین کو اکثر یہ معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ کب آیا اور کب چلا گیا۔ اس کا کام نہایت سادہ تھا۔ وہ سرکاری دستاویزات کی نقل تیار کرتا تھا۔ مگر اگر کسی نے کبھی غور سے دیکھا ہوتا تو وہ سمجھ سکتا تھا کہ آکاکی آکاکیویچ کیلئے یہ کام صرف ایک ملازمت نہیں تھا۔ یہ اس کی زندگی تھی۔
جب وہ قلم کو سیاہی میں ڈبو کر سفید کاغذ پر جھک جاتا تو اس کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی آ جاتی۔ وہ ہر حرف کو اس طرح لکھتا جیسے کسی قیمتی نقش کو تراش رہا ہو۔ جب کوئی جملہ نہایت صاف اور درست انداز میں مکمل ہو جاتا تو اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوتی۔ گویا یہی اس کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہو۔ مگر دفتر کے دوسرے ملازمین اس بات کو نہیں سمجھتے تھے۔ ان کیلئے وہ صرف مذاق کا موضوع تھا۔
کوئی اس کے سر پر کاغذ کے ٹکڑے پھینک دیتا۔ کوئی اس کے لکھے ہوئے جملوں میں بے وجہ غلطی نکال کر ہنسنے لگتا۔ کبھی کوئی اس کے کان کے پاس جھک کر زور سے کھانسنے لگتا تاکہ وہ چونک جائے۔ ایک بار ایک نوجوان کلرک نے اس کے پیچھے کھڑے ہو کر کہا، ’’آکا کی آکاکیویچ، آپ کی شادی کب ہو رہی ہے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بھوکے پتھر
دفتر میں قہقہہ گونج اٹھا۔
آکاکی آکاکیویچ نے سر اٹھایا، حیرانی سے سب کو دیکھا، اور پھر آہستہ سے کہا، ’’براہِ مہربانی… مجھے کام کرنے دیجئے۔ ‘‘ اس کے لہجے میں ایسی عاجزی تھی کہ ایک لمحے کیلئے سب خاموش ہو گئے۔
پھر کسی نے موضوع بدل دیا۔
آکاکی آکاکیویچ کی زندگی انتہائی سادہ تھی۔ صبح وہ جلدی اٹھتا، معمولی سا ناشتہ کرتا اور دفتر چلا جاتا۔ شام کو واپس آ کر وہ اکثر وہی دستاویزات دوبارہ نقل کرنے لگتا جنہیں وہ دن میں لکھ چکا ہوتا تھا۔ یہ کام اس کیلئے محض ذمہ داری نہیں تھا بلکہ ایک طرح کی خوشی تھا۔
کچھ لوگ موسیقی سے محبت کرتے ہیں، کچھ لوگ سفر سے، اور کچھ لوگ شہرت کے خواب دیکھتے ہیں۔ مگر آکاکی آکاکیویچ کیلئے خوشی صرف ایک چیز تھی، صاف اور درست تحریر۔ مگر سینٹ پیٹرزبرگ کی سردی کسی کے شوق کو نہیں دیکھتی۔ وہ ہر انسان کو اپنی شدت کا احساس کرا دیتی ہے۔ آکاکی آکاکیویچ کے پاس ایک پرانا اوورکوٹ تھا۔ یہ کوٹ کئی برسوں سے اس کے ساتھ تھا۔ مگر اب وہ کوٹ کمبل سے زیادہ ایک یادگار بن چکا تھا۔
اس کے کندھے گھس چکے تھے۔ آستینیں پتلی ہو چکی تھیں۔ اور کپڑا کئی جگہ سے پھٹ چکا تھا۔
دفتر کے ملازمین اس کوٹ کو دیکھ کر ہنستے اور اسے ’’چغہ‘‘ کہہ کر پکارتے۔ ایک دن جب وہ دفتر جا رہا تھا تو تیز ہوا کے جھونکے نے اس کے کوٹ کو اس طرح ہلایا کہ اسے اچانک احساس ہوا کہ یہ کوٹ اب واقعی ختم ہو چکا ہے۔ اسی دن وہ شہر کے ایک درزی کے پاس گیا۔ اس درزی کا نام تھا پیٹرووچ۔
پیٹرووچ ایک عجیب آدمی تھا۔ اس کی ایک آنکھ ہمیشہ آدھی بند رہتی تھی اور وہ کبھی کبھی اپنے گاہکوں سے اس طرح بات کرتا جیسے وہ کسی بڑی عدالت میں فیصلہ سنا رہا ہو۔ آکاکی آکاکیویچ نے اپنا پرانا کوٹ اس کے سامنے رکھا۔ پیٹرووچ نے اسے غور سے دیکھا۔ پھر اسے الٹ پلٹ کر پرکھا۔ پھر سر ہلا دیا۔
’’یہ ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ ‘‘
آکاکی آکاکیویچ گھبرا گیا۔ ’’کیوں ؟‘‘
پیٹرووچ نے سنجیدگی سے کہا، ’’اس میں اب کپڑا ہی نہیں بچا جسے سی کر ٹھیک کیا جا سکے۔ آپ کو نیا کوٹ بنوانا ہوگا۔ ‘‘ ’’نیا کوٹ؟‘‘ یہ الفاظ آکاکی آکاکیویچ کیلئے کسی دھچکے سے کم نہ تھے۔
مگر سردی بڑھتی جا رہی تھی۔ آخر اس نے فیصلہ کیا۔
وہ نیا کوٹ بنوائے گا۔ اب اس کی زندگی کا مقصد بدل گیا۔ وہ پیسے بچانے لگا۔ اس نے چائے پینا چھوڑ دیا۔ رات کو موم بتی کم جلانے لگا۔ کھانے میں کفایت کرنے لگا۔ ہر سکہ جو بچتا وہ احتیاط سے الگ رکھ دیتا۔ کبھی کبھی وہ اپنی جمع شدہ رقم کو میز پر پھیلا کر گنتا اور خاموشی سے مسکرا دیتا۔ اسے ایسا لگتا تھا جیسے وہ اپنی زندگی میں پہلی بار کسی بڑے مقصد کیلئے جدوجہد کر رہا ہو۔
کئی مہینوں کے بعد وہ دن آ ہی گیا۔ پیٹرووچ نے نیا اوورکوٹ تیار کر دیا۔ جب آکاکی آکاکیویچ نے پہلی بار وہ کوٹ پہنا تو اسے ایسا لگا جیسے اس کی زندگی بدل گئی ہو۔ کوٹ گرم تھا۔ نیا تھا۔ اور اس پر تازہ کپڑے کی خوشبو تھی۔ جب وہ دفتر پہنچا تو سب کی نظریں اس پر ٹھہر گئیں۔ ’’ارے! آکاکی آکاکیویچ کا نیا کوٹ!‘‘
دفتر میں پہلی بار اس کی موجودگی کو اہمیت ملی۔
ایک ساتھی نے ہنستے ہوئے کہا، ’’اس خوشی میں تو جشن ہونا چاہئے!‘‘ اسی شام ایک ملازم نے سب کو چائے پر بلایا گیا۔ آکاکی آکاکیویچ خاموش بیٹھا رہا مگر اس کے دل میں ایک عجیب سی خوشی تھی۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کی زندگی میں پہلی بار کوئی روشنی آئی ہے۔
رات کو جب وہ گھر واپس جا رہا تھا تو شہر کی سڑکیں تقریباً سنسان تھیں۔ برف آہستہ آہستہ گر رہی تھی۔ وہ اپنے نئے کوٹ کو مضبوطی سے لپیٹے چل رہا تھا۔ مگر اچانک ایک سنسان گلی میں دو آدمی اس کے سامنے آ گئے۔ انہوں نے اسے روکا۔
’’اوورکوٹ اتار دو۔ ‘‘
آکاکی آکاکیویچ گھبرا گیا۔ ’’یہ میرا ہے…‘‘
مگر انہوں نے اس کی بات سنے بغیر کوٹ چھین لیا اور اندھیرے میں غائب ہو گئے۔
وہ سڑک پر کھڑا رہ گیا۔ سرد ہوا دوبارہ اس کے جسم سے ٹکرا رہی تھی۔ اگلے دن وہ پولیس کے پاس گیا۔ اس نے رپورٹ لکھوانے کی کوشش کی مگر اس کی بات نہیں سنی گئی۔ پھر وہ ایک بڑے افسر کے پاس گیا۔ مگر وہاں بھی اس کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: راشومون
ایک افسر نے اسے ڈانٹ دیا۔
’’تم جیسے معمولی کلرک کو سیدھا میرے پاس آنے کی جرات کیسے ہوئی؟‘‘
یہ الفاظ آکاکی آکاکیویچ کیلئے کسی ضرب سے کم نہ تھے۔ وہ خاموشی سے لوٹ آیا۔
اگلے دن وہ پھر پولیس اسٹیشن گیا۔
اسے دن بھر بٹھا کر رکھا گیا لیکن اس کی بات نہیں سنی گئی۔ آنے جانے والے پولیس اہلکار اس کا مذاق اڑا کر آگے بڑھ جاتے، اور وہ اس امید میں خاموشی سے بیٹھا رہا کہ شاید کوئی افسر اس کے گمشدہ اوورکوٹ کے بارے میں اس کی شکایت سن لے، اور پھر اسے تلاش کرنے کی کوشش کرے۔
جب اندھیرا پھیلنے لگا تو وہ اداس گھر لوٹ آیا۔
چند دن بعد وہ شدید بیمار پڑ گیا۔ بخار میں وہ بار بار ایک ہی بات دہراتا: ’’میرا اوورکوٹ…‘‘
اس کی دیکھ بھال کیلئے کوئی نہیں تھا۔ دفتر میں اس کی اتنی اہمیت نہیں تھی کہ لوگ خیریت دریافت کرنے اس کے گھر آتے۔ وہ کئی دنوں تک بستر پڑ پڑا رہا ہے۔
اور پھر ایک رات خاموشی سے مر گیا۔
مگر پھر سینٹ پیٹرزبرگ کے لوگوں نے کچھ عجیب خبریں سننا شروع کیں۔ کہا جانے لگا کہ رات کو ایک سایہ سڑکوں پر گھومتا ہے۔ وہ لوگوں کے کوٹ چھین لیتا ہے۔ اور جب کوئی اس کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ایک معمولی کلرک کا چہرہ نظر آتا ہے۔
شہر کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے اندھیرے میں سڑکوں پر نکلنا بند کردیا۔ اگر نکلتے بھی تو اس قدر چوکس ہوتے کہ ہلکی سی آواز پر بھی اپنی منزل کی جانب دوڑ لگا دیتے تھے۔
لوگ کہتے تھے کہ وہ آکاکی آکاکیویچ کی روح ہے۔ وہ اپنا کھویا ہوا اوورکوٹ ڈھونڈ رہی ہے۔
ایک رات شہر کا ایک بڑا افسر بھی اس سایے کا شکار ہو گیا۔ اس کا کوٹ اچانک کسی نے کھینچا۔
وہ جب خوف کے عالم میں مڑا تو اسے ایک مدھم سا چہرہ دکھائی دیا۔ ایک ایسا چہرہ جو اسے کہیں دیکھا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے ذہن پر زور ڈالنے کی کوشش کی تو اسے پولیس اسٹیشن میں بیٹھا معمولی سے کلرک یاد آگیا۔
سایے کی شعلے جیسی آنکھیں افسر کو گھور رہی تھیں۔ افسر خوف سے کپکپا رہا تھا۔ اس کی ساری اکڑ ختم ہوچکی تھی۔ سایے نے افسر سے کوٹ چھینا اور خاموشی سے برف میں غائب ہو گیا۔
افسر سڑک کے کنارے پڑا تھا۔ اس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ وہ اٹھ کر اپنے گھر کی جانب بڑھ سکے۔ وہ خوف اور سری سے کانپ رہا تھا۔
اہم بات یہ تھی کہ اس واقعے کے بعد اس سایے کو کبھی نہیں دیکھا گیا۔ شہر میں یہ افواہ پھیل گئی کہ وہ روح آخرکار اپنا بدلہ لے چکی ہے۔ اور اس کے بعد وہ سایہ دوبارہ کبھی نظر نہیں آیا۔ مگر سینٹ پیٹرزبرگ کی سرد راتوں میں آج بھی لوگ کہتے ہیں کہ اس شہر کی سڑکوں پر صرف زندہ لوگ نہیں چلتے۔ کچھ سایے بھی ہوتے ہیں۔
ان لوگوں کے سایے جن کی زندگی میں کوئی بڑا خواب نہیں تھا۔ صرف ایک چھوٹا سا اوورکوٹ تھا۔ اور کبھی کبھی انسان کی پوری زندگی اسی ایک چھوٹی سی خواہش میں سمٹ جاتی ہے۔