Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایثار ایک مہذب اور کامیاب معاشرہ کی بنیاد ہے

Updated: May 25, 2026, 2:30 PM IST | Ansari Asifa Badruzzaman | Mumbai

بچپن ہی سے بچوں کو ایثار، محبت اور انسانیت کی تعلیم دی جائے۔ اساتذہ اور والدین اپنے عمل سے بچوں کیلئے بہترین مثال قائم کریں تاکہ ان کے کردار میں ہمدردی اور قربانی پیدا ہو۔

By being helpful to others and having compassion for others in our hearts, a spirit of selflessness can be created in society. Photo: INN
دوسروں کے کام آنے اور دلوں میں دوسروں کیلئے ہمدردی رکھنے سے معاشرہ میں ایثار کا جذبہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

موجودہ دور میں مادہ پرستی، خود غرضی اور تیز رفتار زندگی نے معاشرہ سے ایثار کے جذبے کو کمزور کر دیا ہے۔ لوگ دوسروں کے دکھ درد سے بے پروا ہوتے جا رہے ہیں، جس کے باعث معاشرتی رشتوں میں دوریاں، بے حسی اور نفرتیں بڑھ رہی ہیں۔ اگر اس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہو سکتا ہے۔

جذبۂ ایثار کی کمی کے اسباب

مادہ پرستی اور دولت کی دوڑ:

آج کے دور میں انسان دولت جمع کرنے کو ہی کامیابی سمجھ بیٹھا ہے۔ اس دوڑ نے انسان کو اتنا مصروف کر دیا ہے کہ وہ دوسروں کی ضروریات اور احساسات کو نظر انداز کرنے لگا ہے۔ معاشرے میں نمود و نمائش اور پرتعیش زندگی کی خواہش بھی ایثار کے جذبے کو کمزور کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کھانا پکانا آسان مگر اسے سلیقہ شعاری سے پیش کرنا مشکل

خود غرضی اور انفرادیت پسندی:

لوگ اب اجتماعی فائدے کے بجائے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ رشتوں میں خلوص اور قربانی کا جذبہ کم ہوتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے معاشرتی اتحاد متاثر ہو رہا ہے۔ انسان صرف اپنی آسائش اور سکون کے بارے میں سوچنے لگا ہے۔

دینی اور اخلاقی تعلیمات سے دوری:

اخلاقی اقدار کو نظر انداز کرنے کے باعث معاشرے میں بے حسی بڑھتی جا رہی ہے۔ نئی نسل کو اگر دینی اور اخلاقی تعلیمات سے روشناس نہ کرایا جائے تو وہ ایثار اور قربانی جیسی اعلیٰ صفات سے محروم رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرتی روابط کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ ’خود پسندی‘ کے جذبے نے نئی نسل کو خود غرض بنا دیا ہے۔

خاندانی نظام کی کمزوری:

مشترکہ خاندان محبت، برداشت اور قربانی کا بہترین مرکز ہوتے تھے، مگر اب لوگ الگ تھلگ زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس تبدیلی نے ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹنے کے جذبے کو کم کر دیا ہے۔ گھروں میں بزرگوں کے تجربات اور تربیت سے محرومی بھی ایک اہم سبب ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آپ کی جلد کی خوبصورتی کیلئے میک اپ سے زیادہ مناسب اور متوازن غذا ضروری ہے

سوشل میڈیا اور جدید طرزِ زندگی:

سوشل میڈیا نے اگرچہ دنیا کو قریب کیا ہے، مگر دلوں کے فاصلے بڑھا دیئے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے ملنے جلنے کے بجائے موبائل اور انٹرنیٹ میں مصروف رہنے لگے ہیں۔ اس وجہ سے انسان دوسروں کے حالات اور احساسات سے بے خبر ہو رہا ہے۔

معاشی مسائل اور بے روزگاری:

معاشی پریشانیاں انسان کو ذہنی دباؤ اور مایوسی میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ جب انسان خود مشکلات کا شکار ہو تو اس کے اندر دوسروں کی مدد اور ایثار کا جذبہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے معاشرتی بے چینی میں اضافہ کر دیا ہے۔

جذبۂ ایثار کی کمی کے حل

دینی اور اخلاقی تربیت:

بچپن ہی سے بچوں کو ایثار، محبت اور انسانیت کی تعلیم دی جائے۔ اساتذہ اور والدین اپنے عمل سے بچوں کے لئے بہترین مثال قائم کریں تاکہ ان کے کردار میں ہمدردی اور قربانی پیدا ہو۔

اسلامی تعلیمات پر عمل:

اسلام نے بھائی چارے، سخاوت اور خدمت ِ خلق کی بڑی تاکید کی ہے۔ سیرتِ نبویؐ اور صحابۂ کرامؓ کی زندگیوں کو اپنا لینے پر معاشرے میں محبت اور ایثار کا جذبہ دوبارہ زندہ ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گرمیوں میں بہتر صحت کے لئے پانچ بہترین عادتیں

خاندانی نظام کو مضبوط بنانا:

گھروں میں احترام اور تعاون کی فضا قائم کی جائے۔ خاندان کے افراد ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھیں اور مشکل وقت میں ساتھ دیں تاکہ محبت اور قربانی کا جذبہ فروغ پائے۔

فلاحی سرگرمیوں کو فروغ دینا:

معاشرے میں رفاہی اداروں اور خدمت ِ خلق کے کاموں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ نوجوانوں کو سماجی خدمت اور غریبوں کی مدد کے پروگراموں میں شامل کیا جائے تاکہ ان میں ایثار کا جذبہ پیدا ہو۔

میڈیا کا مثبت کردار:

میڈیا معاشرہ کی سوچ بدلنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے ڈرامے، پروگرام اور مہمات پیش کی جائیں جو انسانیت، بھائی چارے اور دوسروں کی مدد کے جذبے کو فروغ دیں۔ منفی اور خود غرضی پر مبنی مواد سے اجتناب ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بچوں کو مطمئن، پُرسکون اور بااعتماد بنانے کی ضرورت

نوجوانوں میں شعور بیدار کرنا:

نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر ان کے دلوں میں خدمت ِ خلق اور ایثار کا جذبہ پیدا کیا جائے تو معاشرہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں اخلاقی تربیت کو لازمی حصہ بنایا جانا چاہئے۔

ایثار ایک مہذب اور کامیاب معاشرہ کی بنیاد ہے۔ جب انسان دوسروں کیلئے جیتا ہے تو معاشرہ میں محبت، امن اور بھائی چارہ فروغ پاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں ایثار، ہمدردی اور خدمت ِ خلق کو اپنائیں تاکہ ایک خوشحال، متحد اور پُرامن معاشرہ وجود میں آسکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK