• Sun, 27 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: نیلی صلیب

Updated: September 27, 2026, 5:13 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

معروف انگریز مصنف جی کے چیسٹرٹن کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی بلیو کراس‘‘ The Blue Crossکا اردو ترجمہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

صبح ہارویچ کی بندرگاہ پر ایک کشتی آ کر رُکی۔ مسافر جلدی جلدی اترنے لگے مگر ان میں ایک شخص سب سے مختلف تھا۔ ہلکی سرمئی جیکٹ، سفید واسکٹ، سرمئی نیلے فیتے والی بھوسے کی ٹوپی اور چھوٹی سیاہ ڈاڑھی اسے کسی پرانے ہسپانوی رئیس جیسا بناتی تھی۔ اس کی جیکٹ میں ریوالور اور واسکٹ کے نیچے پولیس کا شناختی کارڈ موجود تھا۔ یہ آریستیڈ والینٹن تھا، پیرس پولیس کا سربراہ اور یورپ کے مشہور ترین تفتیش کاروں میں سے ایک۔ 
والینٹن برسلز سے لندن ایک خطرناک مجرم فلامبو کی تلاش میں آیا تھا۔ فلامبو غیر معمولی قد، طاقت اور چالاکی رکھنے والا آدمی تھا۔ وہ بھیس بدلنے، لوگوں کو دھوکا دینے اور ایسے منصوبے بنانے میں ماہر تھا جنہیں سمجھنے میں پولیس کو کئی دن لگ جاتے۔ اس بار والینٹن کو شبہ تھا کہ فلامبو لندن میں ہونے والی مذہبی کانفرنس کے دوران ایک قیمتی صلیب چرانا چاہتا ہے۔ نیلے قیمتی پتھروں سے مزین اس صلیب کو نیلی صلیب کہا جاتا تھا اور اس کی حفاظت کیلئے پولیس پہلے ہی چوکس تھی۔ 
بندرگاہ پر والینٹن کی نظر ایک چھوٹے، قدرے بھاری بھرکم پادری پر پڑی جس کے ہاتھ میں کئی پارسل اور ایک بڑی چھتری تھی۔ پادری ایک خاتون سے کہہ رہا تھا کہ اسے اپنے سامان کی حفاظت کرنی ہوگی کیونکہ اس کے پاس اصلی چاندی کی ایک صلیب ہے جس پر نیلے قیمتی پتھر جڑے ہیں۔ والینٹن چونک گیا۔ یہ وہی صلیب تھی جس کی اسے تلاش تھی۔ پادری کا نام فادر براؤن تھا۔ اس کی معصوم شکل دیکھ کر کسی خطرناک منصوبے کا خیال نہیں آتا تھا۔ مگر والینٹن جانتا تھا کہ فلامبو کسی بھی شخص کا بھیس بدل سکتا ہے۔ صرف ایک بات بدلنا اس کیلئے مشکل تھی: اس کا غیر معمولی قد۔ اسی امید پر والینٹن نے فادر براؤن کا پیچھا شروع کر دیا۔ 
ٹرین میں وہ کبھی دوسرے مسافروں کے درمیان کھڑا ہوتا، کبھی کھڑکی کے پاس بیٹھتا اور کبھی اخبار پڑھنے کا بہانہ کرتا۔ وہ پادری کو مسلسل دیکھ رہا تھا، مگر اتنا فاصلہ رکھتا کہ فادر براؤن کو نگرانی کا احساس نہ ہو۔ ٹرین سے اترنے کے بعد پادری ایک چھوٹے قصبے کی طرف چل پڑا اور والینٹن بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔ راستے میں عجیب واقعات ہونے لگے۔ ایک ریستوراں میں فادر براؤن نے نمک مانگا، مگر ویٹر شکر لے آیا۔ اس کے بعد والینٹن نے دیکھا کہ ایک پلیٹ، ایک میز اور ایک دروازے کی جگہ بدل چکی تھی۔ اسے محسوس ہوا کہ یہ سب اتفاق نہیں۔ کوئی جان بوجھ کر ماحول کو بدل رہا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: شہزادی کی سالگرہ

فادر براؤن ایک دکان سے گزرا، پھر ایک گاؤں کے چرچ میں داخل ہوا۔ والینٹن باہر انتظار کرتا رہا۔ پادری نکل کر دوبارہ چل پڑا۔ راستے میں ایک سبزی فروش کے سامنے ٹوکری گر گئی، سبزیاں بکھر گئیں اور لوگوں کی توجہ ادھر ہوگئی۔ ایک مشکوک آدمی بھی پادری کو دیکھ رہا تھا۔ پھر ایک گاڑی گزری اور فادر براؤن اچانک تنگ گلی میں مڑ گیا۔ گلی کے آخر میں ایک چھوٹا مکان تھا۔ فادر براؤن اندر گیا، مگر چند منٹ بعد جب والینٹن نے اندر جھانکا تو مکان خالی تھا۔ پچھلا دروازہ اور کھڑکیاں بند تھیں۔ باغ کی طرف چند قدموں کے نشان ملے۔ والینٹن دیوار پھلانگ کر دوسری طرف پہنچا اور دور پادری کو دوبارہ سڑک پر دیکھ لیا۔ کچھ دیر بعد فادر براؤن ایک بڑے ریستوراں میں داخل ہوا۔ والینٹن بھی دوسری میز پر بیٹھ گیا۔ پادری نے ایسا کھانا مانگا جس میں گوشت نہ ہو۔ پھر کھانا ختم کرکے وہ ایک چھوٹی گلی میں مڑ گیا۔ چند قدم بعد وہ پھر غائب تھا۔ والینٹن نے چاروں طرف دیکھا، مگر کوئی ایسا راستہ نہیں تھا جہاں سے وہ اتنی جلدی نکل سکتا۔ اچانک دور اسے سفید ٹوپی دکھائی دی۔ فادر براؤن پھر سڑک پر چل رہا تھا۔ 
اسی دوران اسے ایک غیر معمولی طور پر لمبا آدمی دکھائی دیا۔ ایک لمحے کیلئے اسے یقین ہوا کہ یہی فلامبو ہے، مگر وہ گاڑی کے پیچھے غائب ہوگیا۔ والینٹن وہاں پہنچا تو کوئی نہ تھا۔ اب اسے یقین تھا کہ فلامبو قریب ہے اور جان بوجھ کر اس کی توجہ دوسری طرف کر رہا ہے۔ فادر براؤن نے راستے میں ایک اخبار خریدا۔ اخبار میں فلامبو کے جرائم کی خبر تھی، مگر پادری نے کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ آگے ایک باغ میں اس نے بوڑھے مالی سے بات کی اور جیب سے ایک چھوٹی چیز نکال کر دکھائی۔ والینٹن کو لگا شاید وہ نیلی صلیب ہے۔ اسی وقت شیشہ ٹوٹنے کی آواز آئی۔ والینٹن نے ایک لمحے کیلئے رخ موڑا اور پادری پھر غائب ہوگیا۔ آخرکار فادر براؤن ایک پرانی سرائے میں پہنچا اور کمرہ لے لیا۔ والینٹن نے بھی وہیں کمرہ حاصل کیا۔ کچھ دیر بعد اوپر سے بھاری قدموں کی آواز آئی۔ وہ دوڑ کر گیا، مگر کمرہ خالی تھا۔ وہاں صرف پادری کے پارسل، چھتری، مذہبی کتابچہ اور لکڑی کا ڈبہ تھا۔ ڈبہ کھولا تو اس میں صرف عام مذہبی اشیا نکلیں۔ والینٹن نے چھتری کو دیکھا۔ فادر براؤن اسے ہر جگہ ساتھ رکھتا تھا اور وہ غیر معمولی طور پر بڑی بھی تھی۔ مگر چھتری کمرے میں موجود نہیں تھی۔ باہر نکل کر والینٹن نے فادر براؤن کو دوبارہ دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں وہی چھتری تھی، اور اس کے پیچھے ایک بہت لمبا آدمی چل رہا تھا۔ والینٹن نے دونوں کا پیچھا کیا۔ ایک پرانے مکان کے سامنے فادر براؤن رک گیا۔ لمبا آدمی کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔ والینٹن نے غور سے دیکھا اور پہلی بار اسے یقین ہوگیا کہ یہ فلامبو ہی ہے۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ فلامبو مسکرایا، پھر پلٹا اور تیزی سے چل پڑا۔ والینٹن اس کے پیچھے دوڑا، مگر وہ گلی کے موڑ پر غائب ہوگیا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: دھاگے کا ٹکڑا

والینٹن واپس فادر براؤن کے پاس آیا۔ اس نے پوچھا کہ وہ یہاں کیا کر رہا ہے۔ پادری نے سادگی سے جواب دیا کہ وہ ایک دوست سے ملنے آیا ہے۔ جب والینٹن نے لمبے آدمی کا ذکر کیا تو فادر براؤن نے کہا کہ وہ اسے نہیں جانتا۔ پھر پادری نے اپنی چھتری زمین پر رکھی۔ والینٹن نے اسے کھولا، الٹ پلٹ کر دیکھا، مگر اندر کچھ نہ تھا۔ فادر براؤن خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ کچھ دیر بعد وہ ایک مکان میں داخل ہوا اور وہاں سے ایک چھوٹا صندوق لے آیا۔ صندوق میں ایک معمولی صلیب تھی، مگر نیلی صلیب نہیں۔ والینٹن کو احساس ہوا کہ اسے بار بار غلط سمت میں لے جایا جا رہا ہے۔ اس نے پہلی بار سوچا کہ شاید فادر براؤن خود فلامبو نہیں بلکہ اصل مجرم کسی اور روپ میں کہیں موجود ہے۔ 
اسی وقت فادر براؤن نے والینٹن کی طرف دیکھا اور کہا، ’’آپ کافی دیر سے میرے پیچھے آ رہے ہیں۔ ‘‘ 
والینٹن نے حیرت سے اسے دیکھا۔ پادری نے بتایا کہ اسے معلوم تھا کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ پھر اس نے ایک اہم بات کہی: ’’میں بھی کسی کا پیچھا کر رہا ہوں۔ ‘‘
والینٹن نے پوچھا، ’’کس کا؟‘‘ 
فادر براؤن نے جواب نہ دیا۔ اس نے سڑک کی طرف دیکھا۔ دور ایک کھڑکی کے پردے کے پیچھے ایک بہت لمبے شخص کا سایہ نمودار ہوا اور فوراً غائب ہوگیا۔ اب دونوں سمجھ چکے تھے کہ فلامبو قریب ہے۔ فادر براؤن نے والینٹن کو بتایا کہ راستے میں ہونے والی عجیب تبدیلیاں اتفاق نہیں تھیں۔ کسی نے لوگوں کو الجھایا، جگہوں کی ترتیب بدلی اور ایسے واقعات پیدا کئے تاکہ ان دونوں کی توجہ اصل مقصد سے ہٹ جائے۔ پادری کو اندازہ تھا کہ فلامبو اسے ایک خاص سمت میں لے جانا چاہتا ہے، اس لئے اس نے جان بوجھ کر اس کا پیچھا جاری رہنے دیا۔ دونوں ایک نسبتاً سنسان سڑک پر پہنچے جہاں مذہبی اشیا کی ایک چھوٹی دکان تھی۔ وہاں سے نکل کر فادر براؤن ایک بڑے باغ کی طرف گیا۔ باغ کے اندر ایک پرانا مکان تھا۔ پادری نے ایک چھپی ہوئی راہ اختیار کی۔ اچانک انہیں ایک بہت لمبا آدمی دکھائی دیا جو زمین پر کچھ تلاش کر رہا تھا۔ 
والینٹن فوراً سمجھ گیا کہ یہی فلامبو ہے۔ مجرم نے انہیں دیکھا اور بھاگنے لگا۔ والینٹن پوری قوت سے اس کے پیچھے دوڑا۔ کچھ دیر بعد فلامبو دیوار پھلانگنے لگا مگر والینٹن نے اس کا بازو پکڑ لیا۔ دونوں زمین پر گرے اور مختصر جدوجہد کے بعد والینٹن نے فلامبو کو قابو کر لیا۔ فلامبو ہنس کر بولا، ’’آپ نے بہت دیر کر دی، والینٹن۔ ‘‘ والینٹن نے جواب دیا، ’’اس بار نہیں۔ ‘‘ پھر فلامبو نے فادر براؤن کی طرف دیکھا اور اعتراف کیا کہ اس نے پادری کا پیچھا کیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ نیلی صلیب فادر براؤن کے پاس ہے۔ اس نے راستے میں رکاوٹیں پیدا کیں اور لوگوں کی توجہ بھٹکانے کی کوشش کی۔ والینٹن نے پوچھا، ’’تو صلیب کہاں ہے؟‘‘ فلامبو نے مسکرا کر کہا، ’’یہ سوال فادر براؤن سے پوچھئے۔ ‘‘ فادر براؤن نے اپنی چھوٹی چھتری زمین پر رکھی اور کہا، ’’آپ نے راستے بھر میری چھتری دیکھی تھی۔ ‘‘ والینٹن نے کہا، ’’لیکن اس میں کچھ نہیں تھا۔ ‘‘
’’بالکل، ‘‘ پادری نے کہا، ’’کیونکہ صلیب چھتری میں نہیں تھی۔ ‘‘ پھر فادر براؤن نے جیب سے ایک چھوٹا کپڑا نکالا۔ اس میں لپٹی چیز کو کھولا تو نیلے قیمتی پتھروں سے مزین صلیب سامنے تھی۔ فلامبو چند لمحے خاموش رہا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ اتنے راستے ایک ایسی چیز کے پیچھے چلتا رہا جو شروع سے اس کی آنکھوں کے سامنے تھی۔ 
اب حقیقت واضح تھی۔ فلامبو پادری کا پیچھا کر رہا تھا اور پادری جان بوجھ کر اسے اپنے قریب آنے دے رہا تھا۔ راستے میں ہونے والی عجیب تبدیلیاں بھی اسی منصوبے کا حصہ تھیں۔ فلامبو کو لگتا رہا کہ صلیب کسی اور جگہ چھپی ہوئی ہے، جبکہ اصل چیز محفوظ رہی۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: کینٹروِل کا بوڑھا بھوت

فلامبو نے فادر براؤن سے کہا، ’’آپ واقعی خطرناک آدمی ہیں۔ ‘‘
پادری مسکرایا، ’’میں تو صرف ایک پادری ہوں۔ ‘‘ والینٹن ہنس پڑا۔ اس نے سمجھ لیا تھا کہ فادر براؤن کی سادگی ہی اس کی سب سے بڑی طاقت تھی۔ فلامبو اپنے غیر معمولی ذہن، قد اور چالاکی پر بھروسا کرتا رہا، مگر فادر براؤن نے اس کی سوچ کو اسی کے خلاف استعمال کیا۔ فلامبو کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا اور نیلی صلیب محفوظ کر لی گئی۔ بعد میں والینٹن نے فادر براؤن سے پوچھا کہ اسے کیسے معلوم ہوا کہ فلامبو اس کے پیچھے ہے۔ 
پادری نے جواب دیا کہ کسی شخص کے ارادوں کو سمجھنے کیلئے کبھی کبھی اس کے کاموں کو غور سے دیکھنا کافی ہوتا ہے۔ فادر براؤن نے بتایا کہ فلامبو لوگوں کو الجھانے کیلئے جو کچھ کرتا گیا، وہی اس کے خلاف سراغ بنتا گیا۔ وہ اپنی موجودگی چھپانا چاہتا تھا، مگر ہر نئی چال اس کی سوچ ظاہر کر رہی تھی۔ فادر براؤن نے اسے روکنے کے بجائے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ اسے کہاں لے جانا چاہتا ہے۔ والینٹن نے کہا، ’’آپ نے اسے جان بوجھ کر اپنے پیچھے آنے دیا؟‘‘ ’’جی ہاں۔ ‘‘ ’’کیوں ؟‘‘
’’کیونکہ میں چاہتا تھا کہ وہ خود مجھے وہاں لے جائے جہاں اسے یقین ہو کہ وہ محفوظ ہے۔ ‘‘ فلامبو خاموش کھڑا تھا۔ اس نے آخرکار اعتراف کیا کہ اس نے فادر براؤن کو غلط سمجھا تھا۔ پادری نے نرمی سے کہا، ’’آپ نے مجھے نہیں، اپنے غرور کو شکست دی ہے۔ ‘‘
والینٹن نے نیلے صلیب کو دیکھا۔ صبح اب پوری طرح روشن ہو چکی تھی۔ شہر کی سڑکوں پر لوگ اپنے کاموں میں مصروف تھے اور کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اسی شہر میں برسوں سے پولیس کو پریشان کرنے والا مجرم گرفتار ہوچکا ہے۔ فادر براؤن نے اپنی چھتری اٹھائی اور جانے لگا۔ والینٹن نے پوچھا، ’’کیا ہم دوبارہ ملیں گے؟‘‘ پادری نے کچھ نہیں کہا صرف مسکرایا۔ پھر وہ ہجوم میں گم ہوگیا۔ چھوٹا سا قد، سادہ لباس، ہاتھ میں چھتری اور چہرے پر معصوم مسکراہٹ۔ والینٹن جانتا تھا کہ اس دن اس نے صرف ایک خطرناک مجرم کو گرفتار نہیں کیا تھا۔ اس نے ایک ایسے شخص سے ملاقات کی تھی جو ظاہری شکل سے زیادہ انسانی سوچ کو سمجھتا تھا۔ ایک عام پادری، اپنی خاموش ذہانت سے، یورپ کے سب سے چالاک مجرم کو مات دے چکا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK